تھا اک دل بھی زیرِ پستاں…
پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں خواتین بھیڑ بکریوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں، مگر پھر بھی بہت سی خواتین سوچے سمجھے بغیر اپنا غلامانہ کردار قبول کئے ہوئے ہیں۔
پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں خواتین بھیڑ بکریوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں، مگر پھر بھی بہت سی خواتین سوچے سمجھے بغیر اپنا غلامانہ کردار قبول کئے ہوئے ہیں۔
پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک میں جہاں مہنگائی آسمان چھو رہی ہے وہاں محنت کش خواتین کی زندگیاں دن بدن بدتر ہوتی جارہی ہیں۔
تمام تحریکوں، ہڑتالوں، جنگوں اور انقلابات کے اندر محنت کش خواتین کی شاندار انقلابی روایات ہمیں آج بھی عورت کے لازوال انقلابی کردارپر یقین دلاتی ہیں۔
لینن نے انقلاب کے بعد لکھا کہ ’’خواتین مزدوروں کی حمایت اور شراکت کے بغیر یہ انقلاب اس طرح فتحیاب نہیں ہو سکتا تھا۔‘‘
طبقاتی جدوجہد اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی جانب سے 5 مارچ 2017 ء کو حیدرآباد پریس کلب میں ’’خواتین پر جبر اور آزادی کی جدوجہد‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔
’’پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے کامریڈ ہمارے لیے مشعل راہ ہیں جو ہر ادارے کی جدوجہد میں محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘
ان قومی اور مذہبی نفرتوں کے خلاف ایک حقیقی اپوزیشن کی عدم موجودگی کے باوجود دہلی اور دوسرے شہروں میں طلبہ کے احتجاج پھٹ پڑے ہیں۔ یہ ہندوستان میں گزشتہ کچھ عرصے سے جاری طلبہ سیاست کے تحرک کا ہی تسلسل ہے۔
کچھ اور سوچے بغیر قاسم نے تیز دھار چاقو اٹھا اپنی انگلیپر پھیر لیا۔ اب وہ شام کے وقت برتن صاف کرنے کی زحمت سے بہت دور تھا۔
کروڑوں ’’نامعلوم‘‘ انسان انصاف کے ان مندروں کے ٹل بجا بجا کر،دروازے کھٹکا کھٹکا کر چلے جاتے ہیں لیکن زندگی بھر ان کو انصاف نہیں ملتا۔
اگر حکمرانوں کے مطابق پاکستان ایک ’آزاد‘ اور’خودمختیار‘ اوراب ’جمہوری‘ ملک ہے تو پھر اس کے ہرشہری کو اس کے کسی بھی خطے میں جانے، رہنے اورکام کرنے کا پوراحق حاصل ہے۔
1968-69ء میں اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک ایسی عوامی بغاوت ہوئی تھی جس کا کردار سوشلسٹ تھا۔ اسی برس پاکستان کی تاریخ میں معیشت کی سب سے زیادہ شرح نمو ہوئی تھی۔
س موقع پر جے کے این ایس ایف کے مرکزی چیف آرگنائزر تنویر انور، ضلعی جنرل سیکرٹری سہیل اسماعیل، این ایس ایف ہجیرہ کے رہنما ارسلان شانی و صدام حسین نے خصوصی شرکت کی۔
طبقاتی جدوجہد اور بیروزگار نوجوان تحریک کی طرف سے ایک تعزیتی نشست رکھی گئی جس میں سندھ بھر سے انقلابی ساتھیوں نے شرکت کی۔
تقریب بشارت علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ایس ایف کی پچاس سالہ جدوجہد پر دستاویز نئی نوجوان نسل میں سیاسی شعور کو بیدار کرنے اور نوجوانوں میں سائنسی سوشلزم کے نظریات کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرے گی۔
مقررین نے خطاب میں کہا کہ سرمایہ داری اپنی طبعی عمر پوری کر چکی اور یہ انسانیت کے خون پر مصنوعی طور پر زندہ ہے۔