روس: بغاوت کی چنگاریاں

تحریر: لال خان

مغربی میڈیا کی پچھلے اتوار سے روس میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بارے میں خوشیاں ماند پڑچکی ہیں۔ لیکن یہ شاید ان عوام کی شورش میں چھوٹا سا وقفہ ہے جو اس نظام کے تحت حالات زندگی سے تنگ آچکے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں کا یہ 2012ء کی تحریک کے بعد سب سے بڑا ابھار ہے، جب پیوٹن کی حکمرانی کو چیلنج کیا گیا تھا لیکن تحریک تھوڑے ہی عرصے میں ماند پڑگئی تھی۔ حالیہ مظاہرے 26 مارچ کو روس کے پیسفک ساحل سے شروع ہوئے، جب سینکڑوں لوگوں نے ولادیوسٹوک میں مارچ کیا۔ سارا دن مختلف شہروں بشمول نووسیبرسک، یکاتیرنبرگ اور داغستان کے دارالحکومت ماخاچکالا، جو شمالی قفقاز کا علاقہ ہے، سے بھی مظاہروں کی رپورٹیں آتی رہیں۔ لیکن حکومت نے جس سختی سے ان مظاہروں کو کچلا اور سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ پیوٹن حکومت کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ لیکن یہ مظاہرے روسی سماج میں سطح کے نیچے پنپتی بے چینی اور بیزاری کا اظہار ہیں جو بڑے پیمانے پر بھی پھٹ سکتی ہے۔

اتوار کو سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والا مظاہرہ

اس جبر پر مغربی سامراجیوں کی’تشویش‘ اور پیوٹن سے نفرت کی وجہ روس کے استحصال زدہ محنت کش عوام سے کسی طرح کی ہمدردی نہیں ہے۔ سوویت یونین کا انہدام، روس میں سرمایہ داری کی بحالی اور 2000ء میں پیوٹن کا برسراقتدار آنا، ان سب واقعات کی طرف مغربی سامراجیوں کا ردعمل سرگردانہ اور متضاد رہا ہے۔ وہ اپنے غلط تناظر اور روس میں پچھلی چند دہائیوں میں ہونے والے تیز واقعات کے غلط تجزئیے پر تذبذب کا شکار تھے۔ سوویت یونین اور دیوار برلن کے انہدام پر وہ پھولے نہیں سما رہے تھے۔ سرد جنگ وہ جیت چکے تھے اور انہوں نے شیخی بگھاری کہ اس کے بعد سرمایہ دارانہ حکمرانی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔ حتیٰ کہ تاریخ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم ان طوفانی واقعات کے دوران جب روس اور مشرقی یورپ میں ’کمیونزم‘ منہدم ہورہا تھا تو مارکسسٹوں نے پیش گوئی کی تھی کہ روس اور مشرقی یورپ میں جنم لینے والی نئی بورژوا ریاستیں صحت مند سرمایہ دارانہ ریاستیں نہیں بلکہ مافیا سرمایہ داروں کے ٹولے ہیں، جو سٹالنسٹ انتظامیہ اور ’کمیونسٹ پارٹیوں‘ کے سابقہ بیوروکریٹ ہی ہیں۔ جلد ہی یہ ریاستیں، بالخصوص پیوٹن کا روس، اپنے متضاد معاشی اور سیاسی مفادات کے ساتھ مغربی سامراجیوں کے لیے درد سر بن گئیں۔ اس صدی کے آغاز میں ایک نئی ’سردجنگ‘ شروع ہوئی جب چین ایک بڑی معیشت میں تبدیل ہوگیا اور روس سوویت دور کے ایٹمی ہتھیاروں اور عسکری سازوسامان کے ساتھ ایک بار پھر طاقت بن کر ابھرا۔ روس اور مغربی طاقتوں کے درمیان اس سطحی اور متضاد تعلقات نے پاکستان جیسے ملکوں کے کچھ دانشوروں میں اس تاثر کو بھی جنم دیا کہ شاید پیوٹن اور روس کا کردار ترقی پسندانہ اور سامراج مخالف ہے۔ یہ بالکل غلط ہے۔ پیوٹن سابقہ ’کمیونسٹ‘ افسرشاہی کی نمائندگی کرتا ہے جنہوں نے سوویت معیشت اور عوام کو لوٹ کر اربوں کمائے۔ آج یہ ’سیاست دان‘ زیادہ تر گینگسٹرز ہیں اور کرپشن اور جرائم میں سر تا پا ڈوبے ہوئے ہیں۔ ولادیمر پیوٹن کوئی ولادیمر لینن نہیں ہے۔ لینن سوشلسٹ انقلاب کی نمائندگی کرتا تھا اور تاریخ کی پہلی مزدور ریاست کا لیڈر تھا، جس نے سرمایہ داری اور جاگیرداری کا خاتمہ کرکے سامراجیت کے جبر کو توڑ دیا تھا۔ ایک منصوبہ بند معیشت قائم کی گئی جس نے زار شاہانہ روس کی پسماندگی سے روس کو ایک جدید ترقی یافتہ سماج میں بدل دیا، جو صحت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نہ صرف مغربی سامراج کا مقابل تھا بلکہ کئی لحاظ سے آگے تھا۔
