کشمیر: طلبا و طالبات کی نئی للکار

تحریر: حارث قدیر

گزشتہ ستر سالوں سے سامراجی جبر کے شکار ’خطہ کشمیر‘ کے بھارتی مقبوضہ حصے میں تیس سال قبل شروع ہونیوالی مسلح بغاوت مختلف اتار چڑھاؤ، قیادت کی غداریوں اور نظریاتی ابہام کے باعث مایوسیوں اور امن کی امیدوں سے گزرتے ہوئے مسلسل انگڑائیاں لے رہی ہے۔ 2010ء اور 2013ء کی سنگبار تحریکوں کی وقتی پسپائی نے نوجوان عسکریت پسند برہان الدین وانی کے قتل کے بعد 2016ء میں نئے جوش اور ولولے کے ساتھ بھارتی حکمرانوں، مسلح افواج اور حکمرانوں کے مقامی دلالوں کو للکارتے ہوئے کئی ماہ تک قابض افواج کی گولیوں اور جبر و تشدد کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ کشمیری نوجوانوں اور محنت کشوں کی اس نئے عہد کی بغاوت نے ہندوستان کے نوجوانوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کئے اور بیس سے زائد ہندوستانی جامعات میں کشمیری طلبہ اور نوجوانوں کی آزادی کی اس تحریک کے حق میں احتجاج کیے گئے۔ ہندوستان اور پاکستان کی آزادی پسند وترقی پسند قیادتوں کی جانب سے بھی تحریک کی حمایت دیکھنے میںآئی لیکن قابض و جابر حکمران طبقات کے سامراجی گٹھ جوڑ نے تحریک کو ایک بار پھر مذہبی رنگ دیتے ہوئے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور نام نہاد حریت قیادت کی غلط پالیسیوں اور سامراجی آشیرباد کے حصول کیلئے تحریک کو سرد کرنے کی کوششوں کو برفباری اور شدید موسم نے وقتی کامیابی سے ہمکنار بھی کیا۔ مودی سرکار اور بھارتی مقبوضہ کشمیرمیں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت یہ اطمینان کرتے ہوئے کہ تحریک کا زور ٹوٹ چکا ہے نئے خواب اور نئی امیدیں دلانے اور جبر و استحصال کے نئے منصوبوں پر کاربند ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہو چکے تھے۔ بھارتی پارلیمان کی کشمیر میں دو نشستوں پر ضمنی انتخابات کے انعقاد کا اعلان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے لیکن کشمیری نوجوانوں نے 9 اپریل 2017ء کو سرینگر کی نشست پر منعقدہ الیکشن کی پولنگ کے روز ایک مرتبہ پھر احتجاج کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ’’چناؤ نہیں… رائے شماری‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے الیکشن بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ احتجاج کرنیوالے نوجوانوں پر بھارتی فوج نے فائرنگ کر دی اور 9 نوجوانوں کو قتل اور درجنوں کو زخمی کر دیا گیا۔ مشتعل نوجوانوں نے پولنگ اسٹیشنوں کو آگ لگا دی اور مجبوراً بھارتی حکمرانوں کو الیکشن ملتوی کرنا پڑے، 38 پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کروائی گئی لیکن پھر بھی کشمیری عوام نے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ نہ کیا اور تیس سال بعد بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پولنگ کی شرح انتہائی کم ترین سطح یعنی محض دو فیصد تک رہنے کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا۔ بھارتی حکمرانوں نے اس عوامی رد عمل کو انتہائی تشویشناک گردانا ہے جبکہ اپوزیشن نے ایک نئی مسلح بغاوت کے خدشات کا اظہار بھی کیا ہے۔

حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران قابض افراج کے خلاف مزاحمت میں طالبات کی بڑی تعداد شریک ہوئی ہے۔

