شراب پر پابندی کی منافقت
پاکستان کا شاید ہی کوئی دانشور، تجزیہ نگار، کالم نگار، بزنس مین، جرنیل یا سیاست دان ایسا ہوگا جس کوکبھی اس بلا نوشی کا اتفاق نہ ہوا ہو۔
پاکستان کا شاید ہی کوئی دانشور، تجزیہ نگار، کالم نگار، بزنس مین، جرنیل یا سیاست دان ایسا ہوگا جس کوکبھی اس بلا نوشی کا اتفاق نہ ہوا ہو۔
انقلابی سوشلزم سے پارٹی قیادت اتنی خوفزدہ ہے کہ ان کو ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں عوام اس راستے پر باہر ہی نکل پڑیں۔
دن بھر نوجوانوں نے کیمپ کا دورہ کیا اور BNT کے مطالبات سے مکمل اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے اس کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کی۔
سعودی عرب میں غیر ملکی محنت کشوں پر ریاستی جبر اور قید اور کوڑوں کی اذیتوں کے خلاف پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کا ملک گیر احتجاج گزشتہ دنوں بھی جاری رہا۔
1917ء کا بالشویک انقلاب بنیادی طور پر اس نظام کو اکھاڑ پھینکنے اور نسل انسان کی صدیوں کی طبقاتی غلامی سے آزادی کا آج بھی واحد راستہ ہے۔
اس منصوبے میں ہلاکتوں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے ،اس سے پہلے بھی کئی دفعہ ایسے حادثات پیش آچکے ہیں۔
تقریب کا عنوان ’’اِس پار بھی لیں گے آزادی، اُس پار بھی لیں گے آزادی‘‘ رکھا گیا تھا اور دیگر طلبہ تنظیموں کے قائدین کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔
اوباما نے اپنے آپ کو ایک ’تبدیلی‘ کی علامت اور ذریعے کے طور پرپیش کیا تھا۔ لیکن جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں۔
شامی انقلاب میں عوامی ریلا تمام تفریقات کو بھلا کر نکلا تھا جس کا مقصد تبدیلی لانا تھا۔ لیکن ایک انقلابی قیادت کی عدم موجودگی اور واضح راستہ نہ ہونے کی وجہ سے اس خلا کو بنیاد پرستوں اور سامراجی یلغار نے پورا کیا۔
آصف رشید نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کا بنیادی سوشلسٹ منشور ہی تھا جس نے پارٹی کو دو سال کے مختصر عرصے میں پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی بنا دیا تھا۔
24 دسمبر بروز ہفتہ راجن پور بار میں پاکستان کی سیاسی و معاشی صورتحال اور انقلابیوں کی ذمہ داری کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی جانب سے مورخہ 8 جنوری بروز اتوار ملک گیر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔
علیحدگی پسند اور دوسری مقامی قیادتوں کو اب ایک ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس میں ایسا لگتا ہے کہ بجائے نوجوان اور عوام ان کے نقش قدم پر چلیں، تحریک ان کو آگے کی جانب دھکیل رہی ہے۔
ایک لمبے عرصے کے بعد پشاور یونیورسٹی میں پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نظریاتی کار کنان نے اس مشن کو دوبارہ جاری رکھنے کا آغاز کیا ہے جو پی ایس ایف کے بنیاد وں میں شامل تھا۔
مورخہ 31 دسمبر 2016ء کو جوہی میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا جو دو موضوعات پر مشتمل تھا۔