قومیتی تضاد ابھارنے کی مکروہ کوشش

| تحریر: لا ل خان |

’معمول‘ کے ادوار میں معاشرے پرحاوی سوچ، ثقافت، قدریں اور اخلاقیات حکمران طبقات کے کرداراورمعیاروں پرہی مبنی ہوتی ہیں۔ ان حالات میں سیاست پر انہی کے نظریات ہی حاوی ہوتے ہیں اوربالادست طبقے اور انکے نظام کے تحفظ اور تسلط کو برقرار رکھنے کی تدابیر سے ہی سیاست اور دانش کی کارکردگی ظاہرہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جس ملک کے حکمران طبقات رجعت، بدعنوانی، دھوکہ اور فریب سے اپنا تسلط قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے میں معاشرے میں بھی یہ اقدارکثرت سے پائی جاتی ہیں، مذہبی اورفرقہ وارانہ دھڑے بازی سے لے کرقومی تنگ نظری پر مبنی قومی منافرتوں کے رجحانات بھی عام ہوتے ہیں۔ چونکہ یہ نظریات اسی نظام سرمایہ کی حدود وقیود تک ہی محدود ہوتے ہیں تو ان سے بالاست طبقے کے اقتدارکو کوئی بڑاخطرہ لاحق نہیں ہوتا۔ چاہے ان رحجانات کی شدت سے معاشرے کو ٹوٹ پھوٹ، گہرے انتشاراورتباہی سے ہی دوچار کیوں نہ ہوناپڑے۔ جہاں یہ منافرتیں مڑکرحکمرانوں کے خلاف بھی سرکشیوں اوربغاوتوں کوبھڑکا کر حکمران ریاست کو بڑی مزاحمتوں سے دوچارکرتی ہیں، وہاں نظام کی نامرادی سے مایوس ہونے والے یہ حکمران خودبھی ان کو اپنے اقتدر کو طوالت دینے کے لیے ابھارتے اور محنت کشوں میں باہمی تصادم کی جانب موڑ دینے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اس نظام کے بحران کے زیادہ اذیت ناک ہونے سے ان کاجنم اور انکی شدت بھی بہت حد تک بڑھ جاتی ہیں۔

