پاکستان: ترقی کی ذلت!

| تحریر: راہول |

2016ء کا اختتام ہوچکا ہے۔ یہ سال بھی جہاں محنت کش عوام کی تاریک زندگیوں میں کوئی روشنی بکھیرنے سے قاصر رہاوہیں اس سال نے اپنے اختتام پرعالمی بورژوازی اوراس نظام کے ٹھیکیداروں کی تمام تر امیدوں اور خوش فہمیوں پر بھی پانی پھیرتے ہوئے انہیں مایوسی اور بے بسی کی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے۔ 2016ء کئی حوالوں سے یادگار سال کے طور پر گردنا جائے گا۔ جہاں اس سال Brexit نے یورپ کی سیاست میں بھونچال مچا یا وہاں ٹرمپ کی فتح نے سرمایہ داری کے اپنے نمائندگان اور محافظین کو ششدر کرکے رکھ دیا۔ اگر سادہ لفظوں میں کہا جائے تو یہ سال سرمایہ دارانہ نظام کے علمبرداروں اور خود کو اس نظام کا ’’تھنک ٹینک‘‘ سمجھنے والوں کی شکست اور ان کے غرور کے ٹوٹنے کا سال تھا۔ آج امریکہ سے لیکر یورپ اور افریقہ سے لیکر مشرق وسطیٰ تک ہر ملک سرمایہ داری کے اس نامیاتی بحران میں جھلس رہا ہے جسے اب آٹھ سال سے زائدکا عرصہ گزر چکا ہے۔ گزشتہ پوری دہائی بحرانی عشرے کے طور پر گزری یہاں تک کہ کچھ سالوں سے BRICS ممالک سے امیدیں وابسطہ تھیں پر ان ممالک کی موجودہ معاشی کیفیات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ عالمی معیشت کو سوائے مایوسی کے اورکچھ بھی دینے سے قاصر رہے ہیں۔ جسے خود اب اُن کے اپنے نمائندگان تسلیم کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سال کے اختتام پر بورژوازی کے تقریباً سبھی سنجیدہ جریدوں نے آنے والے سال کے لئے نہ صرف اس نظام کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کی پیش گوئی کی ہے بلکہ 2017ء میں کسی طور پر بھی اس سے چھٹکارا حاصل نہ کرسکنے کا تناظر دیا ہے۔
عالمی طور پر اس نظام کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کے اثرات نہ صرف آج تمام تر ریاستوں کی معیشتوں پر پڑتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ سیاست بھی اس نظام کے مجموعی زوال سے بچی نہیں رہ سکتی۔ خاص طور پر پاکستان جیسے نوآبادیاتی ممالک پر اس بحران کے اثرات اگرچہ معیشت پر اپنے آغاز میں نہیں دیکھے گئے تھے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس زوال کے اثرات یہاں سیاست سے لیکر پورے سماج پرپڑتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ملک کی رسمی معیشت اب غیر رسمی معیشت میں ضم ہوتی دکھائی دیتی ہے وہیں اس کالی معیشت کے اثرات سماج کی ہر پرت پر پڑتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اسی غیر رسمی معیشت اور یہاں موجود کالے دھن کی بدولت ہی 2008ء کے بحران کے اثرات یہاں باقی ممالک کی طرح نہیں دیکھے گئے۔ لیکن ساتھ ہی اس کالے دھن کے بنیادی کردار کی وجہ سے اس سے کسی قسم کی معاشی و اقتصادی ترقی یاا ستحکام حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ آج یہاں کالی معیشت کا حجم اس قدرسرکاری معیشت سے بڑھ چکا ہے کہ اب رہی سہی تھوڑی بہت سفید معیشت بھی دھندلی ہوتی جارہی ہے اور یہ معیشت کو مسلسل پرانتشار اور غیر یقینی کرنے کا باعث بنتی جارہی ہے۔ مجموعی طور پر نہ صرف سیاست، ریا ست اور معیشت بلکہ پورا سماج ہی کالے دھن، بدعنوانی اور اندھی لوٹ مار کی آماجگاہ بن کے رہ گیا ہے۔ جو معیشت آج سے 36 سال قبل یہاں رسمی معیشت کے صرف پانچ فیصد پر تھی اب 70 سے 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اور یہ کہنا اب کسی طور بھی غلط نہیں ہوگا کہ یہ معیشت ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی ان کے حساب کتاب اور ریاستی کنٹرول میں آنے والی نہیں۔ یہ کالی معیشت ہی تھی جس نے اوپر سے نیچے تک پورے سماج کو ابھی تک دیوالیہ ہونے سے بچائے رکھا ہے اور جو بھی تھوڑا بہت روزگاریہاں پیدا ہوبھی رہا ہے وہ سارا اسی غیر رسمی معیشت سے منسلک ہے۔ ورنہ ریاست کے پاس کوئی ایسی پالیسی موجود ہی نہیں جس سے سماج کو ترقی دی جاسکے۔ یہاں ہونے والی تمام تر ترقی کی کوشش محض دکھاوے اور ٹھیکوں و کمیشنوں کے حصول کے لئے ہی کی جاتی ہے۔ بے شرمی اس قدر بڑھتی جارہی ہے کہ اس مملکت کا مجموعی کردار اب ایک ٹھیکیدار یا کمیشن ایجنٹ سے زیادہ رہا ہی نہیں۔ اس ساری کیفیت کو چھپانے کے لئے حکومت کے تمام ادارے اپنی کارکردگی کے حوالے سے مسلسل جھو ٹ بول رہے ہیں اور کوئی بھی حقیقی اعدادوشمار نہیں دے رہا۔ حقیقت میں آج ملک کا کوئی بجٹ موجود ہی نہیں اور ہر روز اگلے دن کے لئے پالیسی ترتیب دے کر یا پھر قرض لیکر ریاستی اخراجات کو پورا کیاجاتا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے مسلسل فلاحی اداروں کے بجٹ میں کٹوتیاں کرکے ان کا بجٹ تقریباً ختم ہی کردیا گیا ہے۔ جبکہ ساٹھ سے اسی فیصد تک بجٹ قرضوں کی ادائیگیوں اوردفاعی اخراجات کی نظر ہوجاتا ہے۔
پچھلے کچھ عرصے سے حکومت مسلسل یہ راگ الاپ رہی ہے کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور ملکی معیشت مسلسل ترقی کررہی، یہاں تک کہ پچھلے دنوں زرمبادلہ کے ذخائر میں ریکارڈ اضافے کا واویلا کیا گیا جو کہ حقیقت میں بے بنیاد اور ایک سفید جھوٹ سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگر ان ذخائر میں اضافے پر تھوڑی روشنی ڈالی جائے تو اسے باآسانی بے نقاب کیا جاسکتا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں ان تین بنیادی طریقوں سے اضافہ کیا جاسکتا ہے جن میں بیرونی سرمایہ کاری، تارکین وطن کی بھیجی گئی رقوم اور برآمدات شامل ہیں۔ لیکن اسی ریاست کے اپنے اعداوشمار کے مطابق بیرونی سرمایہ کاری پچھلے عرصے میں 2.3 بلین سے کم ہوکر 1.5 بلین ڈالر پر پہنچی ہے۔ تارکین وطن کی رقوم میں عالمی طور پر تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ریکارڈ کمی ہوئی ہے اور صرف سعودی عرب میں جہاں بائیس لاکھ سے زائد پاکستانی موجود ہیں کو نہ صرف کئی ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہیں بلکہ انہیں بڑے پیمانے پر ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔ اگرچہ برآمدات میں بظاہر5.6 فیصد اضافہ ہوا لیکن مجموعی طور پر اس میں بھی پچھلے تین سالوں میں کمی آئی ہے جوکہ 25 بلین ڈالر سے اب 22 بلین ڈالر ہوچکے ہیں جبکہ درآمدات میں 10.1 فیصد کا تیز ترین اضافہ ہوا ہے۔ اس کیفیت میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ذخائر میں کوئی حقیقی اضافہ ہوا ہو۔ جس کی عکاسی اس سال نومبر تک کے تجارتی خسارے میں دیکھا جاسکتا ہے جوکہ 261 بلین روپوں تک پہنچ چکا ہے۔
مجموعی طور پر یہاں معیشت کی صورتحال مسلسل بربادی کی طرف گامزن ہے۔ پورے سماج کو قرضوں کی اندھی کھائی میں دھکیلا جارہا ہے۔ سنجیدہ بورژوا ماہرین کے مطابق محض پچھلے ایک سال میں 2.6 ٹریلین روپوں کے اضافے کے ساتھ 2016ء کے مالی سال کے اختتام تک کل ملکی قرضے اور واجبات 22 ٹریلین روپوں سے بھی تجاوز کرگئے ہیں۔ پچھلے 9 سالوں (2006ء سے 2015ء) میں بیرونی قرضوں میں 75 فیصد کا حیران کن اضافہ ہوا ہے۔ سینٹرل بینک کے مطابق پاکستان کے بیرونی قرضے 7.27 ٹریلین روپے ہے جس میں پچھلے ایک سال میں 1.1ٹریلین روپوں کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 16.3 فیصد کا اضافہ ہے۔ منڈی کی معیشت میں قرضوں کو خوش آئند قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ صرف تب تک خوش آئند ہوتے ہیں جب تک ان قرضوں کی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والا منافع جات، انکے سود اور رقم کی ادائیگی سے زیادہ ہوں۔ یعنی ملکی جی ڈی پی میں تیز رفتار اضافہ ہو رہا ہو، جبکہ پاکستان کی حالیہ صورتحال میں ایسی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی، نتیجتاً یہ قرضے آنی والی نئی نسل کے لیے گرداب بن جاتے ہیں۔ ا سٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق’’پچھلے مالی سال میں وفاقی حکومت نے 2.1 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے جو روزانہ اوسطاً 5.7 ارب روپے ‘‘بنتے ہیں۔ یہ اب تک کسی بھی حکومت کی جانب سے لیے گئے قرضوں کی سب سے بڑی مقدار ہے۔ اگر تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو آج سے تقریباً پنتالیس سال قبل 1971ء میں پاکستان کا مجموعی قرضہ تیس بلین روپے تھا جوکہ آج کئی گنا بڑھ گیاہے۔ جبکہ یہاں جنم لینے والا ہر بچہ ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے کا مقروض پیدا ہوتا ہے۔ گروتھ ریٹ کے متعلق ہر سال بجٹ تقریر میں بڑی بے شرمی اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔ حقیقت میں پچھلے پورے عشرے میں ملکی گروتھ ریٹ 3.8 فیصد سے زیادہ نہیں رہا جبکہ ہر سال 15 لاکھ سے زائد نوجوان محنت کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں۔ ان تمام تر نوجوانوں کو روزگار دینے کے لئے ریاست مسلسل نوکریاں پیدا کرے جس کے لئے تقریباً 7 فیصد تک کی شرح نمودرکار ہے اور اس ہدف کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر سال جی ڈی پی میں پچیس فیصد سرمایہ کاری کی جائے۔ جوکہ پاکستان کی موجودہ کیفیت میں دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ دوسری جانب معیشت کی’’ بہتری‘‘ کے لئے یہاں انتہائی بیوقوفانہ پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔ جس کی اہم مثال گردشی قرض میں مسلسل اضافہ ہے۔ حکومت کی جانب سے بنائی گئی تمام تر پالیسیوں کے باوجود بھی تین سال قبل ادا کیا گیا 480 بلین روپوں کا گردشی قرض آج پھر 380 بلین روپے سے تجاوز کرچکا ہے۔ یہاں ہر نئے قرضے کو اتارنے کے لئے ایک اور قرض لیا جاتا ہے۔ صرف اسٹیٹ بنک نے گزشتہ 39 ماہ میں ہر روز 5 ارب روپے کا قرضہ لیا ہے۔ یہ رقم پاکستان کی پوری تاریخ میں لیے گئے قرض کی تیس فیصدبنتی ہے۔ کچھ سنجیدہ حلقوں کے مطابق اگر اسی شرح سے قرضے جاری رہے تو 2025ء تک یہ رقم 43 ٹریلین روپوں سے تجاوز کرجائے گی اور یہاں ریاست لازمی خدمات سرانجام دینے سے بھی قاصر رہے گی۔
گزشتہ تین سالوں سے پوری مملکت کا سارا زو ر چین کی ممکنہ 46 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری پر ہے۔ ریاست کی مکمل توجہ کا مرکز صرف چین کی سرمایہ کاری ہے۔ یہاں کوئی بم دھماکہ ہو جائے یا پھر بچوں کے گلے کاٹے جائیں حکمران بے شرمی سے یہ کہتے نہیں تھکتے کہ یہ سب سی پیک کو ناکام کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ 46 بلین ڈالر سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ اب 55 بلین ڈالر کا ہوچکا ہے۔ حالانکہ جتنا شور کیا جارہا ہے یہ رقم حقیقت میں اتنی بڑی بھی نہیں۔ لیکن یہاں بسنے والے چوروں کے ٹولوں اور مسلح ٹھیکیداروں و کمیشن ایجنٹوں کے لئے یہ رقم ایک خاص حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے اور وہ بھوکے گِدھوں کی طرح اس سارے سرمائے کو اکیلے ہڑپنے کی تگ و دو میں جٹھے ہوئے ہیں۔ اپنی جیبوں کو گرم کرنے کی کوششوں میں جٹھے یہ حضرات اس بات سے بے خبر ہونے کا مسلسل ناٹک کررہے ہیں کہ کوئی سرمایہ کاری نہیں بلکہ ایک بھاری قرضہ ہے۔ شاید ہی اتنا بڑا قرضہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی لیا گیا ہو۔ جن روپوں کو سرمایہ کاری کہا جارہا ہے وہ حقیقت میں ایک ایسا قرضہ ہے جس پر Libor اور Sinosure سمیت تمام تر مارکیٹ کے قوانین لاگو ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اس منصوبے کی تمام تر سیکیورٹی پر ہونے والے اخراجات کا بوجھ عوام پر ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جوکہ آنے والے دنوں میں منظر عام پر آجائے گا اور بجلی کے بلوں کے ذریعے ایک خاص ٹیکس کی مد میں وصول کئے جائیں گے۔ چین کی جانب سے یہاں کی جانے والی تمام تر ’’سرمایہ کاری ‘‘ یہاں کسی طور بھی بہتری لانے کے بجائے عوامی استحصال کا باعث ہی بنے گی۔ یہاں تک کہ جو بجلی بنائی بھی جائے گی وہ مہنگی ہونے کے سبب عوامی دسترس سے باہر ہوگی۔ دوسری جانب جو چینی مصنوعات یہاں سے گزرتی عالمی منڈی میں جائیں گی وہ یہاں بڑے پیمانے پر سمگل ہونگی جس کی بدولت منڈی میں شدید بگاڑ پیدا ہوجائے گا۔ چین کی جانب سے آنے والا یہ سرمایہ جہاں ایک طرف انفراسٹرکچر میں تھوڑی بہت ترقی کا باعث بنے گا وہیں اس سرمائے کے سود تلے عوام غرق ہوتے چلے جائیں گے۔
