مظفر آباد: بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے خلاف احتجاجی ریلی
ریلی کے دوران نوجوانوں نے کشمیر کی غلامی، تقسیم کشمیر، دہشت گردی، سامراج اور بھارت کے ریاستی جبر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی جلسہ کیا۔
ریلی کے دوران نوجوانوں نے کشمیر کی غلامی، تقسیم کشمیر، دہشت گردی، سامراج اور بھارت کے ریاستی جبر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور پریس کلب کے سامنے احتجاجی جلسہ کیا۔
ظلم و زیادتی سے تنگ آتے ہوئے مزدوروں نے فیکٹری گیٹ کے آگے ہڑتال کر دی اور انتظامیہ اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے خلاف نعرے بازی کی۔
انتظامیہ کی طرف سے اپنے وعدے کا پاس نہیں کیا گیا جس پر ضلع بھر کے رکشہ ڈرائیور سخت مشتعل ہیں۔
ہر چوک اور شاہراہ پر ٹی ایم اے کے غنڈے بغیر کسی قانون اور جواز کے جگا ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔
نتہائی کٹھن معاشی اور سماجی حالات میں تمام تر مصائب کو شکست دیتے ہوئے سکول میں ملک کے طول و عرض سے 150 سے زائد نوجوانوں نے شرکت کی۔
رئیس کجل کی محبت کے دیپ اس کے ہر کامریڈ کے دل میں جل رہے ہیں اور جلتے رہیں گے۔
دادو اور جوہی میں 16 اور 17 جولائی کو مارکسی سکولوں کا انعقاد کیا گیا۔
کیمپ میں لیف لیٹ بڑی تعداد میں تقسیم کیا گیا اور مارکسی لٹریچر بھی فروخت کیا گیا۔
’’بدترین ریاستی جبر بھی تحریک اور مزاحمت کو کچلنے میں ناکام رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جوں جوں سرمایہ دارانہ نظام گراوٹ کا شکا ر ہے تو حکمران طبقات میں آپسی رنجشیں اور سکینڈلز بھی سامنے آتے جا رہے ہیں اور ان کی بد عنوانیاں عوام کے سامنے عیاں ہوتی جا رہی ہیں۔
سکول مجموعی طور پر دو سیشنز پر مبنی تھا جس میں ’’مارکسزم اور مذہب‘‘ اور ’’مارکسزم اور بائیں بازو کی فرقہ پرستی‘‘ شامل تھے۔
محنت کشوں نے کہا کہ ہمارے مسلسل احتجاج کے باوجود ڈی سی اوقصور سے لیکر لیبر آفیسر تک، ہر کوئی خاموش ہے اور ٹھنڈے کمروں میں مزدوروں کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
یہ جلسے کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے حوالے سے منعقد کئے گئے جس سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام نے عوام کے زندگیوں کو عذاب بنا رکھا ہے۔
سکول کا واحد سیشن لینن کی کتاب ’’بائیں بازو کا کمیونزم: ایک طفلانہ بیماری‘‘ پر مبنی تھا۔
برطرف ملازمین کے ساتھ دیگر فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنیوالے مزدوروں کی بڑی تعداد نے ابوبکر ملزکے سامنے زبردست احتجاج کیا۔