خلیجی بادشاہتوں کا بحران
قلیل آبادیوں کو بڑے پیمانے کی مراعات دے کر عرب ممالک کی 2011ء کی عوامی تحریکوں سے بچ جانے والی خلیجی بادشاہتیں اب پرانے طریقوں سے نہیں چل سکتیں۔
قلیل آبادیوں کو بڑے پیمانے کی مراعات دے کر عرب ممالک کی 2011ء کی عوامی تحریکوں سے بچ جانے والی خلیجی بادشاہتیں اب پرانے طریقوں سے نہیں چل سکتیں۔
ایک بات واضح ہے کہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ جانے کے جو خواب حکمران دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سراب اور دھوکہ ہیں۔ یہ منصوبے حکمرانوں کی لوٹ مار اور استحصال کے منصوبے ہیں۔
اعلیٰ عدالتوں میں حکمرانوں کے آپسی مقدمات اتنے الجھ گئے ہیں کہ فیصلے ٹالنے پڑ گئے ہیں۔
عظیم انقلابی رہنما کامریڈ چے گویرا کی 89ویں سالگرہ کے موقع پر قاسم آباد حیدرآباد میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مختلف تنظیموں سمیت طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقررین نے اس خونی بٹوارے کے پیچھے محرکات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی راج نے ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کی پالیسی کو استعمال کرتے ہوئے اس خطہ میں اپنی حکمرانی اور سامراجی لوٹ کو جاری رکھا۔
ایک سوشلسٹ سماج میں ہی جعلی سرحدوں کو مٹایا جائے گا اور ہر دوسرے شعبے کی طرح کھیل کو بھی سرمائے اور منافع کے چنگل سے آزاد کروا کے معراج تک پہنچایا جائے گا۔
کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کے حوالے سے نشست کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے پوری دنیا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں کشمیر کے قومی سوال پر سیر حاصل بحث کی
لیبر کی نوجوانوں اور عام طور پر مایوس لوگوں کو زندہ اور پرجوش کرنے میں کامیابی نے ہی الیکشن میں لیبر کے حق میں پھانسہ پلٹ دیا۔
قطری بادشاہت اس چھوٹے سے ملک کو خطے میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور درحقیقت خلیجی ممالک میں سعودی عرب کی تھانیداری کو چیلنج کر رہی ہے۔
ڈاکٹر لال خان نے اپنے خطاب کے دوران قومی ریاست کی نوعیت اور قومی تشخص کے بارے میں تاریخی حوالوں سے وضاحت کی۔
اگر کسی دہشت گرد ریاست کی مذمت نہیں کی گئی تو وہ اسرائیل کی صیہونی ریاست ہے، جس کے ساتھ سعودی عرب اور دوسرے حکمرانوں نے پس پردہ معاونت کی حامی بھری ہے۔
اگر بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی کیا جاتا ہے تو گلی سڑی اور بوسیدہ ٹرانسمشن لائنیں اور ڈسٹریبیوشن انفراسٹرکچر اس اضافی پیداوار کو اپنے اندر سمو نہیں سکتے۔
پیداوار، رسد اور مالیات پر مکمل ریاستی کنٹرول قائم کئے بغیر حالیہ بحران سے نہیں نکلا جا سکتا۔
بلکہ پہلے سے دست و گریباں ’قومی اتحادی حکومت‘ کی صفوں میں مزید چپقلش بڑھے گی، کیونکہ اب اس لوٹ مار کے بازار میں ایک اور حصہ دار کا اضافہ ہوا ہے۔