| رپورٹ: PTUDC لاہور |
حکومت پنجاب کی جانب سے اربوں روپے کی لاگت سے زیر تعمیر اورنج لائن ٹرین منصوبہ پر کام کرنے والے مزدوروں کی ہلاکتوں نے سرمایہ داروں کی منافع خوری کی ہوس کو ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے۔ منصوبے کے آغاز سے ہی ماحولیات اور آثار قدیمہ کی تنظیموں نے اس منصوبہ کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا جس کی وجہ سے کئی مقامات پر عدالتی احکام کے باعث کام روک دیا گیا ہے، اس منصوبے نے جہاں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کیا وہیں پر کئی ایک آثار قدیمہ کی عمارتوں کو اس منصوبے سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ اربوں روپے کے اس پراجیکٹ کے کرپشن سکینڈل بھی سامنے آرہے ہیں ، نام نہاد اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی اس منصوبہ کے خلاف بیان بازیاں کی جارہی ہیں۔ لیکن اس تمام شو رو غل میں منصوبے کے دوران مزوروں کی ہلاکتوں پر کوئی سیاسی لیڈر بیان تک دینے کی توفیق نہیں رکھتا تو دوسری طرف عدالتوں سے رجوع کرنے والی تنظیموں نے بھی اس اہم مسئلے پر چپ سادھ لی ہے۔

27 کلومیٹر اورنج لائن کے منصوبے کے لئے چین کے ایگز م بینک نے حکومت پنجاب کو 1.65 ارب ڈالر کا قرضہ مہیا کیا ہے۔ اس قرضے میں ایک ارب ڈالر براہ راست چینی ٹھیکیداروں مثلاً CR-NORINCO کو دیا گیا ہے جبکہ باقی ماندہ میں ٹریک کی تعمیر کا ٹھیکہ مختلف پاکستانی کمپنیوں کو دیا گیا ہے۔ موسم کی سختیاں سہتے ، دھول مٹی میں اٹھے ، غربت سے مارے چہرے لئے یہ مزدور اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے قلیل اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ چین کے تعاون سے یہ اربوں کا منصوبہ ’عام آدمی کی سواری‘ کی بجائے سرمایہ دارانہ درندگی کا عملی مظاہرہ بن چکا ہے۔ یہاں کام کرنے والے زیادہ تر محنت کشوں کا تعلق ملک کے دور دراز علاقوں سے ہے جو کہ بغیر سوشل سکیورٹی ، میڈیکل وغیرہ جیسی سہولیات کے، قلیل اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ میٹرو ٹرین کے ٹھیکیدار شاہد سلیم کی کمپنی حبیب کنسٹرکشن نے میٹرو ٹرین منصوبے کے لئے 250 سے زائد محنت کش بھرتی کئے ہیں جن کولاہور کے علاقہ محمود بوٹی میں عارضی رہائش مہیا کی گئی ہے۔ ان محنت کشوں کو اس عارضی رہائش میں محض ایک چارپائی میسر ہے جہاں وہ چند گھنٹے ہی آرام کر سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے طے کردہ مدت میں کام ختم کرنے کے دباؤ کی وجہ سے ان محنت کشوں سے ڈبل شفٹیں لگوائی جاتی ہیں۔ ناقص غذا اور جانورو ں سے بد تر رہائش میں رہنے اور مسلسل گردو غبار میں کام کرنے کی وجہ سے کئی ایک مختلف بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں کام کرنے والے محنت کشوں کو تھوڑے عرصہ بعد تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ زیادہ تر محنت کشوں کو دیہاڑی کی بنیاد پر اجرت دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کی محنت کا بد ترین استحصال کیا جا رہا ہے۔ ناقص حفاظتی اقدامات کی وجہ سے حادثات معمول بن چکے ہیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق 11 جنوری کو شام کی شفٹ میں کام کرنے والے25 کے قریب محنت کش کمپنی کی مہیا کر دہ رہائشی عمارت کی تیسری منزل پر سو رہے تھے کہ وہاں موجو د سلنڈر پھٹنے سے آگ لگ گئی اور اس آگ کی زد میں آنے سے سات کے قریب محنت کش زندہ جل کر مر گئے۔ موقع سے تھوڑی دور موجود ایک مزدور سرفراز کے مطابق ،’وقوعہ کے وقت میں قریبی چائے کی دکان پر موجود تھا، ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی جس کے فوری بعد تیسری منزل پر آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد میں نے آگ میں جلتے ہوئے دو مزدور دیکھے جنہوں نے جان بچانے کے لئے تیسری منزل سے چھلانگیں لگا دیں، میں مدد کے لئے دوڑا مگر وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو چکے تھے۔ ‘ ان میں سے کئی ایک نے تیسری منزل سے چھلانگیں لگا کر اپنی جان بچائی، اخباری رپورٹ کے مطابق اب تک سات مزدوروں کے جاں بحق ہونے جبکہ 14 زخمیوں کی تعداد بتائی جا رہی ہے۔
اس منصوبے میں ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،اس سے پہلے بھی کئی دفعہ ایسے حادثات پیش آچکے ہیں۔ 24 مئی کولاہور کے علاقہ ڈیرہ گجراں میں موجود حبیب کنسٹرکشن کے ہی مزدوروں کے عارضی کیمپ پر بارش کے باعث دیوار گرنے کی وجہ سے سات سے زائد مزدور ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے خلاف باقی مزدوروں نے شدید احتجاج کیا تھا جس کے باعث ایک دن کام بند رہا لیکن ان تمام مزدوروں کو بر طرف کر دیا گیا تھا اورحبیب کنسٹرکشن کی طرف سے سارا الزام قریبی زیر تعمیر فیکٹر ی کے مالک پر ڈال دیا تھا۔ لیکن حالیہ واقعہ میں پولیس نے ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث حبیب کنٹرکشن کے مالک شاہد سلیم کے خلاف کیس درج کر لیا ہے۔ شاہد سلیم کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے ساتھ دیرینہ کاروباری تعلقات ہیں جس کی وجہ سے حکومت کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدام کی امید نہیں کی جاسکتی۔ لیکن مسئلہ صرف شاہد سلیم کی کمپنی کا نہیں ہے، دیگر ٹھیکیداروں کی طرف سے بھی مزدوروں کی طرف یہی رویہ اختیار کیا گیا ہے، مثال کے طور پر دروغہ والا چوک میں میٹرو ٹرین کے میٹریل لے جانے والے ٹرک کی زد میں آنے سے چار محنت کش جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی ضمن میں میٹرو ٹرین منصوبے میں ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر کرین پر بجلی کی تاریں گرنے کی وجہ سے چھ محنت کش کرنٹ لگنے جاں بحق ہو گئے تھے۔ ان کے علاوہ میٹرو ٹرین کی کھدائی کے دوران بھی کئی محنت کش اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ٹھیکیداروں کی جانب سے لواحقین کو صرف ایک لاکھ روپے فی لاش اور 25-50 ہزار فی زخمی کے ریٹ کے ساتھ ادائیگی کی جا چکی ہے۔ حکومتی محکمہ لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سہیل جنجوعہ نے تمام واقعات کا ذمہ دار ٹھیکے داروں کو قرار دیا ہے، ان کے مطابق مزدوروں کی حفاظت کی ذمہ داری ان کی ہے۔
حکومت اور ان سرمایہ داروں کا گٹھ جوڑ ثابت کرتا ہے کہ پیسے کی ہوس میں یہ مزدورو ں کا قتل عام کر رہے ہیں، جن کی جان کی کوئی پروا ان سرمایہ داروں کو نہیں ہے۔ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) مطالبہ کرتی ہے کہ مزدوروں کے قتل کے ذمہ دار شاہد سلیم اور دیگر ٹھیکیداروں پر قتل کے مقدمات درج کئے جائیں۔ حکومت تمام لواحقین کو فی کس کم از کم دس لاکھ ادا کرے اور حفاظتی انتظامات کو بہتر بناتے ہوئے غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ نیز اس قتل عام کا اصل ذمہ دار، وزیر اعلیٰ پنجاب استعفیٰ دے اور اس کے خلاف عدالتی کاروائی کی جائے۔