موصل: حملے کے پس پردہ عزائم!
اگر موصل سے داعش کا صفایا بھی کردیا جاتا ہے تو نہ داعش ختم ہوگی اور نہ ہی یہ بربریت، جس میں بہت سے مذہبی گروہ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اور ریاستیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں۔
اگر موصل سے داعش کا صفایا بھی کردیا جاتا ہے تو نہ داعش ختم ہوگی اور نہ ہی یہ بربریت، جس میں بہت سے مذہبی گروہ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اور ریاستیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ پارٹی کے اتنے زوال کے بعد اس کی بحالی ہوسکے گی؟
درحقیقت وہ سوشلسٹ انقلاب کا سب سے طاقتور، پر اثر اور مشہور نشان بن گیا تھا۔ سامراجی چے گویرا کو قتل کرنے کے لیے بے چین تھے۔
آج اسلامی بنیاد پرستی کی بربریت ہو یا سامراجی قوتوں کی وحشت، افغانستان اور دنیا بھر کے عوام کے لئے وہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
اگرچہ اس صدی کے آغاز سے ہی ہزارہ کمیونٹی پر گاہے بگاہے حملے ہوتے رہے ہیں لیکن پچھلے کئی سالوں میں انہیں بڑے قتل عام کا سامنا ہے۔
اس نظام میں یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہو سکتا ہے اور یہی ہو گا۔ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہی ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ 1985ء کی نسبت اختلافات مزید بڑھے ہی ہیں اور تعلقات بگڑے ہیں۔
| تحریر : لال خان | اڑی حملے پر انڈین میڈیا کی جانب سے بھڑکائے گئے ہیجان اور جنگی جنون اورجواب میں اسی انداز میں پاکستانی چینلوں کی جانب سے تنگ نظر حب الوطنی کی جذباتی نعرے بازی عالمی سیاسی حلقوں،میڈیا اور وسیع تر عوام میں متوقع پذیرائی حاصل نہیں […]
مرتضیٰ بھٹو نے حکمران سیاست اور نظام سے دشمنی مول لی تھی۔ مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے والوں کو ایک کہیں زیادہ مسلح اوردیوہیکل حاکمیت کبھی فراموش کرتی ہے نہ کبھی چھوڑا کرتی ہے۔
مذہبی فرقہ واریت ان تھیوکریٹک ریاستوں کے ہاتھ میں ایک ایسا اوزار ہے جسے داخلی اور خارجی جبر میں استعمال کرتی ہیں۔
مودی سرکار کے برے دن آ گئے ہیں۔ کشمیر بھڑک اٹھا ہے اور اسی دوران 18 کروڑ محنت کشوں کی عام ہڑتال نے طبقاتی جدوجہد کا ایک نیا آغاز کر دیا ہے۔
جوں جوں روز مرہ کی خبروں میں دہشت گردی ایک معمول بننا شروع ہوجاتی ہے اس سے مرتب ہونے والی عوامی نفسیات پر ’شاک‘ اور صدمے کی شدت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔
اصل ہندوستان جو محنت کشوں اور غریب عوام کا ہندوستان ہے، بیدار ہو رہا ہے۔
پیوٹن زیادہ لمبے عرصے تک بیرونی ’’شجاعت‘‘ کی داستانوں اورپراپیگنڈے سے عوام کو مائل نہیں کرسکتا۔
1994ء کے بعد امیر اور غریب کی تفریق میں اضافہ ہی ہوا ہے جبکہ اے این سی سے جڑے کاروباری افراد کی ایک قلیل پرت ارب پتی بن چکی ہے۔