ترکی: ناکام فوجی بغاوت کے مضمرات

| تحریر: لال خان |

پچھلے ہفتے ترکی میں فوج کے ایک دھڑے کی جانب سے ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کو کارپوریٹ میں میڈیا میں اس طرح پیش کیا جارہا ہے کہ اسے ’عوام‘ نے ’جمہوریت کے دفاع‘ میں سرکشی کرکے ناکام بنایا اور اردگان کی حکومت کو بچا لیا۔ سوموار تک اصل صورتحال کے بارے میں ابھی تک ابہام موجود تھا باوجودیکہ ترک حکومت اور پارلیمانی پارٹیاں دعویٰ کر رہے تھے کہ حالات معمول پر آگئے ہیں۔ واقعات کے اس انداز میں پیش کئے جانے کو پوری دنیا میں لوگوں کی اکثریت نے قبول کر لیا ہے۔ تاہم اصل کہانی اتنی سادہ بھی نہیں ہے۔

turkey-coup-failure
بغاوت کی ناکامی کے بعد اردگان مزید جبر کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

فوجی بغاوت کے وقت سے بہت سی قیاس آرائیاں اور ابہام موجود ہیں اور مختلف مکتبہ ہائے فکر کے لوگ بہت سی سازشی تھیوریاں پیش کر رہے ہیں اور کچھ تو یہاں تک بھی گئے ہیں کہ یہ فوجی بغاوت اردگان نے فوج کے باغی عناصر سے جان چھڑانے کے لیے خود کروائی ہے۔ 17 جولائی کے گارڈین میں لکھا ہے، ’’فوجی بغاوت کے منصوبہ ساز ابھی تک غیر واضح ہیں اور ہمیشہ کی طرح ترکی میں سازشی تھیوریاں بکثرت موجود ہیں۔ حکومت نے الزام امریکہ میں مقیم اسلامی سکالر فتح اللہ گولن پر لگایا ہے، جس پر اردگان نے دسمبر 2013ء میں ایک کرپشن سکینڈل کے ذریعے اس کی حکومت کا تختہ الٹنے کا الزام لگایا تھا۔ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کام اردگان نے خود کیا ہے تاکہ فوج کو قطعی طور پر کچل کر اپنی کرسی کو مضبوط کرے۔ اس نظریے کی رو سے اپنے آپ کو ملک کی عوامی حکومت کا محافظ ثابت کرکے اردگان کے پاس اب مستقبل کی آمرانہ حکومت کے لیے ایک ٹھوس جواز ہاتھ آگیا ہے کیونکہ فوجی بغاوت اس کے حمایتیوں کے اس کی آواز پر لبیک کہہ کر سڑکوں پر آنے کے بعد ناکام ہوئی‘‘۔
یہ بات درست ہے کہ چند ہزار لوگوں کو مختلف شہروں میں ٹیلی وژن سکرینوں پر سڑکوں پر دکھایا گیا لیکن وہاں قطعاً لاکھوں لوگ نہیں تھے جیسا کہ 2011ء میں عرب انقلاب کے دوران مصر، تیونس اور خطے کے دوسرے ملکوں میں ہوا تھا۔ یہ بات سچ ہے کہ اس ہجوم کی مداخلت اور رکاوٹ نے فوجی بغاوت کی کامیابی میں روڑے اٹکائے لیکن یہ ناکامی کی حتمی وجہ نہیں تھی۔ اس ہجوم کی اکثریت اردگان کے حمایتیوں کی تھی اور ترک سماج کی پسماندہ پرتوں میں اس کی کسی حد تک حمایت موجود ہے۔ بنیادپرست صدر کے وفادار مذہبی رہنماؤں نے بھی پہلی دفعہ مسجدوں کے نیٹ ورک اور لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے عوام کو ’جہاد‘ کے لیے سڑکوں پر آنے کی تلقین کی۔ لیکن حتمی طور پر فوج کی بالائی پرت کے حاوی دھڑے نے اس بغاوت کو ناکام بنایاجو اردگان کے حواری اور موجودہ حکومت کے شانہ بشانہ لوٹ مار اور بدعنوانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔
لینن نے ایک دفعہ کہا تھا کہ کچھ مخصوص واقعات، بالخصوص پسماندہ سماجوں میں، انقلابات اور عوامی تحریکوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس طرح کی عوامی تحریکوں میں ترقی پسند رجحانات رجعتی رجحانات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ فوج کے متحارب دھڑوں کے درمیان جھڑپوں کے علاوہ استنبول اور دوسرے شہروں میں بھی فوجی بغاوت کے حمایتیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن ان واقعات کو بعض چینلوں میں معمولی کوریج دی گئی۔ اردگان کے حمایتیوں کی ریلیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف مظاہرے اور احتجاج بھی ہوئے جن پر آنسو گیس اور واٹر کینن کے ذریعے ریاستی حملے کیے گئے۔
لیکن بہت سے لوگ صرف اس فوجی بغاوت کی مخالفت میں باہر نکل آئے اور وہ قطعاً حکومت کی حمایت نہیں کر رہے تھے جو دن بہ دن سیاسی، معاشی اور ثقافتی طور پر جابر ہوتی جا رہی ہے۔ تاہم فوجی بغاوت کی ناکامی کی زیادہ معقول وجہ ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ مسلح افواج میں موجود داخلی تضادات ہیں جو کافی عرصہ سے چل رہے تھے۔ یہ سابقہ نوآبادیاتی ممالک میں 1950ء، 60ء اور 70ء کی دہائی میں ہونے والی فوجی بغاوتوں سے زیادہ مماثلت رکھتی تھی۔ تاہم ناقص منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ کُو کرنے والے فوج کی ’چین آف کمانڈ‘ کو بھی توڑنے میں ناکام رہے۔ فوجی بغاوت کی وجوہات اور باغیوں کے اغراض و مقاصد مبہم ہیں۔ کئی سالوں سے ترکی میں اردگان کی کرپٹ اور جابر حکومت کے خلاف متواتر مظاہرے اور احتجاج ہورہے تھے اور اردگان انتہائی جابرانہ طریقے سے اپنے فیصلے لاگو کر رہا تھا۔ بورژوا میڈیا اردگان کی اسلامی بنیادپرستی اور ترک فوج کی سیکولر بنیادوں کے درمیان تضادات کی بات کر رہا ہے۔ درحقیقت یہ اس تنازعے کا ایک معمولی حصہ ہے۔ ترک فوج کی نام نہاد سیکولر روایات اور اردگان کی اسلامی بنیادپرستی، دونوں رجحانات اِس نظام کے معاشی اور سیاسی بحرانات میں الجھے ہوئے ہیں جو ایک صحت مند سرمایہ دارانہ سماج قائم کرنے میں ناکام ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ سماجی اور معاشی ’ترقی‘ درحقیقت سماجی تضادات کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ ترقی کی اس غیر ہموار اور مشترک کیفیت نے سماج اور فوج میں نئے تضادات کو جنم دیا ہے۔
داعش اور دوسرے بنیاد پرست گروہوں کے بطور پراکسی استعمال میں ترک ریاست کے کردار، ترقی یافتہ یورپی معیشتوں کی نسبت اس کی پسماندگی اور ساتھ ہی سامراجی عزائم نے ریاست اور فوج کے مختلف دھڑوں کے اندر تضادات کو مزید شدید کر دیا ہے۔ نیویارک پوسٹ کے ایک مضمون میں اس کیفیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے، ’’وزیر اعظم سے صدر بننے والا رجب طیب اردگان اب ایک آمر بن گیا ہے۔ وہ حماس، القاعدہ سے منسلک نصرہ فرنٹ اور حتیٰ کہ داعش کی بھی حمایت کرتا ہے۔ کچھ حکومتوں کا خیال ہے کہ بنیاد پرست تنظیموں کی حمایت کم مدتی مقاصد پورے کرسکتی ہے لیکن طویل مدت میں اس کی بڑی قیمت چکانی ہوگی۔ پچھلے سال انقرہ اور استنبول میں ہونے والے دھماکوں نے اردگان کے ٹولے سے باہر کے لوگوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کا وقت پورا ہوچکا ہے‘‘۔ فوجی حکمت عملی کے معاملات سے قطع نظر، اردگان کی جانب سے ’نان سٹیٹ ایکٹرز‘ کی حمایت، مالیاتی خرد برد، اقربا پروری، بد عنوانی اور لوٹ مار میں سے بعض ریاستی دھڑوں کو مطلوبہ حصہ نہ ملنا بھی بغاوت کی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

erdogan_isis1
اردگان حکومت داعش کو اپنے سامراجی مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہی ہے۔

داعش کی حمایت، کردوں کے خلاف وحشیانہ فوجی جارحیت، گرتی ہوئی معاشی شرح نمو، مہنگائی، معاشی نابرابری اور اردگان کا سلطنت عثمانیہ کے سلطان بننے کا خواب کم ازکم سماج کی ترقی یافتہ پرتوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ٹریڈ یونینز پر جبر، احتجاجی مظاہروں کو وحشیانہ طریقے سے کچلنا اور ریاستی دہشت گردی کا بے دریغ استعمال اس بے چینی کی وجوہات ہیں جس کی سرائیت فوج اور بالخصوص اس کی درمیانی اور نچلی پرتوں میں ناگزیر ہے۔ باغیوں کے مقاصد جو بھی ہوں ترکی میں، جہاں پہلے بھی چار فوجی بغاوتیں ہوچکی ہوں، ایک نئی جابر فوجی آمریت کی کوئی باشعورانسان حمایت کبھی بھی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس طرح کی حکومت محروم و محکوم عوام کے مسائل کو حل کرسکتی ہے۔ لیکن فوجی بغاوت کی مذمت کرنا ایک بات ہے اور اردگان حکومت کو ’جمہوری‘قرار دینا نہ صرف احمقانہ بلکہ مجرمانہ عمل ہے۔ میڈیا اردگان کو اس سارے عمل میں جمہوری ہیرو بنانے کی ناکام کرشش کررہا ہے۔
چھٹیوں سے سیر سپاٹے کے بعد جب اردگان استنبول پہنچا تو وہ خاصا مشتعل تھا اور انتقام لینے اور اپنی آمرانہ حکومت کو مزید مضبوط کرنے کی بات کر رہا تھا۔ ’’ان کو اس کی قیمت چکانی ہوگی۔ یہ فوجی بغاوت خدا کی طرف سے ہمارے لیے ایک تحفہ ہے تاکہ ہم اپنی فوج کی تطہیر کر سکیں‘‘۔ اس سے پہلے عدالتی حکام نے بتایا کہ اس فوجی بغاوت کے بعد تین ہزار کے لگ بھگ ججوں کو برخاست کیا جائے گا۔ ایک وزیر نے کہا کہ فوجی جرنیلوں کو باغیوں نے یرغمال بنا لیاتھا۔ ہفتے کی شام تک بھی بعض جگہوں پر باغیوں کی کاروائیاں جاری تھیں لیکن حکومت کا دعویٰ تھا کہ حالات قابو میں ہے۔ تقریباً تین سو فوجی ہلاک اور اس سے زیادہ زخمی ہوچکے ہیں۔ چھ ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سپاہیوں سے لے کر اعلیٰ افسران بھی شامل تھے۔