احتجاج اور بغاوت کی اس نئی لہر سے خوفزدہ بھارتی حکمرانوں نے قابض افواج کو اس نئی بغاوت کو سختی سے کچلنے کی حکمت عملی اور وحشت و بربریت کی کھلی چھوٹ دیتے ہوئے پولیس میں نئی بھرتیوں کی پالیسی بھی اپنائی ہے اور اس مقصد کیلئے جموں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں تاکہ اس تحریک کو ایک مرتبہ پھر مذہبی رنگ دیتے ہوئے تقسیم اور تنہا کیا جا سکے۔ بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں (سی آر پی ایف) اور پولیس نے اس حکمت عملی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا، نوجوانوں کو سڑکوں پر گھسیٹا گیا اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، متعدد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، سنگباری کے الزام میں ایک نوجوان کو بھارتی فوج کے ایک میجر کی گاڑی کے آگے باندھ کر سرینگر کی شاہراہوں پر یہ اعلانات کروائے گئے کہ پتھر مارنے والوں کے ساتھ آئندہ اس طرح کا سلوک کیا جائے گا۔ دنیا بھر سے بھارتی میجر کی اس حرکت کی مذمت اور ہندوستانی عوام کی جانب سے شدید رد عمل کے بعدجب مذکورہ میجر کیخلاف انکوائری کا حکم دیا گیا تو حکمران جماعت’ بی جے پی ‘کی انتہا پسند قیادت خود ہی مذکورہ میجر کے حق میں میدان میں آگئی ہے اور اس کیخلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کیخلاف شدید ردعمل کا عندیہ دیتے ہوئے اس کے اس گھناؤنے اقدام کو درست قرار دیا جس سے بھارتی حکمرانوں کی ذہنیت اور وحشت عیاں ہو تی ہے۔ سرینگر اور نواحی دیہاتوں میں بھارتی فوج کی جانب سے گھروں میں داخل ہو کر خواتین کو ہراساں کرنے اور نوجوانوں، بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔
عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کی آڑ میں نہتے نوجوانوں پر بھارتی فوج کے کریک ڈاؤن کیخلاف مختلف دیہاتی آبادی میں بھی بھارتی فوج کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ 16 اپریل 2017ء کو طلبا و طالبات کے احتجاج کی ایک نئی لہر نے اس وقت جنم لیا جب بھارتی فوج، پولیس اور نیم فوجی دستے گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ کے احاطہ میں چوکی قائم کرنے اور گرفتاریوں کی غرض سے داخل ہوئے۔ پانچ ہزار کے قریب طلبا و طالبات نے فورسز کے اس اقدام اور درسگاہ کے تقدس کو پامال کئے جانے کیخلاف احتجاج کیا ۔ احتجاج کو بری طرح سے کچلنے کیلئے فورسز نے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کا سہارا لیا جبکہ طلبا و طالبات نے فورسز پر جوابی پتھراؤ شروع کر دیا۔ کئی گھنٹے تک نہ صرف کالج بلکہ پورا پلوامہ قصبہ میدان جنگ بنا رہا۔ کاروبار اور ٹرانسپورٹ کا سلسلہ معطل، نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ قابض افواج کی فائرنگ اور شیلنگ سے پچاس سے زائد طلبہ زخمی ہوئے جن میں اکثریت طالبات کی تھی۔
بھارتی فوج نے وحشت و بربریت کی آخری حد تک جاتے ہوئے ضلعی ہسپتال پلوامہ میں بھی فائرنگ کر کے زخمیوں کے علاج معالجہ میں رکاوٹ ڈالی۔ ضلعی ہسپتال کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ 54 زخمیوں کو مذکورہ ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ 5 طلبا و طالبات کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، انکا کہنا تھا کہ زخمیوں کے علاج معالجہ کے وقت بھی فورسز کی جانب سے ہسپتال پر فائرنگ جاری رہی۔ پرنسپل ڈگری کالج عبدالحمید شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے فورسز کو کالج کے احاطہ میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے ہاتھ جوڑ کو منت سماجت کی لیکن فورسز ذمہ داران نے جان بوجھ کر درسگاہ کو بربریت کا نشانہ بنایا جس کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرتے ہوئے فورسز کیخلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
پلوامہ کالج میں بھارتی فورسز کی ننگی جارحیت کیخلاف وادی بھر کے تمام تعلیمی اداروں اور جامعات میں درس و تدریس کا سلسلہ تا وقت تحریر معطل ہے۔ طلبا کے ساتھ پہلی مرتبہ ہزاروں کی تعداد میں طالبات بھی احتجاج میں شریک ہیں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔ سرینگر، کلگام، پلوامہ، ترال اور بانہال کے علاقوں میں طلبہ نے تمام شاہراؤں کو ٹریفک کیلئے بند کر رکھا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ محبوبہ مفتی حکومت نے درسگاہوں میں تعطیلات کا اعلان کرتے ہوئے افواج سے مظالم روکنے کی بجائے والدین اور طلبہ سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ بھارتی حکمرانوں نے وادی بھر میں انٹرنیٹ و موبائل سروس سمیت میڈیا کے دیگر ذرائع پر پابندیوں کے ایک نئے سلسلہ کا بھی آغاز کردیا ہے جو تحریک کے دیگر حصوں میں ممکنہ پھیلاؤ کے حکومتی خدشات کا اظہار ہے۔
