دادو: انقلابی شاعر لیاقت علی لیاقت کے ساتھ ادبی محفل اور مشاعرہ
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند ادب تخلیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خلا رجعت اور بنیاد پرستی نے پُر کیا ہے جس کی وجہ سے سماج کے اندر ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند ادب تخلیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خلا رجعت اور بنیاد پرستی نے پُر کیا ہے جس کی وجہ سے سماج کے اندر ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
بختیار لیبر ہال لاہور میں ہونے والا یہ اجلاس اس جدوجہد میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
80ء کی دھائی سے ٹریڈ یونین کی ترقی معکوس سمت میں رہی ہے، کل مزدوروں کا محض ایک فیصد سے بھی کم حصہ ٹریڈ یونینوں میں منظم ہے۔
طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد جاری و ساری رکھی جائے گی۔
ہم مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو کسی صورت اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس پر امن خطے کو شام یا افغانستان بنائیں۔
’’لوگ اداروں اور شخصیات کو ذ مہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ شخصیات اور ادارے خود سرمایہ داری کے تابع کام کر رہے ہیں‘‘
طے کیا گیا کہ انتظامیہ اگر مطالبات پر عمل درآمد نہیں کرتی اور کسی بھی طالب علم کو انتقامی کاروائی کا نشانہ بناتی ہے توپھر ملک گیر سطح پر احتجاج کیا جائے گا۔
بیروزگار نوجوان تحریک (BNT) اور طبقاتی جدوجہد کے ساتھیوں نے اس موقع پر مداخلت کرتے ہوئے طلبہ کو منظم کیا اور پُرامن مظاہرے میں یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
جے کے این ایس ایف، جے کے ایل ایف، جے کے ایس ایل ایف، جے کے نیپ،این ایس ایف، پاکستان پیپلز پارٹی ، پی ایس ایف، ایس ایل ایف(آزاد)، جے کے پی این پی، سروراجیہ انقلابی پارٹی کی قیادت نے شرکت کی۔
کامریڈ نذر مینگل نے صدارتی خطاب میں حکمرانوں کی پالیسوں اور سرمایہ داری کی وحشت کو بے نقاب کیا اور محنت کشوں کو پیغام دیا کہ آج بھی ہمارے پاس سوشلسٹ انقلاب کے علاوہ کوئی راستہ نہیں اور ہم اس کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا محنت کشوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دارانہ کے خلاف قتل عام کا مقدمہ چلایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
بنیاد پرست عناصر کی جانب سے بار بار کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ لہرایا جاتا رہا اور الجہاد کے نعرے بھی گونجتے رہے جس کا جواب جلسہ کے شرکا نے ’’دہشت گردی کا ایک علاج، سوشلسٹ انقلاب‘‘ کے نعروں سے دیا۔
ہماری پر امن جدوجہد کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اسکول ایک ہی سیشن پر مشتمل تھا جس کا ایجنڈا ’’برصغیر کی تقسیم اور کشمیر کی موجودہ صورتحال‘‘ تھا۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین مزدور انقلاب کے ساتھی علی بٹ پر بزدلانہ قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتی ہے۔