طلبہ سیاست کی تنزلی؟
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
رجعتی عناصر کی بھگت سنگھ سے نفرت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُس کی جدوجہد مقامی و غیر مقامی استحصالی طبقات کے خلاف برصغیر کے محنت کش عوام کے طبقاتی اتحاد پر مبنی تھی۔
یہ انتخابی نتائج آنے والے دنوں میں سیاسی عدم استحکام اور شدید طبقاتی جدوجہد کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔
عالمی سرمایہ داری کو اپنی شرح منافع بڑھانے یا برقرار رکھنے کے لیے جس سستی مگر ہنر مند محنت اور انفراسٹرکچر کی تلاش تھی، چین کا سماج اور محنت کی منڈی اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔
اتر پردیش کا اہم قصبہ ’’دیوبند‘‘، جہاں سے ایک بڑے مسلم فرقے کا جنم ہوا، وہاں مسلمانوں کا 70 فیصد سے زائد ووٹ تھا اور وہاں سے بھی بی جے پی نے ہی کامیابی حاصل کی۔
لینن نے انقلاب کے بعد لکھا کہ ’’خواتین مزدوروں کی حمایت اور شراکت کے بغیر یہ انقلاب اس طرح فتحیاب نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘
ان قومی اور مذہبی نفرتوں کے خلاف ایک حقیقی اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باوجود دہلی اور دوسرے شہروں میں طلبہ کے احتجاج پھٹ پڑے ہیں۔ یہ ہندوستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری طلبہ سیاست کے تحرک کا ہی تسلسل ہے۔
کروڑوں ’’نامعلوم‘‘ انسان انصاف کے ان مندروں کے ٹل بجا بجا کر،دروازے کھٹکا کھٹکا کر چلے جاتے ہیں لیکن زندگی بھر ان کو انصاف نہیں ملتا۔
اگر حکمرانوں کے مطابق پاکستان ایک ’آزاد‘ اور’خودمختیار‘ اوراب ’جمہوری‘ ملک ہے تو پھر اس کے ہرشہری کو اس کے کسی بھی خطے میں جانے، رہنے اورکام کرنے کا پوراحق حاصل ہے۔
1968-69ء میں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ایسی عوامی بغاوت ہوئی تھی جس کا کردار سوشلسٹ تھا۔ اسی برس پاکستان کی تاریخ میں معیشت کی سب سے زیادہ شرح نمو ہوئی تھی۔
سلام آباد میں بیٹھ کر داعش جیسی تنظیموں کی سر عام حمایت پر ریاست کا معمولی سا بھی رد عمل سامنے نہیں آتا۔ بلکہ وزرا اور ریاستی حکام ان کے ہولناک بیانات اور عام شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کی توجیحات گھڑتے نظر آتے ہیں۔
افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت اور حکمت یار کے بڑی حد تک خاموش گروپ کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کی رو سے حکمت یار کو ماضی کے تمام حملوں، دہشت گردی اور قتل عام سے عام معافی دیتے ہوئے اس کے مکمل ’’سیاسی حقوق‘‘ بحال کر دیے گئے ہیں۔
حکمرانوں کی ترقی محکوموں کی تنزلی بن جاتی ہے۔ امیر کی دولت غریب کی غربت میں اضافہ کرتی ہے۔
ہر دل کمار ان تمام پہچانوں کے علاوہ ایک مخلص اور سچا انسان بھی تھا۔ وہ واقعی ہردل تھا۔
ہندوستان اور پاکستان کا شمار فوجی ساز و سامان پر سب سے زیادہ اور تعلیم و علاج جیسی بنیادی سہولیات پر کم ترین ریاستی اخراجات کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