اس سال اکتوبر 1917ء کے انقلابِ روس کو سو سال ہوجائیں گے۔ لیکن آج بھی اس انقلاب کے احیا کا خیال بحران زدہ سرمایہ داری اور سامراج کے پالیسی سازوں کو پریشان کر رہا ہے۔ پیوٹن بھی اس کے احیا سے اتنا ہی خوف زدہ ہے اور اسی لیے چھوٹے سے مظاہروں نے بھی اس کی حکومت کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ کریملن نے انقلابِ روس کی سو سالہ تقریبات میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے ان واقعات پر لکھا، ’’ماسکو اور سینٹ پیٹرزبرگ میں سب سے بڑے مظاہرے ہوئے، جہاں وہ پیلس اسکوئر تک پہنچ گئے، جو 1917ء کے اس انقلابِ روس کی یاد دلاتا ہے جو کریملن کو خوب اچھی طرح یاد ہے۔ 1917ء کے انقلاب نے ملک اور پوری دنیا کو تبدیل کردیا۔ زار شاہی کا خاتمہ ہوا۔ کمیونسٹ دور کا آغاز ہوا اور مغرب کے ساتھ ایک نظریاتی جنگ شروع ہوئی، جس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ کریملن کے کچھ عہدیداروں، مورخوں اور دوسرے تجزیہ نگاروں کے مطابق اس کی زیادہ بہتر وضاحت یہ ہوسکتی ہے کہ پیوٹن کو انقلاب کے خیال سے ہی نفرت ہے، کجاکہ روسی عوام سڑکوں پر رقص کرکے ایک حکمران کے دھڑن تختے کا جشن منائیں۔‘‘
روس میں سرمایہ داری کی بحالی نے سماج میں کہرام مچایا اور آج محنت کش طبقات آزاد منڈی اور کارپوریٹ سرمایہ داری کی ’ثمرات‘ سے خوب ’فیض یاب‘ ہورہے ہیں۔ نوے کی دہائی کے معاشی انہدام کے بعد کسی حد تک معاشی بحالی ہوئی لیکن مجموعی طور پر سماج کے معیار زندگی کو بہتر کرنے میں ناکام رہی۔ سرمایہ داری کے عالمی زوال کے تحت 2012ء کے بعد سے روس میں بھی ایک اور معاشی زوال شروع ہوا ہے۔ پچھلے تین سالوں سے تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور مغربی معاشی پابندیوں نے روسی معیشت کو جمود سے زوال میں دھکیل دیا ہے اور روسی عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اگرچہ معاشی نمو کی شرح کئی سالوں بعد منفی سے اس سال مثبت ہونے کی توقع ہے لیکن منڈی مسلسل گر رہی ہے اور عدم مساوات بڑھ رہی ہے۔ آج کی سرمایہ داری میں بلند شرح نمو بھی آبادی کی اکثریت کے معیار زندگی میں کسی طرح کا اضافہ نہیں کرتی۔
عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال مطلق غربت میں رہنے والے افراد کی تعداد مزید 1.1 ملین اضافے سے مجموعی آبادی کے 16.2 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ 1998-99ء کے معاشی بحران کے بعد غربت میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ بڑھتی ہوئی بیروزگاری سے غربت میں اضافہ مزید شدید ہوگا۔ پبلک اوپینئن فاؤنڈیشن کے مطابق آبادی کا 47 فیصد اپنے آپ کو غریب تصور کرتا ہے۔ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر بائزوف کا کہنا ہے: ’’جو کچھ آپ کے پاس ہے اس سے دستبردار ہونا بہت مشکل ہے، اس لیے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ وہ مزید غریب ہوگئے ہیں۔ ‘‘