اردگان ’خدا کے تحفے‘ سے صرف فوج کی تطہیر نہیں کرے گا۔ ایک ریاستی فوج کی کس حد تک تطہیر ممکن ہے؟ اردگان کے اندرونی حلقے سے تعلق رکھنے والے چند افسران پر بھی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ یہ اس کے قریبی مشاوراور قابل اعتبار لوگ تھے۔ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ان کی جگہ نئے تعینات ہونے والے فوجی افسران ہمیشہ کے لیے وفادار ہوں گے۔ فوجی بغاوت کو جنم دینے والی وجوہات اپنی جگہ موجود رہیں گی۔ یہ وجوہات ریاست اور نظام میں موجود ہیں جو ترکی میں زوال کی کیفیت میں ہے۔ فتح اللہ گولن، جسے اردگان اس فوجی بغاوت کا سرغنہ قرار دیتا ہے، ایک وقت میں اس کا قریبی اتحادی تھا۔ اب وہ اس کا شدید دشمن ہے۔ تاہم اردگان خود پچھلے چند سالوں میں انتہائی آمرانہ طرز عمل اختیار کر چکا ہے۔ اس نے اپنے حکومتی احباب، اپنے ہی تعینات کیے ہوئے اعلیٰ عہدیداروں اور حتیٰ کہ اپنے وفاداروں کو بھی فارغ کیا ہے۔ اپنی شخصی آمریت کو مضبوط کرنے کے لیے وہ اس ناکام فوجی بغاوت کو استعمال کرے گا۔ ترکی سے متعلق تجزیہ نگار انڈریوفنکل نے لکھا ہے، ’’بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ ترکی پہلے سے ہی ایک سست رفتار بغاوت کی زد میں تھا، فوج کی قیادت میں نہیں بلکہ خود اردگان کی قیادت میں۔ پچھلے تین سالوں سے وہ ایک خاص طریقے سے طاقت کے سرچشموں پر قبضہ کر رہا تھا‘‘۔
اردگان اور اس کی جسٹس اینڈ ڈولیپمنٹ پارٹی (AKP) کا ابھار بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ ترکی کے حکمران طبقات ایک جدید صنعتی معاشرہ بنانے اور قومی جمہوری انقلاب کے فرائض انجام دینے میں ناکام رہیہیں۔ سماجی اور معاشی حالات میں زوال سے ترکی کا سیکولرازم بھی ہوا ہوگیا ہے۔ اردگان کی حکومت کے پہلے نو سالوں میں خواتین کے قتل کی شرح میں 1400 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اس روز افزوں مردانہ بالادستی کے سماج میں اسلامی بنیادپرست اور قدامت پسند مردانہ شاونسٹ دھڑلے سے غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل کر رہے ہیں۔ 2002ء میں حکومت میں آنے کے بعد اردگان نے بیوروکریسی اور ریاست کے اداروں میں ہر حد تک دخل اندازی کی ہے۔ یہ بالکل ویسا ہی تھا جیسے جماعت اسلامی نے ضیاالحق کے گیارہ سالہ تاریک دور میں پاکستان میں کیا اور اس نفرت انگیز اور رجعتی عمل کے نتائج آج بھی ہمیں بنیاد پرستی، رجعت، قدامت پرستی، دہشت گردی اور پراگندگی کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ترکی میں AKP کی حکومت نے تعلیمی نصاب میں رجعت اور مذہبی انتہاپسندی کو شامل کیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے شعور کو بھی پراگندہ کیا جا سکے۔ بنیاد پرست رجحان رکھنے والوں کو مواقع دئیے جا رہے ہیں کہ وہ سائنسی علم اور قابلیت کے بغیر ہی ملک کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سکالرشپ لے کر گھسیں اور مراعات حاصل کرکے اہم پوزیشنوں اور عہدوں پر آئیں۔ ہندوستان میں بی جے پی کی حکومت بھی نظام تعلیم اور نصاب کے ساتھ وہی کر رہی ہے جو ترکی میں AKP اور پختونخوا میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف والے کر رہے ہیں۔ اردگان اور اس کے خاندان نے اخبارات اور ٹی وی سٹیشنوں پر تسلط قائم کیا ہے اور انہیں مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ تعصب پھیلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ یہ چند حقائق ترکی میں سرمایہ داری کے تحت کمال اتاترک کے سیکولر انقلاب کی تاریخی ناکامی کو واضح کرتے ہیں۔ مصطفی کمال پاشا دراصل ایک ’سیکولر جمہوری آمر‘ تھا۔
