شام: بحران زدہ سامراج کا کھوکھلا وار
روس اور امریکہ سمیت اس تنازعے میں شامل تمام حصہ دار بخوبی آگاہ ہیں کہ صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
روس اور امریکہ سمیت اس تنازعے میں شامل تمام حصہ دار بخوبی آگاہ ہیں کہ صورتحال ان کے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔
2011ء میں ماروتی سوزوکی کا مانیسر اسمبلی پلانٹ کم اجرتوں، کام کے دوران جبر، ٹھیکیداری اور عارضی ملازمت کے خلاف لڑاکا جدوجہد کا گڑھ بننا شروع ہوا تھا۔
وہ بنیاد ی طور پر جماعت اسلامی کے سکول کا تربیت یافتہ ہے، پھر وہ نواز شریف اور وہاں سے پیپلزپارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت سے خوب فیضیاب ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی میں برصغیر میں بائیں بازو کی سیاست کا کلیدی کردار رہا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین کے اپنے کئے گئے تجزے کے علاوہ کسی اور تناظر میں 1977ء کی فوجی بغاوت یا پھر بھٹو کے قتل کو دیکھنے سے کبھی بھی درست نتائج پر نہیں پہنچا جاسکتا۔
اس نظام کی حدود میں بھٹو کا اقتدار میں آنا ہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ جس نظام کے ڈھانچوں میں کوئی حکومت تشکیل پاتی ہے وہ نظام ہی حکومت کو چلاتا ہے۔
یہ مظاہرے روسی سماج میں سطح کے نیچے پنپتی بے چینی اور بیزاری کا اظہار ہیں جو بڑے پیمانے پر بھی پھٹ سکتی ہے۔
عوام کو تو جینا ہے۔ اس جینے کے لیے ان کو ہرروز ایک لڑائی لڑنی ہے۔
لیڈی ہیلتھ ورکرز نے اپنی ڈیوٹی کے دوران پیش آنے والی مشکلات پر ٹیبلوز پیش کئے جنہیں خوب داد ملی۔
صدام خاصخیلی نے بھگت سنگھ کی جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ بھگت سنگھ کی جدوجہد کو صرف قومی آزادی کی جدوجہد کا رنگ دیتا آیا ہے، وہ سامراج کے خلاف جنم لینے والی طبقاتی تحریکوں کو ہمیشہ پوشیدہ رکھتے آئے ہیں۔
پروگرام کو چیئر کامریڈ سہیل چانڈیو نے کیا جب کہ ماجد بگھیو نے برصغیر کے سیاسی حالات اور برطانوی سامراج کے خلاف بھگت سنگھ کی انقلابی جدوجہد پر تفصیل سے بات رکھی۔
سیمینار کا آغازکامریڈ جنت حسین نے کیا۔ انہوں نے بھگت سنگ کی برطانوی راج اور سرمایہ درانہ نظام کے خلاف جدوجہد اور اس کے نظریاتی ارتقا پر بات کی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ایک سوشلسٹ برصغیر اور سوشلسٹ عالمی انقلاب ہی مظلوم قومیتوں، اقلیتوں اور محنت کشوں کو حقیقی آزادی اور آسودگی دے سکتا ہے۔
عنوان پر لیکچر دیتے ہوئے ڈاکٹر ونود کمار نے کہا کہ بھگت سنگھ کو ہم سے بچھڑے آج کئی دہائیاں بیت چکی ہیں لیکن ان کے نظریات کی صورت میں وہ آج ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکمرانو ں نے تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا ہے جس میں ہمیں صرف بادشاہوں کی تاریخ بتائی جاتی ہے۔