| رپوٹ: رمضان علی |
مورخہ 20 نومبر 2016ء کو بروز اتوار 12:00 بجے سیالکوٹ میں پاکستا ن ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے زیراہتمام بالشویک انقلاب کی 99 سالگرہ کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد جناح ہال میں کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں محنت کشوں اور نوجوانوں نے شرکت کی۔ سیمینار میں فاروڈگیئر یونین، انور خواجہ، سرجی کیئر، پنجاب ٹیچر یونین، پروفیسرز اینڈر لکچرارز یونین، سیالکوٹ بار ہال، ڈسکہ بارہال، ٹاٹا سپورٹس، علی ٹریڈنگ، تاج محل فیکٹری سے نمائندگان نے خصوصی شرکت کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض بابر پطرس نے سرانجام دیئے۔ مہمان خصوصی PTUDC کے انٹرنیشنل سیکرٹری کامریڈ لال خان تھے۔
سیمینار کا باقاعدہ آغاز کامریڈ احسن نے انقلابی ترانہ گا کر کیا۔ ان کے بعد ماجد، حسیب، ناصر بٹ، رمضان اور ایاز نے انقلابی ترانے اور نظمیں پڑھیں۔ کامریڈ رمضان نے بالشویزم پر بات رکھتے ہوئے اکتوبر انقلاب کی حاصلات پر بات روشنی ڈالی۔ عمر شاہد نے موجود حالات پر بات کرتے ہوئے محنت کشوں کو درپیش مسائل کا تذکرہ کیا اور کہا کہ محنت کشوں کی زندگیوں کو اس نظام میں کسی طور پر بہتر نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بعد عمر رشید نے بھی بحث کو آگے بڑھایا اور کہا کہ اکتوبر انقلاب ایک ایسا واقعہ تھا جسے کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا، انہوں نے بالشویک انقلاب کی تاریخ، حاصلات اور زوال پزیری پر بات رکھی۔ ناصر بٹ، ابوزر اور وحید بخاری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جس نام نہاد آزادی کو ہم پر مسلط کیا گیا ہے اس آزادی سے محنت کشوں اور غریبوں کا کوئی تعلق نہیں، ہم جس آزادی کی بات کر رہے ہیں و ہی اصل آزادی ہوگی اور محنت کشوں کی اس آزادی کا نام سوشلسٹ انقلاب ہے۔ اس کے بعد فارورڈگیئر یونین کے صدر محمد علی بٹ نے فیکٹریوں میں محنت کشوں پر ہونے والے مظالم پر بات رکھی اور مزدور یونین پر پابندیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کے جب بھی کسی فیکٹری میں یونین بنانے کی درخوست محکمہ محنت کو جاتی ہے اسی دن محکمہ متعلقہ فیکٹری کے مالکان کو آگاہ کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں ان محنت کشوں کو فیکٹری سے نکال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔ اسکے بعد کامریڈ لال خان نے بالشویک انقلاب پر تفصیل سے بات کی جس میں انہوں نے انقلاب کی حاصلات اور سوویت یونین کے انہدام پر روشنی ڈالی، انہوں نے بالشویک پارٹی کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس انقلابی پارٹی نے اکتوبر انقلاب میں اپنا کردار ادا کیا، اسکے بعد پاکستان میں 1968-69ء کے انقلاب پر بات کی اور بتایا کے کیوں ایک بالشویک پارٹی کی عدم موجودگی میں وہ انقلاب پورا نہ وہ سکا، اانہوں نے کہا کہ آج کسی سیاسی جماعت کے پاس محنت کشوں کے حالات کو بدلنے کا کوئی منشور اور پروگرام نہیں ہے، اس حکمران سیاست میں محنت کش طبقے کی عدم دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ حکمرانوں کے ان تماشوں کو رد کر چکے ہیں اور ایک انقلابی تحریک میں اٹھ کر اس نظام کا خاتمہ کر کے دم لیں گے جس کے لئے قیادت ہمیں آج تیار کرنا ہو گی۔ سیمینار کا باقاعدہ اختتام انٹرنیشنل گا کر کیا گیا۔























