افغانستان کی خونی دلدل
افغانستان کو سب عالمی اور علاقائی سامراجی گدھ نوچ رہے ہیں۔ کوئی ’تعمیر نو‘ کے نام پر یہ کھلواڑ کر رہا ہے تو کوئی منشیات کے کالے دھن پر پلنے والی جہادی پراکسیوں کی براہِ راست پشت پناہی کر رہا ہے۔
افغانستان کو سب عالمی اور علاقائی سامراجی گدھ نوچ رہے ہیں۔ کوئی ’تعمیر نو‘ کے نام پر یہ کھلواڑ کر رہا ہے تو کوئی منشیات کے کالے دھن پر پلنے والی جہادی پراکسیوں کی براہِ راست پشت پناہی کر رہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ بالخصوص ضیاالحق کے دور سے جمعیت کو ریاست اور انتظامیہ کے کچھ حصوں کی پشت پناہی ہمیشہ حاصل رہی ہے۔
مقررین نے کہا کہ منّو بھائی ایک غیر طبقاتی سماج کے قیام کے لیے ہر وقت کوشاں تھے۔ بائیں بازو اور سوشلسٹ نظریات سے ان کی جڑت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔
مورخہ 21 جنوری اتوارکو حسن ابدال کے علاقہ جلو میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر کامریڈ ابرار کے بڑے بھائی اظہار ہیسبانی، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے صوبائی صدر کامریڈ انور پنہور اور بے روزگار نوجوان تحریک کے رہنما اعجاز بگھیو نے خطاب کیا۔
ایک روزہ ایریا مارکسی سکول مورخہ 20 جنوری پلندری جدوجہد آفس میں منعقد ہوا۔
پاکستان میں سوشلسٹ انقلاب کی جدوجہد اور انقلابی پارٹی کی تعمیر میں منوبھائی کا ناقابل فراموش کردار ہے جو کالم نگاری، اردو ادب، ٹی وی ڈرامے اورشاعری میں ان کے بے مثال کردار سے بھی زیادہ بلند اور اعلیٰ ہے۔
بھارت کے قانون، عدل اور انصاف کے سب سے اعلیٰ بھگوان پر اس کے اپنے ججوں کے یہ الزامات پورے ریاستی نظام کی حقیقت کو عیاں اور عدلیہ کی اصلیت کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ایک متروک نظام کے نمائندے کبھی بھی ترقی پسند اور سائنسی فکر کے مالک نہیں ہو سکتے۔
جب سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کا کوئی حل نہ ہو تو مذہبی انتہاپسندی اور تعصبات کو ہوا دے کر سماج کو تقسیم کر کے طبقاتی جبر اور استحصال کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔
حالیہ انتخابات میں عوام کی خاطر خواہ شرکت کو شاید کچھ حلقوں میں ’’جمہوریت‘‘ کی کامیابی گردانا جا رہا ہے لیکن اِس سے نیپالی عوام، بالخصوص نوجوانوں کے بائیں جانب جھکاؤ اور دباؤ کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
یہ کھوکھلی بڑھک بازیاں اور پالیسیوں میں تزلزل تاریخ کی سب سے بڑی فوجی اور معاشی قوت امریکی سامراج کے زوال کا اظہار ہے۔
سینکڑوں طلبہ و طالبات اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، پی ٹی یو ڈی سی سمیت دیگر طلبہ تنظیموں اور ترقی پسند پارٹیوں کے رہنماؤں و کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔
آج بالعموم پوری دنیا ایک عدم استحکام اور انتشار کی زد میں نظر آتی ہے۔
سعودی عرب کی یاترا اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ نوا ز شریف کو مقتدر اداروں سے مصالحت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