منقسم ریاست جموں کشمیر پر قابض دونوں اطراف کے حکمران طبقات اور فوجی اشرافیہ جہاں کشمیر میں ابھرنے والی ہر خود رو تحریک کو کچلنے اور مذہبی رنگ دیکر محدود و مقید رکھنے کی روایتی پالیسی پر عمل پیرا ہیں وہاں نام نہاد تنخواہ دار حریت قیادت تحریک میں شامل نوجوانوں کی قیادت کی اہلیت اور درست راستہ دینے کی صلاحیت سے عاری ہے اور حکمران طبقات کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے۔ کمیونسٹ پارٹیاں اور نام نہاد بائیں بازو کی قیادتیں بھی نظریاتی بانجھ پن کا شکار ہو کر قومی شاؤنزم پر مبنی پالیسی اختیار کئے ہوئے ریاستی جبر کی حمایت کر کے تاریخی جرم کا ارتکاب کر رہی ہیں۔ جبکہ بھارتی حکمران جماعت کی ہندو بنیاد پرست قیادت تیس سال قبل کی مسلح بغاوت کے نئے ممکنہ ابھار کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سخت گیر اسرائیلی طرز کی قومی پالیسی اپنانے پر غور و خوض کر رہی ہے۔
قابض افواج کے ظلم و بربریت کے سامنے سینہ تانے کشمیری طلبا و طالبات جس جنگ کے میدان میں کود چکے ہیں اس میں انہیں انقلابی نظریات کی حامل قیادت کے فقدان کا سامنا ہے۔ قیادتوں کی بارہا غداریوں اور نظریاتی ابہام نے بھی کشمیری عوام کو کئی بار گھائل کیا ہے۔ کشمیر کی دیگر اکائیوں، لائن آف کنٹرول کے اِس پار کے کشمیر اور ہندوستان و پاکستان کے نوجوانوں، طلبہ، محنت کشوں کی حمایت اور درست نظریات کی بنیاد پر رہنمائی کا فقدان کشمیری نوجوانوں کو عسکریت کی ایک نئی مہم جوئی کی طرف بھی دھکیل سکتا ہے۔ بیرونی سامراجی مداخلت اور نام نہاد حریت قیادتوں پر انحصار ایک بار پھر کشمیری نوجوانوں کی محدود خطے میں مقید تحریک کے باآسانی کچلے جانے کا اورایک نئی گہری مایوسی کا موجب بن سکتا ہے۔
گزشتہ ستر سال سے دو ریاستوں کے سامراجی تسلط اور جبر و استبداد کے شکار کشمیری عوام نے بارہا تاریخ کے میدان میں قدم رکھتے ہوئے قربانیوں کی ایک لازوال تاریخ رقم کی ہے۔ ہر بار قیادتوں کی غداریاں، نظریاتی دیوالیہ پن، سامراجی مداخلت اور تحریک کی جغرافیائی محدودیت ہی ناکامی کا باعث بنی ۔ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے درست سائنسی نظریات کی بنیاد پر کشمیر کی محکومی اور اس خطے کی سیاسی صورتحال کا درست تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ درست نظریات کے بغیر نہ کوئی جدوجہد منظم کی جاسکتی ہے اور نہ ہی آزادی کی منزل کا حصول ممکن ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانوی سامراج نے مسئلہ کشمیر کو رستے ہوئے زخم کے طور پر چھوڑا تھا جو آج ہندوستان اور پاکستان کے حکمرانوں کے پاس ایک جواز کی صورت میں موجود ہے۔ دونوں ریاستوں کے حکمران سرمایہ دارانہ قومی جمہوری انقلاب کے فرائض پورے کرنے میں تاریخی طور پر ناکام رہے اور اس خطے میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کو مذہبی و قومی شاؤنزم اور نفرت کی بنیاد پر منقسم کرتے ہوئے جنگ و امن کے ناٹک کر کے حکمرانی، استحصال اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں پاکستان و ہندوستان کے حکمران کشمیر کے محنت کشوں کا استحصال کرتے ہوئے نظام سرمایہ داری کے تحفظ کی پالیسی پر کارفرما ہیں وہاں دونوں ممالک میں بھی غربت، بھوک، ننگ، جہالت، دہشت اور محکومی کا راج ہے۔ یہ سارے حالات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ استحصال اور غلامی و محکومی پر مبنی اس سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ کئے بغیر حقیقی آزادی کا حصول ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی آزادی کی جدوجہد برصغیر بھر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جدوجہد سے مختلف نہیں، نہ ہی ہدف مختلف ہے، بلکہ برصغیر سے سرمایہ داری کا خاتمہ ہی کشمیر کی آزادی کا ضامن ہو سکتا ہے۔ کشمیرکی آزادی کی جدوجہد کو ہندوستان و پاکستان کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جدوجہد سے طبقاتی بنیادوں پر منسلک کرتے ہوئے خطہ میں سرمایہ دارانہ نظام کے محافظ حکمرانوں کیخلاف فیصلہ کن وار کی تیاری ہی نجات کا واحد راستہ ہے۔
آ ج ایک مرتبہ پھر کشمیر کے پہاڑوں سے غلامی اور بربریت کیخلاف، آٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل قابض فوج کے سامنے، اپنے سینے تانے نوجوان برصغیر اور پوری دنیا کے محنت کشوں، نوجوانوں اور طلبہ کو پکار رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ آزادی کی اس صدا کو برصغیر بھر کے گلی کوچوں، فیکٹریوں اور کھیتوں کھلیانوں میں پھیلاتے ہوئے کشمیر کے محکوم عوام کی آواز سے آواز اور قدم سے قدم ملائے جائیں تاکہ اس خطے سے ظلم، جبر، محکومی اور نا انصافی پر مبنی اس نظام کو اکھاڑ پھینکتے ہوئے نہ صرف کشمیر بلکہ برصغیر بھر کی تمام محکوم قومیتوں اور محکوم و استحصال زدہ انسانوں کو حقیقی آزادی سے روشناس کروایا جا سکے۔

متعلقہ:

کشمیر سے پھوٹتی امید کی کرنیں

کشمیر: جدوجہد جاری ہے!