دادو: انقلابی شاعر لیاقت علی لیاقت کے ساتھ ادبی محفل اور مشاعرہ
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند ادب تخلیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خلا رجعت اور بنیاد پرستی نے پُر کیا ہے جس کی وجہ سے سماج کے اندر ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند ادب تخلیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خلا رجعت اور بنیاد پرستی نے پُر کیا ہے جس کی وجہ سے سماج کے اندر ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
ہم مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو کسی صورت اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس پر امن خطے کو شام یا افغانستان بنائیں۔
جے کے این ایس ایف، جے کے ایل ایف، جے کے ایس ایل ایف، جے کے نیپ،این ایس ایف، پاکستان پیپلز پارٹی ، پی ایس ایف، ایس ایل ایف(آزاد)، جے کے پی این پی، سروراجیہ انقلابی پارٹی کی قیادت نے شرکت کی۔
کامریڈ نذر مینگل نے صدارتی خطاب میں حکمرانوں کی پالیسوں اور سرمایہ داری کی وحشت کو بے نقاب کیا اور محنت کشوں کو پیغام دیا کہ آج بھی ہمارے پاس سوشلسٹ انقلاب کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور ہم اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا محنت کشوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دارانہ کے خلاف قتل عام کا مقدمہ چلایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
ہماری پر امن جدوجہد کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اسکول ایک ہی سیشن پر مشتمل تھا جس کا ایجنڈا ’’برصغیر کی تقسیم اور کشمیر کی موجودہ صورتحال‘‘ تھا۔
پاکستا ن ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے زیراہتمام بالشویک انقلاب کی 99 سالگرہ کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد جناح ہال میں کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں محنت کشوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
سیمینار میں ’’پاکستان میں محنت کشوں کی تحریک کے تناظر‘‘ پر بحث کی گئی جبکہ بالشویک انقلاب کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
بالشویک انقلاب کی 99ویں سالگرہ کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد پاک ٹی ہاؤس میں کیا گیا جس میں طلبہ، محنت کشوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔
پوسٹ گریجویٹ کالج ہال میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نومنتخب یونٹ کی حلف برداری بھی کی گئی۔
سٹاف کالونی الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اور بیروزگار نوجوان تحریک کی طرف سے بالشویک انقلاب کی 99ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ آج دنیا جس بربریت، وہشت، مذہبی جنونیت، ریاستی دہشت گردی، بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے اُس سے نکلنے کا واحد حل سوشلسٹ انقلاب میں پنہاں ہے۔
بالشویک انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ٹھٹہ اور بٹھورو میں سیمینار اور لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔
آصف رشید نے بحث کو سمیٹتے ہوئے انقلابی پارٹی کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