لاہور کی ایک مارکیٹ میں دکانداروں کی طرف سے تقسیم کیا گیا لیف لیٹ۔

پاکستان میں پچھلے 70 سالوں میں جہاں سب سے کلیدی اوربھاری استحصال طبقاتی بنیادوں پرعمومی طورپرمعاشرے میں بڑھتاہی چلاگیاہے وہاں اس نظام نے انتہائی ناہمواراورمتضادطرز کی علاقائی ترقی سے مختلف علاقوں، صوبوں اورقومی بنیادوں پرآبادیوں کے درمیان میں بہت زیادہ تفریق پیدا کی ہے۔ اس سے جہاں طبقاتی جبر کے خلاف ایک احساس جنم لیتاہے وہاں مختلف قومیتوں میں مظلومیت اورعسکری استحصال کاادراک اورتکلیف بھی شدت اختیار کرجاتے ہیں۔ لیکن جہاں علاقائی بنیادوں پراس غیر مساوی اورمختلف معیاروں پرمبنی صنعت کاری اورسروسزکی معیشتوں کو ابھاراگیاہے وہاں روزگاراورروٹی روزی کی تلاش میں وسیع پیمانے پربین ا لصوبائی اورملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہجرتیں بھی ہوئی ہیں۔ اپنے علاقوں میں بیروزگاری اور غربت سے تنگ آکر نوجوان محنت کشوں نے نسل درنسل بڑے شہروں اورزیادہ صنعت یافتہ علاقوں کا رخ کیا۔ اس سے آبادی کے تناسب اورمختلف شہروں میں قومی شناخت میں بڑی تبدیلیاں واضح ہوئی ہیں۔ پہلے1947ء کے بٹوارے میں لاکھوں لوگ کی ہندوستان میں سامراجیوں کے مختص کردہ صوبوں اورعلاقوں سے پاکستان کے شہروں اوردیہاتوں میں مذہبی بنیادوں پرہجرت ہوئی۔ اس ایک ہجرت نے شہری آبادیوں کی پہچان ہی بدل کر رکھ دی تھی۔ لیکن پاکستان بننے کے بعدبھی یہ سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ پشتونخواہ، بلوچستان، جنوبی پنجاب اوراندرون سندھ سے بہت بڑی تعداد میں غریب محنت کشوں کی کراچی میں آمدشروع ہوئی۔ اسی طرح دیہاتوں اور پسماندہ علاقوں کی پسماندگی ختم کرنے میں حکمرانوں کی ناکامی کی وجہ سے بیشتر لوگوں نے لاہوراورملک کے دوسرے شہروں اورصوبوں کی جانب اپنی محنت کی بہتر اجرت کے لیے سفر کیا، جو ابھی بھی جاری ہے۔ لاکھوں افراد مشرقِ وسطیٰ، یورپ اوردنیا کے بے شمار دوسرے ممالک کی جانب روانہ ہوگئے۔ یہ مفروضہ زیادہ غلط نہیں ہے کہ دنیا کے کسی ملک یابڑے شہر میں چلے جائیں وہاں پاکستانی ضرور ملیں گے۔ لیکن اس سے یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ حکمران طبقات نے پاکستان کے معاشرتی ڈھانچوں کو کتنا کھوکھلا اورمحروم کردیاہے۔
آج کل سندھ اور پنجاب میں یہ مہم شروع کی گئی ہے کہ یہاں پہلے افغانوں اوراب پشتونوں کے انخلا کی باتیں ہورہی ہیں۔ ان پرعملدرآمد تو ممکن نہیں لیکن اس مہم سے قومی تعصبات اورمنافرتوں میں مزیداضافہ ہوتاچلا جا رہاہے۔ اسی طرح بلوچستان میں یہ سوچ اب زیادہ پھیل رہی ہے کہ بلوچستان کے نہ صرف وسائل کو لوٹاجارہاہے بلکہ اس کی زمین پرقبضوں اوراسکی آبادی کے تناسب کو ہی ’سی پیک‘ اوردوسرے منصوبوں سے بدلا جارہا ہے۔ کراچی کافی عرصہ پہلے ہی پشتونوں اور بلوچوں کا سب سے بڑا پاکستانی شہر بن چکا تھا۔ اب آبادی اورمردم شماری کے مختلف ماہرین یہ تاثردے رہے ہیں کہ لاہورپشتونوں کادوسرا بڑا شہر بن رہا ہے۔ پنجاب کے رجعتی حکمران طبقات اس مفروضے کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے ایک ناکام کوشش کے طورپراستعمال کررہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب پنجاب سے پشتونوں کو نکالنے کی مہم سے پشتونخواہ میں بھی قومی منافرت کسی حدتک زیادہ بڑھی ہے۔ پنجابی حکمرانوں کی ان سیاسی چالبازیوں کے جرائم کے خمیازے کے طور پرعام غریب اور محنت کش پنجابیوں کو ان حقارتوں کاشکارہوناپڑرہاہے۔ محرومی ہرطرف بڑھ رہی ہے، لیکن چونکہ جنوبی پنجاب، بلوچستان اورپشتونخواہ کے بیشترعلاقے زیادہ پسماندہ رہ گئے ہیں اس لیے ان صوبوں میں قومی محرومی کااحساس بھی بڑھ گیاہے۔ محرومی کی بنیادی وجہ یہ اقتصادی نظام ہوتا ہے جس میں شرح منافع کے حصول اورہوس میں محنت کشوں کو غریب سے غریب ترکیا جاتا ہے لیکن معمول کے ادوارمیں یہ وجہ ایک طبقاتی تفریق کے طورپرمنظرعام اورعمومی ادراک میں نمایاں نہیں ہوتی۔

