فیصل آباد: پاکستان کے سیاسی و معاشی تناظر پر سیمینار کا انعقاد

| رپورٹ: PTUDC فیصل آباد |

مورخہ 3 مارچ بروز جمعہ چنیوٹ بازار فیصل آباد میں ’’پاکستان کا معاشی اور سیاسی مستقبل کیا ہوگا؟‘‘ کے عنوان سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) اور بیروزگار نوجوان تحریک (BNT) کے زیر اہتمام ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں 60 سے زائد محنت کشوں، نوجوانوں اور سیاسی کارکنان نے شرکت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض PTUDC کے رہنما عمر رشید نے سرانجام دئیے۔ موضوع پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے عمران کامیانہ نے کہا کہ اس ملک میں ایک نہیں دو معیشتیں ہیں، حکمرانوں کی معیشت کی ترقی کے خوب چرچے ہیں، شرح نمو کی بلندی کا واویلا کیا جارہا ہے، سرمایہ داروں کے منافعے خوب بڑھ رہے ہیں، لیکن دوسری طرف محنت کش عوام کی اکثریت کے حالات زندگی تنگ سے تنگ تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ سی پیک کو ایک معجزہ بنا کر پیش کیا جارہا ہے لیکن چینی سرمایہ کار کسی دوستی یا خیرات کے جذبے کے تحت نہیں بلکہ منافعوں کے لئے اتنی بڑی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور ان منصوبوں میں مقامی سرمایہ داروں اور حکمرانوں کا کردار کمیشن ایجنٹ کا ہے۔ اس تمام تر سرمایہ کاری کا بوجھ آخر کار عوام کے کندھوں پر ہی ڈالا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج تمام تر سیاسی پارٹیوں کا معاشی پروگرام ایک ہے اور ان کے اختلافات فروعی اور جعلی ہیں، سیاست نے عوام کو رد کیا ہے تو عوام نے بھی اس مسلط حکمران سیاست کو رد کر دیا ہے، پیپلز پارٹی کی قیادت نے پارٹی کے بنیادی سوشلسٹ نظریات سے انحراف اور پارٹی کی تباہ کاری میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ لیکن سطح کے اوپر اگر نان ایشوز اور لوٹ مار کی سیاست نظر آتی ہے تو نیچے ایک طوفان مچل رہا ہے جسے سطح کو چیر کر ایک انقلابی تحریک کی شکل میں اپنا اظہار لازماً کرنا ہے۔ بیروزگار نوجوان تحریک سے احمد مفاذاور سیف اللہ، PTUDC سے عصمت پروین، پیرامیڈیکل ایسوسی ایشن کے نائب صدر اشرف کھوکھر اور نرسنگ کے شعبے سے شازیہ مبارک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سماج میں جوں جوں محرومی بڑھ رہی ہے، طبقاتی تضادات بھی شدید سے شدید تر ہوتے چلے جا رہے ہیں، محنت کشوں کے حالات زندگی مسلسل زبوں حالی کا شکار ہیں، خواتین دوہرے استحصال سے دو چار ہیں اور نوجوانوں کی وسیع اکثریت بیروزگاری، بیگانگی اور جرائم کی بھٹی میں جلنے پر مجبور ہے۔ اِن مسائل کا حل طبقاتی بنیادوں پر منظم ہو کر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کے بغیر کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سٹی صدر رانا دستگیر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا گزشتہ لمبے عرصے سے پارٹی سے جو نظریاتی انحراف سرزد ہوئے ہیں ان سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا، پارٹی پر سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور ضیاالحق کی باقیات کو مسلط کیا گیا ہے اور جس طبقے کے خلاف پارٹی قائم کی گئی تھی آج وہی لوگ پارٹی پر حاوی ہیں۔ انہوں نے کہا پارٹی کی بقا کا واحد راستہ انقلابی سوشلزم پر مبنی بنیادی منشور کی طرف واپسی ہے جس کے لئے پارٹی کے اندر نظریاتی اور طبقاتی بنیادوں پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ سوالات کی روشنی میں بحث کو سمیٹتے ہوئے عمران کامیانہ نے کہا کہ آج صرف 8 لوگ دنیا کی آدھی آبادی کی مجموعی جمع پونجی سے زیادہ دولت پر حاوی ہیں، پاکستان میں 20 لاکھ نوجوان ہر سال محنت کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں جن کے لئے کوئی روزگار نہیں ہے، دہشت گردی کے خلاف آپریشنوں میں بیماری کی بجائے علامات کا ہی علاج کیا جا رہا ہے، امیروں کی دولت مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ غریب، غریب تر ہو رہا ہے، سرمایہ دارانہ نظام نے انسانیت کو بربریت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے، آج بھی دنیا میں اتنے وسائل اور ٹیکنالوجی موجود ہے کہ چند سالوں میں کرہ ارض پر سے بھوک، محرومی اور افلاس کا مکمل خاتمہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے لئے معیشت کو منافع کی بجائے انسانی ضروریات کے تحت چلانا ہو گا، ایسا صرف سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