طلبہ سیاست کی تنزلی؟
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
پاکستان میں ایسی تحریکیں جن کے نظریات، افکار اور مقاصد محنت کشوں اور عام انسانوں کو درپیش ذلتوں سے چھٹکارا تھے، ان میں آغاز کا کردار اور پہلی چنگاری بننے کا شرف بھی طلبہ کی اسی سیاست کو حاصل تھا۔
آج بھی برصغیر کی تقریباً پونے دو ارب آبادی جس محرومی، ذلت، پسماندگی اور غربت میں زندگی بسر کر رہی ہے، اس سے نجات کے لئے بھگت سنگھ کے انقلابی نظریات مشعل راہ ہیں۔
’’حتمی مقصد کو واضح کر لینے کے بعد ہی آپ، اپنی قوتوں کو عملی کاروائی کے لئے منظم کر سکتے ہیں‘‘
رجعتی عناصر کی بھگت سنگھ سے نفرت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اُس کی جدوجہد مقامی و غیر مقامی استحصالی طبقات کے خلاف برصغیر کے محنت کش عوام کے طبقاتی اتحاد پر مبنی تھی۔
یہ انتخابی نتائج آنے والے دنوں میں سیاسی عدم استحکام اور شدید طبقاتی جدوجہد کا پیش خیمہ ثابت ہونگے۔
عالمی سرمایہ داری کو اپنی شرح منافع بڑھانے یا برقرار رکھنے کے لیے جس سستی مگر ہنر مند محنت اور انفراسٹرکچر کی تلاش تھی، چین کا سماج اور محنت کی منڈی اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں تھے۔
میڈیا کے مالکان اور اینکر حضرات طالبان اور دہشت گرد سرداروں کی طرح لالچ میں وفاداریاں بھی مسلسل بدلتے رہتے ہیں۔ اب ان کو صرف کرائے پر ہی لیا جاسکتا ہے، خریدا نہیں جاسکتا۔
ریفرنس میں PTUDC کی قیادت، کراچی کے مزدور رہنماؤں، محنت کشوں، سیاسی کارکنوں، طلبہ و طالبات کے علاوہ کامریڈ ہردل کمار کے لواحقین نے بھی شرکت کی۔
اتر پردیش کا اہم قصبہ ’’دیوبند‘‘، جہاں سے ایک بڑے مسلم فرقے کا جنم ہوا، وہاں مسلمانوں کا 70 فیصد سے زائد ووٹ تھا اور وہاں سے بھی بی جے پی نے ہی کامیابی حاصل کی۔
مورخہ 5 مارچ 2017ء کو دادو میں ایک روزہ مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا جو دو نکاتی ایجنڈا پر مشتمل تھا۔
سیمینار میں 60 سے زائد محنت کشوں، نوجوانوں اور سیاسی کارکنان نے شرکت کی۔
محنت کش خواتین کے عالمی دن کے مو قع پر پشاور یونیورسٹی میں ایک خصوصی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں پشاور یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات نے شرکت کی۔
اکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) ملتان نے دفتر طبقاتی جدوجہد میں ایک سیمینار بعنوان ’’محنت کش خواتین کے مسائل اور مارکسی تناظر میں اُن کا حل‘‘ کا انعقاد کیا جس کی صدارت محنت کش خاتون امیراں بی بی نے کی۔
’’مستقبل کے تاریخ دان اگر روس کے انقلاب کے بارے میں لکھیں گے تو انہیں ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہ روس کا انقلاب بھوکی عورتوں اور بچوں سے شروع ہوا جو کہ روٹی کا مطالبہ کر رہے تھے۔‘‘
اٹل حقیقت ہے کہ محنت کش طبقہ ہی اس درندہ صفت نظام کا گورکن ہے جو اس نظام کو دفن کر کے صنفی اور جنسی تفریق سمیت تمام تر تعصبات کو ختم کر دے گا۔