ترک کمیونسٹ پارٹی باکو (سوویت یونین) میں 1919ء میں قائم ہوئی۔ ترکی میں اس وقت پہلے سے ہی جنگِ آزادی چل رہی تھی اور ایک بورژوا انقلاب کی طرف بڑھ رہی تھی جس کی قیادت منتشر عثمانی فوج(جسے پہلی جنگ عظیم میں شکست ہوگئی تھی اور فاتحین نے انہیں غیر مسلح کردیا تھا) کے ینگ آفیسرز کررہے تھے۔ ترک کمیونسٹوں کی جنگ آزادی میں مداخلت اور نئی ترک ریاست کے قیام کے عمل میں شرکت کی پہلی کوشش جان لیوا ثابت ہوئی۔ جنوری 1921ء میں ترکی کے شمال مشرقی شہر تربزن میں ترک سرزمین میں داخل ہونے پر ہی کمیونسٹ پارٹی کی تقریباً پوری قیادت کو ختم کردیا گیا۔ انہی مہینوں کے دوران انقرہ میں نیشنل اسمبلی کا لیڈر (اور ریگولر فوج کا کمانڈر ان چیف) مصطفی کمال کسانوں کی گوریلا فوج کو ختم کرنے میں مصروف تھا جو اس کی حکومت سے آزادانہ طور پر قائم ہوئی تھی تاکہ یونانی قبضہ گیروں اور ان کے مقامی گماشتہ جاگیر داروں کے خلاف لڑ سکے۔

TKP protest against Erdogan
2013 کی اردگان مخالف تحریک میں کمیونسٹوں نے ہراول کردار ادا کیا تھا۔

تمام تر وحشیانہ جبر، قیادت کی نظریاتی غداریوں اور غلطیوں کے باوجود پچھلی ایک صدی سے ترکی میں کمیونسٹ اور بائیں بازو کی قوتیں اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دانشور حلقے فوجی بغاوتوں اور سویلین جمہوری حکومت کے بارے میں تو بات کرتے ہیں لیکن کارپوریٹ میڈیا جس چیز کی بات نہیں کرتا وہ ترکی کے محنت کشوں کی طبقاتی جدوجہد کی درخشاں تاریخ اور مزدوروں اور نوجوانوں کی بائیں بازو کی تحریکیں ہیں۔ فوجی آمریتوں اور جمہوری حکومتوں کا ہدف ہمیشہ بایاں بازو، ٹریڈ یونین اور کمیونسٹ تحریکیں رہی ہیں۔ حتیٰ کہ 2013ء کی غیزی پارک کی تحریک اور اردگان کے خلاف ابھرنے والی مختلف تحریکوں میں ہمیشہ کمیونسٹ اور ٹریڈ یونین کے کارکنان ہی پیش پیش رہے ہیں۔ حکومت اور ریاست مخالف مظاہروں اور ریلیوں میں ہمیشہ ہتھوڑا درانتی والے سرخ جھنڈے نمایاں رہے ہیں۔
اگرچہ اردگان کو ’مرد آہن‘ اور ایک مقبول رہنما کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے لیکن فوجی بغاوت کی ناکامی اس کے لئے انتہائی نحیف فتح ہے۔ اس کی جانب سے فوج کی تطہیر کی کوشش سے شدید ردعمل سامنے آئے گاجیساکہ تاریخ میں اکثر دیکھا گیا ہے۔ رائے عامہ کے اکثر تجزیوں کے مطابق ترکی میں پچاس فیصد سے زائد لوگ اس کے خلاف ہیں۔ اس کا جبر اور روزافزوں وحشیانہ آمریت ناگزیر طور پر ماضی کی تحریکوں کی نسبت کہیں زیادہ بڑی عوامی بغاوت کو جنم دیں گے۔ اردگان حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والے زیادہ تر شہری علاقوں کے محنت کش اور نوجوان ہیں۔ اس حکومت کے اسلامی بنیادپرستی اور قدامت پرستی کے جبر سے ترک سماج کی باشعور پرتوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔ پہلے سے ہی معیشت چند سال پہلے کی 7 فیصد کی شرح نمو سے گر کر 3.8 فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اس سے محرومی اور غربت اور بڑھے گی۔ اپنے اقتدار کے پاگل پن میں اردگان اپنے آقاؤں، یعنی امریکہ اور نیٹو، کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔ اردگان کی کیفیت درحقیقت ضیاالحق کے آخری دنوں سے مماثل ہے جب وہ مادی حقائق سے یکسر کٹ کے افغانستان اور وسط ایشیا میں بھی اپنی ’خلافت‘ کے خواب دیکھنے لگا تھا اور اپنے امریکی آقاؤں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔ عین ممکن ہے اس کا انجام بھی ضیاالحق سے مماثل ہو۔
اردگان اس وقت نیٹوکے فوجی اڈوں کو بند کرنے کی باتیں کر رہا ہے اور ان پر فتح اللہ گولن کو بچانے کا الزام لگا رہاہے (فتح اللہ گولن اس وقت امریکہ میں جلا وطن ہے)۔ امریکی اور یورپی حکمران صرف وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔ سامراج کے سنجیدہ تجزیہ نگار پہلے سے اس کا سر بڑا ہونے کی باتیں کر رہے ہیں۔ سامراجی پالیسی سازوں کے نزدیک اردگان اب ایک اثاثے کی بجائے بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ لیکن مسئلہ صرف اردگان کو ہٹانے کا نہیں ہے۔ اس بوسیدہ نظام کو اس طرح کے ’جمہوری‘ یا فوجی آمروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن واحد حقیقی قوت جو اس وحشیانہ اقتدار کو اکھاڑ سکتی ہے وہ ترک محنت کشوں کی ایک انقلابی تحریک ہے۔ گزشتہ عرصے میں کئی تحریکیں ابھریں لیکن وہ محدود اور الگ تھلگ تھیں۔ جہاں فوجی حکومتوں نے ترک محنت کشوں پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے ہیں، وہیں جمہوری حکومتوں نے اردگان کی آمریت کی شکل اختیار کی ہے جس نے محنت کشوں اور غریبوں کے استحصال اور محرومی میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ سرمایہ داری کے تحت مستقبل بھی خوش آئند نہیں ہے۔ لیبیا اور یمن کی طرح ترکی کے نواح میں بھی عراق اور شام کی ریاستیں کم و بیش منہدم ہیں اور ایسے میں ترکی میں بھی استحکام ممکن نہیں ہے۔ ان حالات میں بائیں بازو اور کمیونسٹ قوتوں کا کردار انتہائی اہم ہے کہ وہ ایک متبادل مارکسی انقلابی قوت تعمیر کریں۔ جب ترکی کے محنت کش اور نوجوان جدوجہد کے میدان میں اتریں گے تو ایک انقلابی کیفیت تیزی سے جنم لے گی۔ ایک مارکسی قیادت کی موجودگی میں ایک سوشلسٹ تبدیلی ترکی میں بالکل مادی حقیقت بن سکتی ہے۔ ترک عوام کے سامنے یہی ایک راستہ ہے۔ استنبول میں آبنائے باسفورس ایشیا اور یورپ کو جدا کرتا ہے۔ ترکی کا انقلاب دونوں خطوں میں طبقاتی جدوجہد کو جلا بخشے گا اور دونوں اطراف کے انقلابات کو جوڑتے ہوئے ایشیا اور یورپ کے محنت کشوں کو یکجا کرے گا۔