زوال میں کمال!
گول مول بیانات اور رویے ویسے بھی معاشرے میں ایک معمول بن گئے ہیں۔ کوئی بھی چیزتوسیدھی نہیں ہے، توپھر سید ھی بات یا سچی سیاست اس سماجی نظام میں ہو کیسے سکتی ہے۔
گول مول بیانات اور رویے ویسے بھی معاشرے میں ایک معمول بن گئے ہیں۔ کوئی بھی چیزتوسیدھی نہیں ہے، توپھر سید ھی بات یا سچی سیاست اس سماجی نظام میں ہو کیسے سکتی ہے۔
کافی عرصے سے یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ اسد کے اہم ترین اتحادی اس کی جگہ کسی دوسرے نسبتاً کم متنازع لیڈر کو لا سکتے ہیں۔ لیکن فی الوقت اس کا بر سر اقتدار رہنا ہی ان کے مفاد میں ہے۔
انسانی زندگی کی تباہ کاریوں کے خلاف مدافعت نہ صرف ٹیکنالوجی کے منافع خوری کے اصراف کی وجہ سے کمزور ہورہی ہے بلکہ اس سے آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہ سیارہ زندگانی کے لیے زیادہ ناگفتہ بہ ہورہا ہے۔
عوام کی سیاست کی نعرہ بازی فریب اور دھوکہ دہی بن جاتی ہے جب تک اس کو طبقاتی تضادات اور تصادم کی سائنسی سوچ اور نظریات کے تحت انقلابی سوشلزم سے نہ جوڑا جائے اور حتمی فتح تک نہ لڑا جائے۔
کاسترو کا شمار دوسری عالمی جنگ کے بعد کے سب سے مقبول سوشلسٹ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
پاکستان اور ہندوستان کے رجعتی میڈیا کی جانب سے تحریک پر ایک مذہبی اور متعصبانہ پردہ ڈالنے کی وارداتوں کے باوجود یہ تحریک آج بھی کسی مذہبی تعصب کی بجائے طبقاتی بنیادوں پر استوار ہے۔
ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے پر یورپ اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور سیاسی تضادات شدت اختیار کرسکتے ہیں۔
موجودہ بے یقینی کا عالم اس وجہ سے بھی پایا جاتا ہے کہ صرف چند دنوں میں چیف کی تبدیلی سے پیشتر کوئی ایسا دھماکہ، دہشت گردی کی واردات یا پھر کوئی بھاری واقعہ رونما ہوسکتا ہے جو فوجی مداخلت کروانے کا موجب بن سکتا ہے۔
کالے دھن کے آقاؤں کی کرپشن اور چوری نوٹوں کی مرہون منت ہوتی ہے نہ ہی اس طرح سے یہ ختم ہو سکتی ہے۔
اس منصوبے سے شاید عارضی طور پر ریاست اور نظام کو کچھ آسرا مل جائے لیکن لمبے عرصے میں تضادات شدید تر ہی ہوں گے۔ اس معاشی نظام میں پسے ہوئے عوام کے عذابوں میں کمی ممکن نہیں ہے۔
’’کوئی بالشویکوں کے بارے میں کیسی بھی رائے رکھے لیکن اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ انقلاب روس انسانی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں شامل ہے‘‘
تحریک انصاف ایک ایسا غبارہ ہے جس کی ہوا کئی بار نکلنے کے بعد ریاست اور میڈیا کے کچھ حصوں کی جانب سے دوبارہ بھرتی جاتی رہی ہے لیکن یہ عمل ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتا۔
ایسی کیفیات میں جھوٹ اور منافقت کا راج زوروں پر ہوتا ہے اور جن کے منہ سے حادثاتی طور پر بھی سچ نکل جائے وہ پہلا نشانہ بنتے ہیں۔
جب تک محنت کش طبقہ تاریخ کے میدان میں نہیں اترتا، یہ ریاستیں ان کو برباد کرتی رہیں گی۔
صرف نواز لیگ ہی نہیں، دولت کی اس مسلط کردہ سیاست کا ہر نمائندہ اس کے آگے بچھا جا رہا تھا۔