کارپوریٹ میڈیا کی آمریت!
میڈیا کے مالکان اور اینکر حضرات طالبان اور دہشت گرد سرداروں کی طرح لالچ میں وفاداریاں بھی مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ اب ان کو صرف کرائے پر ہی لیا جاسکتا ہے، خریدا نہیں جاسکتا۔
میڈیا کے مالکان اور اینکر حضرات طالبان اور دہشت گرد سرداروں کی طرح لالچ میں وفاداریاں بھی مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ اب ان کو صرف کرائے پر ہی لیا جاسکتا ہے، خریدا نہیں جاسکتا۔
ریفرنس میں PTUDC کی قیادت، کراچی کے مزدور رہنماؤں، محنت کشوں، سیاسی کارکنوں، طلبہ و طالبات کے علاوہ کامریڈ ہردل کمار کے لواحقین نے بھی شرکت کی۔
اتر پردیش کا اہم قصبہ ’’دیوبند‘‘، جہاں سے ایک بڑے مسلم فرقے کا جنم ہوا، وہاں مسلمانوں کا 70 فیصد سے زائد ووٹ تھا اور وہاں سے بھی بی جے پی نے ہی کامیابی حاصل کی۔
مورخہ 5 مارچ 2017ء کو دادو میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا جو دو نکاتی ایجنڈا پر مشتمل تھا۔
سیمینار میں 60 سے زائد محنت کشوں، نوجوانوں اور سیاسی کارکنان نے شرکت کی۔
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے مو قع پر پشاور یونیورسٹی میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پشاور یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔
اکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) ملتان نے دفتر طبقاتی جدوجہد میں ایک سیمینار بعنوان ’’محنت کش خواتین کے مسائل اور مارکسی تناظر میں اُن کا حل‘‘ کا انعقاد کیا جس کی صدارت محنت کش خاتون امیراں بی بی نے کی۔
’’مستقبل کے تاریخ دان اگر روس کے انقلاب کے بارے میں لکھیں گے تو انہیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہ روس کا انقلاب بھوکی عورتوں اور بچوں سے شروع ہوا جو کہ روٹی کا مطالبہ کر رہے تھے۔‘‘
اٹل حقیقت ہے کہ محنت کش طبقہ ہی اس درندہ صفت نظام کا گورکن ہے جو اس نظام کو دفن کر کے صنفی اور جنسی تفریق سمیت تمام تر تعصبات کو ختم کر دے گا۔
پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں خواتین بھیڑ بکریوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں، مگر پھر بھی بہت سی خواتین سوچے سمجھے بغیر اپنا غلامانہ کردار قبول کئے ہوئے ہیں۔
پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک میں جہاں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے وہاں محنت کش خواتین کی زندگیاں دن بدن بدتر ہوتی جارہی ہیں۔
تمام تحریکوں، ہڑتالوں، جنگوں اور انقلابات کے اندر محنت کش خواتین کی شاندار انقلابی روایات ہمیں آج بھی عورت کے لازوال انقلابی کردارپر یقین دلاتی ہیں۔
لینن نے انقلاب کے بعد لکھا کہ ’’خواتین مزدوروں کی حمایت اور شراکت کے بغیر یہ انقلاب اس طرح فتحیاب نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘
طبقاتی جدوجہد اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی جانب سے 5 مارچ 2017 ء کو حیدرآباد پریس کلب میں ’’خواتین پر جبر اور آزادی کی جدوجہد‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔
’’پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کامریڈ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جو ہر ادارے کی جدوجہد میں محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