عوام دشمن اقتدار کی سیاست اور سفارت
جسے ایک ’’جمہوری تبدیلی‘‘ کہا جا رہا تھا اس کا عوام کی امنگوں اور فیصلوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔
جسے ایک ’’جمہوری تبدیلی‘‘ کہا جا رہا تھا اس کا عوام کی امنگوں اور فیصلوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔
’’جمہوریت‘‘ اور ’’انسانی حقوق‘‘ کے علمبردار امریکی سامراج کی مکمل حمایت ضیاالحق کو حاصل رہی۔
پچھلی کئی دہائیوں کے دوران بنیاد پرستی کی نئی اشکال اور مظاہر نے اسی نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔
غربت میں کمی کی باتیں نہ صرف جھوٹ ہیں بلکہ غربت اور ذلت میں سسکتے کروڑوں انسانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔
افغانستان میں صرف ایک سامراج کی مداخلت نہیں ہے بلکہ مختلف عالمی اور علاقائی سامراجی طاقتوں کی بھی گہری مداخلت ہے، جن کے مفادات مشترک بھی ہیں اور متضاد بھی!
ہیلری کلنٹن بورژوازی کے سنجیدہ حلقوں کی نور نظر اور ان کی حقیقی امیدوار ہے۔ لیکن منتخب ہونے پر وہ اوباما سے زیادہ جارج بش کی طرح ہو گی۔
پاکستان اور ہندوستان کے حکمرانوں کے درمیان ہتھیاروں کے انبار لگانے کے ساتھ ساتھ غربت اور بربادی پھیلانے کا مقابلہ بھی بہت سخت ہے!
یہ سامراجی قوتیں افغانستان میں امن، آتشی اور خوشحالی کے لیے نہیں بلکہ گِدھوں کی طرح افغانستان کو نوچنے کے لئے اقتصادی اور جنگی مداخلتیں کررہی ہیں۔
| تحریر: لال خان | تلملاتی دھوپ اور جھلسا دینے والی گرمی میں اس کٹھن زندگی کو گزارنے کی ضروریات کی تگ و دو میں جہاں خلق لگی ہوئی ہے وہاں احتجاجی مظاہروں کے سلسلے بھی جاری ہیں۔ ینگ ڈاکٹرز، ینگ نرسز، اساتذہ اور دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ […]
| تحریر: لال خان | 2008ء کے مالیاتی کریش کے آٹھ برس بعد بھی مغربی سرمایہ دار معیشتوں میں بحالی کے مسلسل دعوے ناکام اور کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔ سماج میں عدم اطمینان اور خلفشار چھوٹی بڑی تحریکوں کی صورت میں مسلسل اپنا اظہار کررہا ہے۔ اس معاشی بحران […]
| تحریر: لال خان | بجٹ ہر سال جون کے مہینے میں ہر حکمران پیش کرتا ہے۔ اس سال بھی آئے گا اور ہفتہ بھر ٹیلی ویژن چینلوں اور دانشوری کی بحثوں میں ایک نان ایشو کے طور پر محنت کشوں اور غریبوں کے اصل مسائل پر مزید مٹی ڈال […]
| تحریر: لال خان | نریندرا مودی کی بھی عجیب کارستانیاں ہیں۔ پہلے اس نے سعودی شہنشاہوں سے انکی اسلامی مملکت کا سب سے اعلیٰ ریاستی ایوارڈ حاصل کیا، اسی اثنا میں ابوظہبی اور متحدہ عرب امارت میں انتہائی شان وشوکت سے بھرپور استقبال کروایا، تماشا یہ رہا کہ ’امت […]
| تحریر: لال خان | پاکستان کی سر زمین پر افغان طالبان کے امیر کے امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے کی خبر کے بعد سیاسی اور ریاستی اشرافیہ ملکی خود مختاری کا پرانا رونا پھر سے رو رہے ہیں۔ ہفتے کے روز بلوچستان میں ہونے والی اس کاروائی پر […]
| تحریر: لال خان | آج بحر اوقیانوس کے ساحل سے بحر عرب تک، مشرق وسطیٰ تاراج ہے۔ ایک طرف غربت، محرومی اور جنگ کے عذابوں سے خلق غرق ہے تو دوسری جانب آمریتوں، رجعتی بادشاہتوں اور نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے ظلم و جبر کا بازار گرم کر رکھا […]
| تحریر: لال خان | ایک وقت تھا جب درمیانے طبقے کے کسی خاندان کے پاس گاڑی آتی تھی تو وہ اپنے آپ کو مراعت یافتہ سمجھنے لگتا تھا اور زندگی سہل ہونے کی کچھ امید پیدا ہوتی تھی۔ آج بھی پاکستان جیسے ممالک میں آبادی کی وسیع اکثریت گاڑیوں […]