پولیس کے حکام اب شدید تنقید کے بعد اس لیف لیٹ کی تردید کر رہے ہیں۔

اگر حکمرانوں کے مطابق پاکستان ایک ’آزاد‘ اور’خودمختیار‘ اوراب ’جمہوری‘ ملک ہے تو پھر اس کے ہرشہری کو اس کے کسی بھی خطے میں جانے، رہنے اورکام کرنے کا پوراحق حاصل ہے۔ قومی بنیادوں پر روزگارکے حصول کے لیے تفریق پیدا کرنا حکمرانوں کی قومی آزادی اورسا لمیت کی ہی نفی کرتا ہے۔ لیکن ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ان ہجرت کرنے والے مختلف مظلوم قومیتوں کے افراد کی بھاری اکثریت اگرچہ مزدوروں پر مشتمل ہے لیکن زیادہ مسئلہ اس لیے ابھرا ہے کہ کاروباری اور بالادست یا درمیانے طبقے کی پرتوں کو اس قومی تضاد کی وجہ سے مقابلہ بازی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ لیکن جہاں معیشت ایک عمومی بحران کا شکار ہو وہاں کاروبار میں منافعوں کی شرح تو کرے گی ہی، جس سے مقابلہ بازی کی اندھی دوڑ میں طبقے کے مختلف دھڑوں کا تصادم ابھرتا ہے۔ پشتون مزدوروں کو اس تعصب کی بنیاد پر کم اجرت پر زیادہ محنت نچوڑے جانے کے عذاب کا شکار ہونا پڑتا ہے، اصل آواز اس کے خلاف اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جیسے خواتین مزدوروں کو مردمزدوروں کی نسبت اسی کام کی کم اجرت دے کر انکی جنس کو ایک تعصب کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ویسے ہی مظلوم قومیتوں کے محنت کشوں کے ساتھ بھی متعصبانہ برتاؤ کیا جاتا ہے۔
برصغیراوردنیا بھرمیں تمام استحصالی نظاموں کے ادوارمیں یہ معاشی ہجرتیں مسلسل ہوتی رہی ہیں۔ برصغیرپردرجنوں حملہ آوروں کاآنابنیادی طورپرانہی اقتصادی وجوہات پر مبنی تھا۔ 1947ء میں لاہور میں بہت ہولناک خونریزی ہوئی۔ امرتسرمیں بھی کسی طرح کم مذہبی قتل وغارت نہیں ہوئی، پوراپنجاب ہی لہولہان تھا۔ لاہور کی تقریباً آدھی آبادی یہاں سے ہجرت کر گئی۔ آج پنجاب اور لاہور کے حکمران خود بھی پنجابی یالاہوری نہیں ہیں، لیکن ایسا تاثردے کر اس شاونزم کو ابھارتے ضرور ہیں۔ اگر غور کریں توآج لاہور کی صرف 15 فیصد آبادی کے بارے میں ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہی لاہوری ہیں، باقی سب بعد میں آنے والے ہیں، چاہے ان کا تعلق پنجاب سے ہو یا کسی اور صوبے یا علاقے سے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ایک پشتون کا لاہور کا ڈپٹی میئر بن جانا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ پشتون ووٹ بینک لاہور میں کس قدر بڑھ گیا ہے۔ وہ اب لاہوراور پنجاب کے شہری ہیں۔ یہاں بسنا اُن کا حق ہے۔ یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ لیکن حکمران جب اتنی بڑی آبادی کو بنیادی ضروریات اور انفراسٹرکچر فراہم نہیں کرسکتے، علاج اور تعلیم سے عوام کو محروم کردیتے ہیں، سڑکیں جام ہوجاتی ہیں، گٹر ابلنے لگتے ہیں اور مسائل ایک سماجی اذیت بن جاتے ہیں تو ان تعصبات اور منافرتوں کو ابھار کر طبقاتی جڑت اوربغاوت کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن پھر یہ عہد ہمیشہ رہ سکتا ہے نہ اس کی سوچوں کوہمیشہ اسی طرح گمراہ رکھا جا سکتا ہے۔ یہ معمول اپنے اختتام کے قریب نظر آ رہا ہے۔ ایک مرتبہ جب یہ عہد بدلا، تحریکیں ابھریں، محنت کشوں کی سیاست میں مداخلت شروع ہوئی تو یہ تعصبات کی تاریکی اس انقلابی روشنی سے چھٹ جائے گی۔ یہی تحریک فتح مند ہو کر پیداوار اور وسائل کو منافع کی بجائے انسانی ضروریات کا مقصد دے کر نہ صرف محرومی اور ذلت کا خاتمہ کرسکے گی بلکہ ماضی کی منافرتیں انقلابی دورمیں صفحہ ہستی سے ہی مٹ جائیں گی۔ ان حکمرانوں کی داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں!