پاکستان: اخلاقیات کا دیوالیہ پن
مارکسسٹ ہونے کی حیثیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نجی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جائے تو لوگوں کے درمیان سے مقابلہ بازی، لالچ اور تعصب کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
مارکسسٹ ہونے کی حیثیت سے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر نجی ملکیت کا خاتمہ کر دیا جائے تو لوگوں کے درمیان سے مقابلہ بازی، لالچ اور تعصب کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
سطح کے نیچے مزدور طبقے میں نجکاری کے گرد ایک شدید غصہ اور نفرت موجود ہے جو کسی ایک چنگاری سے بھڑک کر زر کے اس نظام کو راکھ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔
’’اصلاح پسند ہمیشہ ترقی کی طرف دیکھتے ہیں اور فرقہ پرست صرف زوال کی جانب دیکھتے ہیں، مگر مارکسسٹ ہمیشہ پورے عمل کو ایک کل کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘‘
ہر سال کی اِس سال بھی محنت کشوں کے عالمی دن کے موقع پر ملک کے طول و عرض میں مختلف مزدور تنظیموں کے تعاون سے پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) نے ریلیوں اور جلسوں کا انعقاد کیا۔
’’مارکسزم ناقابل شکست ہے کیونکہ یہ سچ ہے۔‘‘
یہی یکجہتی جب طبقاتی بنیادوں پر محنت کشوں کو اکٹھا کرکے تاریخ کے میدان میں اتارے گی تو پورے جنوب ایشیا کا سیاسی و سماجی منظر بد ل جائے گا۔
اہم حقیقت یہ ہے کہ سرمائے کا یہ نظام ہی ’’صادق اور امین‘‘ ہونے کی ہر گنجائش کو ختم کرڈالتا ہے۔ یہاں نیچے سے اوپر تک جھوٹ اور فریب ناگزیر ضروریات بن جاتے ہیں۔
ویب سائٹ کا مقصد پاکستان میں محنت کش طبقے کے مسائل، استحصال، مزاحمت، جدوجہد اور مزدور تحریک کو اجاگر کرنا ہے
موجودہ عہد میں مزدورتحریک اور محنت کشوں کو درپیش مسائل کا تدارک کرنے کیلئے صف بندی کی ضرورت ہے۔ صرف دن منانا، ریلیاں اورجلسے منعقد کرنامحنت کشوں کے مسائل کا حل نہیں ہے۔
’’مشال کا انتقام صرف اور صرف اس طبقاتی نظام کو ختم کر کے، سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ہی لیا جا سکتا ہے۔‘‘
احتجاج میں بنیاد پرستی مردہ باد، دہشت گردی مردہ باد، مشال تیرے خون سے انقلاب آئے گا اور جسٹس فار مشال کے نعرے لگائے گئے
طلبا کے ساتھ پہلی مرتبہ ہزاروں کی تعداد میں طالبات بھی احتجاج میں شریک ہیں اور بھارتی قابض افواج کے مظالم کیخلاف سراپا احتجاج ہیں۔
اپنی تمام تر خامیوں اور اندرونی تنظیمی مسائل اور جھگڑوں کے باوجود یہ انقلاب سماج کے لیے آگے کی جانب ایک عظیم قدم تھا۔
مقررین نے کہا کہ مشال کا قتل مزدوروں، محنت کشوں اور طلبہ کے حقوق کا قتل ہے۔
مقررین نے کہا کہ مشال خان ایک سوچ اور امید کی کرن کا نام تھا جس کا قتل اس نظام کے رکھوالوں نے کرتے ہوئے اس آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے۔