نا اہل نظام کا انتشار
یہ معاملہ اپنی ظاہریت میں جتنا سادہ نظر آتا ہے اپنی گہرائی میں کہیں زیادہ پیچیدہ معلوم پڑتا ہے۔
یہ معاملہ اپنی ظاہریت میں جتنا سادہ نظر آتا ہے اپنی گہرائی میں کہیں زیادہ پیچیدہ معلوم پڑتا ہے۔
حسن روحانی کے الیکشن میں سیاسی آزادی اور انسانی حقوق کے وعدوں کے باوجود ملاں اشرافیہ اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے عوام پر مزید تشدد کرے گی۔
اعلیٰ سیاست دان کا معیار زیادہ بلند پیمانے کا جگت باز ہونا رہ گیا ہے۔ ایک تماشا لگا ہواہے جس کے گرد ریٹنگ بنتی ہے اور ٹیلی ویژن چینلوں کے اداکاروں کو صحافی اور سیاستدان بنانے کے معیار طے کرتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور دوسرے مغربی رہنماؤں کی جانب سے داعش کی فیصلہ کن شکست اور اس کی ’’کمر توڑنے‘‘ کی باتیں شاید قبل از وقت ہیں اور اس بات پر یقین کرنے والوں کو شدید مایوسی ہوگی۔
اگر اقتدار بدل کر اِس سارے انتشار کو سمیٹنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تو یہ بحران کم نہیں ہو گا۔
آج بھارتی میڈیا نریندر مودی کو بے مثال، باہوبلی، ان داتا، بھگوان کا اوتارجیسی صفات سے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
گزشتہ ستر برسوں میں کشمیر کی آزادی کی تحریک سے یہی سبق ملتا ہے کہ اس جدوجہد کو انقلابی پیمانے پر طبقاتی جڑت کا حصہ بنانا ضروری ہے۔
ضیا کی میراث بنیادی طور پر مذہبی جنونیت اور ابتدائی کالے سرمائے کے ارتکاز کا گٹھ جوڑ ہے…
عوامی تحریک نے ملکیتی رشتوں کوچیلنج کردیا تھا لیکن اصلاحات کے محدودیت کی وجہ سے ہر دلعزیز قیادت بھی ملکیت کا خاتمہ نہ کرسکی۔
اس سیمینار میں ڈنمارک کے بائیں بازو کے نمائندگان اور ٹریڈ یونین رہنماﺅں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
ضیاالحق نے یہ مذہبی نعرہ دیا تھا کہ ’’بات اب تک بنی ہوئی ہے۔‘‘ بات بنی نہیں ہوئی ہے بلکہ بہت بگڑ چکی ہے اور مزید بگڑتی جارہی ہے۔