جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان: قومی آزادی طبقاتی جدوجہد کی متقاضی!
منقسم ریاست کی تینوں اکائیوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے سات دہائیوں کے جبر کیخلاف متعدد تحریکیں چلائیں ہیں۔
منقسم ریاست کی تینوں اکائیوں کے محنت کشوں اور نوجوانوں نے سات دہائیوں کے جبر کیخلاف متعدد تحریکیں چلائیں ہیں۔
سماج کی رگوں میں سرایت شدہ گھٹن اور رجعت کے زہر کا خاتمہ اس وقت تک مشکل ہے جب تک ایک انقلابی سرکشی کے ذریعے سماج کی بنیادی ساخت کو یکسر تبدیل نہ کر دیا جائے۔
پرفارمنس میں ایک مزدور کے تلخ حالاتِ زندگی کی منظر کشی کی گئی تھی۔
انقلابی طلبہ محاذ (RSF) کے زیر اہتمام مورخہ 18 فروری کو ملیر ایریا کا مارکسی اسکول سچل سرمست سیکنڈری اسکول گلشن حدید فیز 2 میں منعقد کیا گیا۔
تنگ نظر شعور، چھوٹی سوچ اور سطحی فکر صرف وقتی کیفیات اور ظاہریت تک محدود ہوتی ہے۔
اکیسویں صدی میں قدم رکھنے کے باوجود بھی تھرپارکر کے لوگ اپنی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔
درمیانے طبقے کا پس منظر رکھنے والے نودولتی مہاجر رہنما خود کو ریاست کی حاکمیت کے لئے ناگزیر سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے۔
جس سوچ نے اس وحشت اور درندگی کو جنم دیا ہے اسکی بنیادوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
نہ صرف معیاری بلکہ مقداری حوالے سے بھی یہ ایک تاریخی سکول ثابت ہوا۔
تاریخ بہت کفایت شعار ہوتی ہے اور ٹرمپ کے خلاف نفرت سارے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نفرت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
ایسے قبائل جن میں نسلوں سے دشمنیاں بھی چل رہی تھیں ایک دوسرے کی قتل وغارت کی تاریخ پائی جاتی ہیں ان کی نئی نسل کو نقیب اللہ کے اس بہیمانہ قتل نے ایک یکجہتی میں پرو دیا ہے۔
جس آگ میں کشمیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کا لہو جل رہا ہے، سامراجی منافع خوری، برصغیر کے حکمرانوں کا تسلط اور مالیاتی مفادات کی تکمیل اسطرح سے بہتر ہو رہی ہے۔
انسان کی لاکھوں سالوں کی محنت اور کاوش سے معرض وجود میں آنے والے یہ پیداواری ذرائع سرمائے کی بیڑیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔
مورخہ 26 جنوری کو راولاکوٹ آفس طبقاتی جدوجہد میں ایریا مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔
سکول مجموعی طور پردو سیشنز ’عالمی اور ملکی صورتحال‘ اور ’ریاست اور انقلاب‘ پر مشتمل تھا۔