رائے عامہ کے بیشتر تجزیوں کے مطابق پیوٹن کی مقبولیت حیران کن حد تک 80 سے 90 فیصد کے درمیان ہے۔ اس صورت حال میں کوئی حقیقی اپوزیشن یا متبادل نہیں ہے۔ روس کی موجودہ کمیونسٹ پارٹی زیوگانوف کی قیادت میں دراصل ایک اصلاح پسند سیاسی جماعت ہے۔ پیوٹن کو کسی اپوزیشن پارٹی یا قیادت سے کسی سنجیدہ مخالفت کا سامنا نہیں ہے۔ اس نے زیادہ تر زار کے زمانے کے روسی شاونزم کو اپنی حمایت میں اضافہ کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ یوکرائن میں مداخلت اور کریمیا پر قبضے سے اس کی حمایت میں مزید اضافہ ہوا۔ امریکہ اور مغرب کے خلاف نعرے بازی سے اس کی قوم پرستی کو مزید تقویت ملی ہے۔ 2011-12ء کے حکومت مخالف احتجاج کے دوران پیوٹن نے اوباما پر تنقید کی تھی اور ہیلری کلنٹن پر الزام لگایا تھا کہ اسی نے ہی مظاہروں کو بھڑکایا۔ حکومت مخالف مظاہروں کے لیے بیرونی قوتوں کو ذمہ دار ٹھہرانا ایک آسان سا بہانہ ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد عوام کو گمراہ کرنے کے لیے یہ ہتھیار بھی پیوٹن کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔
اگرچہ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ مظاہرے زیادہ دیر نہ چل سکے لیکن دہائیوں بعد روس کے سیاسی منظرنامے پر چند حیرت انگیز عوامل جنم لے چکے ہیں۔ ارتیوم ٹروٹسکی، جو ایک روسی صحافی اور کنسرٹ پروموٹر ہے، نے سالوں سے روسی نوجوانوں کی ثقافت پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ماسکو اور دوسری جگہوں پراحتجاجوں میں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد میں شرکت ’’غیرمعمولی حد تک اہم ہے۔ نوجوان ہمیشہ ہی تبدیلی کا ایک عمل انگیز رہے ہیں اور ان کی سڑکوں پر موجودگی حالیہ سالوں میں سیاست میں ان کی عدم دلچسپی کے خاتمے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ حالات مکمل طور پر تبدیل ہوچکے ہیں لیکن کچھ چیزیں یقیناًتبدیل ہورہی ہیں۔‘‘ کریملن کی موجودہ حکومت نے ماضی میں نوجوانوں کو تقسیم اور کنفیوز کرنے کے لیے مہارت سے ’ناشی‘ کے نام سے پیوٹن کی حمایت میں نوجوانوں کی تحریک شروع کی تھی، لیکن اُن کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ نوجوانوں میں پیوٹن کی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بیرونی جنگوں کے ذریعے داخلی حمایت پیدا کرنے کی ایک حد ہوتی ہے۔ قومی شاونزم کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ سب زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ جب سرمایہ داری ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک میں سماج کو ترقی نہیں دے سکتی تو روس جیسی جرائم زدہ اور مافیائی سرمایہ داری بھلا عوام کے لیے کیا خوشحالی لا سکتی ہے۔ 26 مارچ کے مظاہرے دمتری میدیدف کی بدعنوانی کے خلاف تھے جو پیوٹن کا وفادار، کرپٹ اور شاہ خرچ وزیراعظم ہے۔ لیکن اس بڑھتے ہوئے سماجی بحران میں اچانک نئی بغاوتیں اور تحریکیں ابھر سکتی ہیں۔ اکتوبر انقلاب کی سو سالہ سالگرہ کے موقع پر اگر اکتوبر کی سرزمین پر کوئی ایسی تحریک ابھرتی ہے تو وہ ایک انقلابی تحریک میں بدل کر روس اور پوری دنیا کو اس بوسیدہ سرمایہ داری کے خاتمے کا پیغام دے سکتی ہے۔