خونِ فلسطین کی پکار!
قومی آزادی اور خومختیاری کی ہر تحریک کی طرح یہ جدوجہد بھی پورے خطے اور دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی حمایت اور یکجہتی سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔
قومی آزادی اور خومختیاری کی ہر تحریک کی طرح یہ جدوجہد بھی پورے خطے اور دنیا بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی حمایت اور یکجہتی سے ہی آگے بڑھ سکتی ہے۔
سیاسی و سماجی کارکنان، محنت کشوں، طلبہ ، صحافیوں، ٹریڈ یونین رہنماؤں و خواتین سمیت کامریڈ جام ساقی کے رشتہ داروں نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔
حالیہ احتجاجی تحریک کی مزید اہمیت اس حوالے سے بنتی ہے کہ اس میں پشتونوں کے علاوہ دوسری قومیتوں کے عام لوگ بالخصوص نوجوان بھی شریک ہوئے ہیں۔
محکوم عوام کا ایک ہی انقلابی ریلہ مشرق وسطیٰ کے پورے خطے کی تقدیر بدل سکتا ہے۔
یہ ظاہری طور پر پشتونوں کی تحریک دکھائی دیتی ہے لیکن اس تحریک کے سرخیل کارکنان خطے کی تمام مظلوم قومیتوں اور طبقات کو یکجا کرنے کا عزم اور ارادہ رکھتے ہیں۔
مقررین نے لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ محنت کش خواتین میں طبقاتی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ جام ساقی نے تمام عمر صعوبتیں برداشت کیں مگر حکمران طبقات سے مصالحت کرنے سے انکار کیا۔
تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کامریڈ جام ساقی کی انقلابی جدوجہد پر روشنی ڈالی۔
ایم کیو ایم کا حالیہ تنازعہ یوں تو کامران ٹیسوری کے گرد گھومتا نظر آتا ہے لیکن درحقیقت یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں جتنا دکھایا جا رہا ہے۔
مقررین نے کہا کہ محنت کش عورتوں کو اپنے حقوق کی لڑائی محنت کش مردوں کے شانہ بشانہ لڑنی ہو گی۔
مقررین نے جام ساقی کی زندگی اور ان کی انقلابی جدوجہد پر روشنی ڈالی اور ان کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
حبیب جالب کی یاد میں ایک نشست ’چائے شائے کیفے‘ پر منعقد کی گئی۔ جس میں جی سی یونیورسٹی اور ایگریکلچر یونیورسٹی سے طلبہ نے شرکت کی۔
مقررین نے کہا ہے کہ موجودہ نظام کی موجودگی میں مظلوم قومیتوں کے حق خودارادیت سمیت بنیادی مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔
ملتان لا کالج میں انقلابی طلبہ محاذ اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین ملتان کے زیرِاہتمام محنت کش خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں محنت کشوں اور طلبہ نے شرکت کی۔
عوام کی بجائے عالمی اور مقامی مقدر حلقوں کوطاقت کے نئے ’سرچشمے‘ سمجھ لینے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کا زوال تیز تر ہے۔