ملکی سیاست پر بھی آج اسی سرمائے کی دھونس ہے اور چاروں اطراف سے ہر سیاسی پارٹی اپنے حصے کے حصول کے لیے مسلسل چمچہ گیری پر اتر آئی ہے۔ حال ہی میں ریاستی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات بھی اس مال کو اکیلے ہڑپنے کی کوشش سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف بنائی گئی تمام تر پالیسیوں اور ریاستی اخراجات کے باوجود بھی اس کی ناکامی کا اظہار خود سپریم کورٹ کی حالیہ رپورٹ میں کیا جاچکاہے۔ یہاں ہر کوئی اس بات سے واقف ہے کہ ریاست کے تمام تر فیصلے کون سی قوتیں کرتی ہیں اور حکومتیں محض کٹھ پتلیاں ہیں جن کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ آخری تجزیے میں یہ ریاست کے مجموعی بحران اور زوال کو چھپانے کی سازش سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔
اس تمام تر کیفیت میں یہاں کوئی ایسی سیاسی پارٹی موجود ہی نہیں جو حقیقی عوامی نمائندگی رکھتی ہو۔ تمام تر اسٹیبلشمینٹ کی پارٹیوں کو ہی مقدر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جہاں پنچاب میں ایک بار پھر آنے والے انتخابات کے لئے ق لیگ کو سرگرم کیا جارہا ہے وہاں سندھ میں ایم کیو ایم کے متبادل کے طور پر مصطفی کمال کو ابھارنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان تمام تر پارٹیوں کی کوئی عوامی بنیادیں موجود نہیں اور آخر کب تک ان کے ذریعے محنت کش عوام پر ظلم ڈھائے جاسکتے ہیں ؟ المیہ یہاں عوام کی روایتی پارٹی کا شرمناک کردار ہے۔ زرداری کی آمد سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی کہ شایدسیاسی طور پر کوئی بڑی تبدیلی رونما ہونے جارہی ہے لیکن جن مطالبات کا ذکر اس برسی کی تقریب میں کیا گیا وہ عوامی جذبات کے ساتھ کھلواڑ اور ریاست کی چمچہ گیری سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ زرداری کی حالیہ واپسی بھی بنیادی طور پرریاست سے ایک ڈیل ہی ہے جس کا مقصد آنے والے چند ماہ میں ملکی سیاسی سرکس میں اپنے کرتب دکھانہ ہوگا۔ پیپلزپارٹی آج اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اوراسکے پاس اپنے بنیادی منشور پر واپسی کے سوا اور کوئی راہ نجات موجود ہی نہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات واضح ہے کہ چوروں کے اس ٹولے کے گرد کوئی حقیقی تبدیلی لائی ہی نہیں جاسکتی نہ ہی پارٹی کو منشور پر راغب کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارٹی کے اندر اس دھوکے بازی اور غداری کے خلاف ایک لڑائی لڑی جائے۔
روایت کی مسلسل غداریوں اور شدید ہوتے ہوئے معاشی حملے محنت کشوں کی زندگیوں کو اندھیرے میں غرق کرتے جارہے ہیں۔ سماجی افق پر کسی قسم کی کوئی ہلچل موجود نہیں۔ عوام کو مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اب ان کا استحصال ہی مقدر ہے۔ لیکن دوسری جانب سطح کے نیچے ایک تحریک کا جنم ہورہا ہے۔ آج جہاں ایک طرف مزید سماجی بدحالی اور بربادی اس نظام کا تناظر بنتا ہے وہاں محنت کشوں کی تحریک اور انقلابی صورتحال کے ابھرنے کے امکانات کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا۔ عوام میں پلتے اس غصے کو اگر مارکسی نظریات سے لیس قیادت میسر آجائے تو نہ صرف ان حملوں کے خلاف ایک لڑائی کا آغاز کیا جاسکتا ہے بلکہ اسے جیتا جاسکتا ہے۔