روس: بغاوت کی چنگاریاں
یہ مظاہرے روسی سماج میں سطح کے نیچے پنپتی بے چینی اور بیزاری کا اظہار ہیں جو بڑے پیمانے پر بھی پھٹ سکتی ہے۔
یہ مظاہرے روسی سماج میں سطح کے نیچے پنپتی بے چینی اور بیزاری کا اظہار ہیں جو بڑے پیمانے پر بھی پھٹ سکتی ہے۔
عوام کو تو جینا ہے۔ اس جینے کے لیے ان کو ہرروز ایک لڑائی لڑنی ہے۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر ٹیبلوز پیش کئے جنہیں خوب داد ملی۔
صدام خاصخیلی نے بھگت سنگھ کی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ بھگت سنگھ کی جدوجہد کو صرف قومی آزادی کی جدوجہد کا رنگ دیتا آیا ہے، وہ سامراج کے خلاف جنم لینے والی طبقاتی تحریکوں کو ہمیشہ پوشیدہ رکھتے آئے ہیں۔
پروگرام کو چیئر کامریڈ سہیل چانڈیو نے کیا جب کہ ماجد بگھیو نے برصغیر کے سیاسی حالات اور برطانوی سامراج کے خلاف بھگت سنگھ کی انقلابی جدوجہد پر تفصیل سے بات رکھی۔
سیمینار کا آغازکامریڈ جنت حسین نے کیا۔ انہوں نے بھگت سنگ کی برطانوی راج اور سرمایہ درانہ نظام کے خلاف جدوجہد اور اس کے نظریاتی ارتقا پر بات کی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ایک سوشلسٹ برصغیر اور سوشلسٹ عالمی انقلاب ہی مظلوم قومیتوں، اقلیتوں اور محنت کشوں کو حقیقی آزادی اور آسودگی دے سکتا ہے۔
عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر ونود کمار نے کہا کہ بھگت سنگھ کو ہم سے بچھڑے آج کئی دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن ان کے نظریات کی صورت میں وہ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکمرانو ں نے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے جس میں ہمیں صرف بادشاہوں کی تاریخ بتائی جاتی ہے۔
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
آج بھی برصغیر کی تقریباً پونے دو ارب آبادی جس محرومی، ذلت، پسماندگی اور غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے، اس سے نجات کے لئے بھگت سنگھ کے انقلابی نظریات مشعل راہ ہیں۔
’’حتمی مقصد کو واضح کر لینے کے بعد ہی آپ، اپنی قوتوں کو عملی کاروائی کے لئے منظم کر سکتے ہیں‘‘
رجعتی عناصر کی بھگت سنگھ سے نفرت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُس کی جدوجہد مقامی و غیر مقامی استحصالی طبقات کے خلاف برصغیر کے محنت کش عوام کے طبقاتی اتحاد پر مبنی تھی۔
یہ انتخابی نتائج آنے والے دنوں میں سیاسی عدم استحکام اور شدید طبقاتی جدوجہد کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔
عالمی سرمایہ داری کو اپنی شرح منافع بڑھانے یا برقرار رکھنے کے لیے جس سستی مگر ہنر مند محنت اور انفراسٹرکچر کی تلاش تھی، چین کا سماج اور محنت کی منڈی اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