ایم کیو ایم: دوست ہوئے دشمن!
موجودہ ریاستی کاروائی اس کے وجود کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ اس کو تبدیل اور پھر سے تابع کرنے کی کاوش ہے۔
موجودہ ریاستی کاروائی اس کے وجود کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ اس کو تبدیل اور پھر سے تابع کرنے کی کاوش ہے۔
جہاں زندہ انسانوں کو معاشی اور سیاسی طور پر درگور کیا جا رہا ہے وہاں تاریخی ورثے کے تحفظ کا سوال تو اس نظام میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔
حقوق پیسوں سے اگر ملیں تو پھر اس معاشرے کو فلاحی تو درکنار انسانی معاشرہ کہنا بھی محال ہو جاتا ہے۔
کسی بھی تحریک کی حمایت میں مودی جیسے درندہ صفت حکمران کی لفاظی اسے مجروح اور بدنام ہی کر سکتی ہے۔ یہ لہو میں زہر فشانی کے مترادف ہے۔
دہشت گردی، جرائم، جنسی تشدد، قتل و غارت، استحصال وغیرہ، یہ سب کوئی الگ الگ مظاہر نہیں ہیں بلکہ اس گراوٹ، اذیت اور وحشت کے مختلف اظہار ہیں جس کا شکار یہ معاشرہ ہو چکا ہے۔
’عرب انقلاب‘ سے پیشتر پورے خطے میں 12 سے 15 فیصد بے روزگاری تھی۔ اس انقلاب کی پسپائی کے بعد اب یہ شرح 25 سے 30 فیصد ہوچکی ہے۔
فوجی آپریشنوں کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے میں ناکامی ہوئی ہے اور ریاستی جبر کا سب سے زیادہ شکار عام لوگ ہی ہو رہے ہیں۔
اربوں کھربوں کی دولت کے انبار لگانے والے بھی پاکستانی ہیں اور سعودی عرب کے سڑکوں پر پڑے کئی دن کے بھوکے محنت کش بھی پاکستانی ہی کہلاتے ہیں۔
پچھلے مالی سال میں وفاقی حکومت نے 2.1 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے جو روزانہ اوسطاً 5.7 اَرب روپے بنتے ہیں۔
سرمایہ داری کی سیاست، سفارت اور معیشت میں مسئلہ فلسطین کا کوئی حل موجود ہی نہیں ہے۔
محنت کش طبقے کے ان گنت گمنام شہیدوں کو ان کی زندگی اور موت سے بھرپور جدوجہد کا صلہ اس جدوجہد کا حصہ بن کر ہی دیا جا سکتا ہے۔
تمام تر نظریاتی کمزوری کے باوجود معراج محمد خان اس سرمائے کی سیاست کے کوئی روایتی سیاستدان نہیں تھے بلکہ ایک بہادر اور بے لوث سیاسی کارکن تھے۔
اردگان کی کیفیت درحقیقت ضیاالحق کے آخری دنوں سے مماثل ہے جب وہ مادی حقائق سے یکسر کٹ کے افغانستان اور وسط ایشیا میں بھی اپنی ’خلافت‘ کے خواب دیکھنے لگا تھا اور اپنے امریکی آقاؤں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔
وانی کی ہلاکت درحقیقت ایک ایسا واقعہ تھا جس نے قومی، معاشی اور سماجی جبر کے خلاف عام کشمیریوں کی مجتمع شدہ نفرت کے بارود کو آگ لگا دینے والی چنگاری کا کام کیا۔
اس جنگ کے دوران لاکھوں بے گناہوں کو لقمہ اجل بھی بنا دیا گیا۔ لہو کے دریا بہائے گئے۔ اسلحے سے لے کر تیل تک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور امریکی جرنیلوں نے سینکڑوں ارب ڈالر کمائے۔