مظفر آباد میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد
پہلا اسیشن ’عالمی وملکی تناظر‘ پر تھا جبکہ دوسرا سیشن ’غیر ہموار اور مشترک ترقی‘ پر تھا۔
پہلا اسیشن ’عالمی وملکی تناظر‘ پر تھا جبکہ دوسرا سیشن ’غیر ہموار اور مشترک ترقی‘ پر تھا۔
عورت ہمیشہ سے سماجی طور پر غلام نہیں تھی مگر کچھ مخصوص حالات کی وجہ سے جب اس سے معاشی خود مختیاری چھین لی گئی اور ان کو سماجی طور پر غلام کیا گیا۔
ٹرمپ کی صدارت شاید امریکہ کی تاریخ کا سب سے پر انتشار اقتدار ہوگا، جس کا آغاز ہمیں حلف برداری کی تقریب کے دوران مختلف جگہوں پر مظاہروں اور توڑ پھوڑ کی شکل میں نظر آیا۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی قیادت ان متاثرہ محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے ان کے احتجاجی دھرنے اور ہڑتالی کیمپ کا مسلسل دورہ کر رہی ہے۔
صحت، تعلیم، پانی، نکاسی آب اور دوسرے سماجی شعبوں کی نجکاری نے عوام کی زندگیوں پر قہر نازل کردیا ہے۔
جو بھی تھوڑا بہت روزگاریہاں پیدا ہوبھی رہا ہے وہ سارا اسی غیر رسمی معیشت سے منسلک ہے۔ ورنہ ریاست کے پاس کوئی ایسی پالیسی موجود ہی نہیں جس سے سماج کو ترقی دی جاسکے۔
س نظام میں منافع کی ہوس بڑھتے بڑھتے ان سرمایہ داروں کی حالت ایک ایسے خونی بھیڑیے کی مانند ہوگئی ہے جس کے جبڑوں کو جب انسانی خون لگ جاتا ہے تو اسکی ہوس مزید بڑھ جاتی ہے۔
نیا سال پرانے سال کا ہی تسلسل ہو گا لیکن اس کی شدت پچھلے سال سے زیادہ ہو گی۔ غیر معمولی عدم استحکام اب معمول بن چکا ہے۔
پاکستان کا شاید ہی کوئی دانشور، تجزیہ نگار، کالم نگار، بزنس مین، جرنیل یا سیاست دان ایسا ہوگا جس کوکبھی اس بلا نوشی کا اتفاق نہ ہوا ہو۔
انقلابی سوشلزم سے پارٹی قیادت اتنی خوفزدہ ہے کہ ان کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں عوام اس راستے پر باہر ہی نکل پڑیں۔
دن بھر نوجوانوں نے کیمپ کا دورہ کیا اور BNT کے مطالبات سے مکمل اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے اس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی۔
سعودی عرب میں غیر ملکی محنت کشوں پر ریاستی جبر اور قید اور کوڑوں کی اذیتوں کے خلاف پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کا ملک گیر احتجاج گزشتہ دنوں بھی جاری رہا۔
1917ء کا بالشویک انقلاب بنیادی طور پر اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے اور نسل انسان کی صدیوں کی طبقاتی غلامی سے آزادی کا آج بھی واحد راستہ ہے۔
اس منصوبے میں ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،اس سے پہلے بھی کئی دفعہ ایسے حادثات پیش آچکے ہیں۔
تقریب کا عنوان ’’اِس پار بھی لیں گے آزادی، اُس پار بھی لیں گے آزادی‘‘ رکھا گیا تھا اور دیگر طلبہ تنظیموں کے قائدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