پاکستان میں طلبہ سیاست کا عروج و زوال
منافع کی ہوس اور تعلیم کے کاروبار کے باعث طلبہ کو گھٹن زدہ کیفیت میں رکھا جا رہا ہے، جہاں سیاست تو دور سانس لینے کی آزادی بھی محال ہے۔
منافع کی ہوس اور تعلیم کے کاروبار کے باعث طلبہ کو گھٹن زدہ کیفیت میں رکھا جا رہا ہے، جہاں سیاست تو دور سانس لینے کی آزادی بھی محال ہے۔
PTUDC کے ساتھیوں نے مشال خان کے والد کو ہر قسم کی قانونی، سیاسی اور اخلاقی حمایت کا یقین دلایا۔
’’ہم مطالبہ کرتے ہیں یونیورسٹی اور حکومتی انتظامیہ سمیت مشال خان کے بالواسطہ اور براہ راست قاتلوں کو سخت ترین سزا دی جائے‘‘
موجودہ حکمران طبقات، اُن کے ادارے اور سماجی و معاشی نظام اس فسطائیت اور جنونیت کو روکنے کے قابل نہیں ہیں، بلکہ وہ تو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس میں شریک ہیں۔
حال ہی میں مشال نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلا ف عدالت میں کیس دائر کیا تھا جس کے بعد انتظامیہ موقع کے تلاش میں تھی کہ کس طرح سے اسے اپنے راستے سے ہٹایا جا سکے۔
تاثر یہ دینے کی کوشش کی جارہی کہ جیسے افراد کی گنتی مکمل ہوتے ہی ملک کے تمام مسائل پلک جھپکتے ختم ہوجائیں گے۔
یورپ اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ترین خطوں میں یہ بحران اور خلفشار اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ سرمایہ داری اپنی ترقی یافتہ شکلوں میں بھی استحکام اور معاشی نمو برقرار رکھنے سے قاصر ہے۔
روس اور امریکہ سمیت اس تنازعے میں شامل تمام حصہ دار بخوبی آگاہ ہیں کہ صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
2011ء میں ماروتی سوزوکی کا مانیسر اسمبلی پلانٹ کم اجرتوں، کام کے دوران جبر، ٹھیکیداری اور عارضی ملازمت کے خلاف لڑاکا جدوجہد کا گڑھ بننا شروع ہوا تھا۔
وہ بنیاد ی طور پر جماعت اسلامی کے سکول کا تربیت یافتہ ہے، پھر وہ نواز شریف اور وہاں سے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت سے خوب فیضیاب ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں برصغیر میں بائیں بازو کی سیاست کا کلیدی کردار رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین کے اپنے کئے گئے تجزے کے علاوہ کسی اور تناظر میں 1977ء کی فوجی بغاوت یا پھر بھٹو کے قتل کو دیکھنے سے کبھی بھی درست نتائج پر نہیں پہنچا جاسکتا۔
اس نظام کی حدود میں بھٹو کا اقتدار میں آنا ہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ جس نظام کے ڈھانچوں میں کوئی حکومت تشکیل پاتی ہے وہ نظام ہی حکومت کو چلاتا ہے۔