یوم مئی: منظم ہو کر حق چھیننا ہو گا!
موجودہ عہد میں مزدورتحریک اور محنت کشوں کو درپیش مسائل کا تدارک کرنے کیلئے صف بندی کی ضرورت ہے۔ صرف دن منانا، ریلیاں اورجلسے منعقد کرنامحنت کشوں کے مسائل کا حل نہیں ہے۔
موجودہ عہد میں مزدورتحریک اور محنت کشوں کو درپیش مسائل کا تدارک کرنے کیلئے صف بندی کی ضرورت ہے۔ صرف دن منانا، ریلیاں اورجلسے منعقد کرنامحنت کشوں کے مسائل کا حل نہیں ہے۔
’’مشال کا انتقام صرف اور صرف اس طبقاتی نظام کو ختم کر کے، سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی لیا جا سکتا ہے۔‘‘
احتجاج میں بنیاد پرستی مردہ باد، دہشت گردی مردہ باد، مشال تیرے خون سے انقلاب آئے گا اور جسٹس فار مشال کے نعرے لگائے گئے
طلبا کے ساتھ پہلی مرتبہ ہزاروں کی تعداد میں طالبات بھی احتجاج میں شریک ہیں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔
اپنی تمام تر خامیوں اور اندرونی تنظیمی مسائل اور جھگڑوں کے باوجود یہ انقلاب سماج کے لیے آگے کی جانب ایک عظیم قدم تھا۔
مقررین نے کہا کہ مشال کا قتل مزدوروں، محنت کشوں اور طلبہ کے حقوق کا قتل ہے۔
مقررین نے کہا کہ مشال خان ایک سوچ اور امید کی کرن کا نام تھا جس کا قتل اس نظام کے رکھوالوں نے کرتے ہوئے اس آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے۔
سنگین باچا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشال خان کو اُس کے انقلابی نظریات اور طلبہ حقوق کے لئے جدوجہد کی پاداش میں قتل کروایا گیا۔
’’آزاد انتخابات، آزاد صحافت اور ایک آزاد عدلیہ کے معنی بہت چھوٹے ہوگئے ہیں کیونکہ آزاد منڈی کی معیشت نے اِن کو اُن اجناس میں تبدیل کردیا ہے۔‘‘
مشال خان کے بہیمانہ قتل کے خلاف اِس احتجاجی مظاہرے کا انعقاد انقلابی سٹوڈنٹس فرنٹ (RSF) نے کیا۔
مقررین نے مشال کے بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کی اور اُس کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے تحریک چلانے کا عزم ظاہر کیا۔
کارکنان سیکرٹریٹ کے سامنے اکٹھے ہوئے اور ریلی کی شکل میں پریس کلب کے باہر آزادی چوک کی طرف مارچ کیا۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشال پر حملہ اس کی سیاسی جدوجہد کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے، لیکن حملہ کرنے والوں کو یہ نہیں پتا کہ شخصیات کو مارنے سے نظریات نہیں مٹتے۔
مقررین نے کہا کہ مشال خان کا قتل روشنی اور علم کا قتل اور درندگی و وحشت ہے جسے ریاستی سطح پر پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
مردان یونیورسٹی میں مشال خان کے بہیمانہ قتل کے خلاف ’طلبہ ایکشن کمیٹی‘ (SAC) کے زیر اہتمام سائنس کالج کوئٹہ سے ریلی نکالی گئی۔