کراچی میں مارکسی سکول کا انعقاد
مورخہ 22 جنوری بروز اتوار ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کراچی میں کیا گیا جو دو سیشنز پر مشتمل تھا۔
مورخہ 22 جنوری بروز اتوار ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کراچی میں کیا گیا جو دو سیشنز پر مشتمل تھا۔
جیتنے والی یونین کے لئے سب سے بڑا چیلنج یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کی نجکاری کو رکوانا اور اس کے ساتھ محنت کشوں کے تمام حقوق کو بحال کروانا ہے۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی یو ڈی سی کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر چنگیز نے کہا کہ عوامی اداروں کی نجکاری معاشی دہشت گردی ہے،ہمارے حکمران آئی ایم ایف اوردیگر عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پر عوامی اداروں کو نیلام کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔
مورخہ 22 جنوری بروز اتوار راولپنڈی میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا۔ مارکسی اسکول دو نکاتی ایجنڈا پر مشتمل تھا۔ تقریباً پچاس ساتھیوں نے مارکسی سکول میں شرکت کی۔
ڈونلڈ ٹرمپ جو اندھا دھند جارحانہ پالیسیوں اور فیصلوں کے اعلانات کرتا جارہا ہے وہ امریکی ریاست کے اپنے خارجی اور سفارتی مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اور یہ ضروری نہیں کہ ٹرمپ ان کو مسلسل جاری رکھ سکے۔
افغان مہاجرین کا مسئلہ ضیاالحق کے جرائم کی طویل فہرست میں سے ایک کڑی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں پرولتاریہ بحیثیت مجموعی ایک پسماندہ سماج میں جدید ترین فرائض کے حامل انقلاب کا امین اور علمبردار ہے۔
پہلا اسیشن ’عالمی وملکی تناظر‘ پر تھا جبکہ دوسرا سیشن ’غیر ہموار اور مشترک ترقی‘ پر تھا۔
عورت ہمیشہ سے سماجی طور پر غلام نہیں تھی مگر کچھ مخصوص حالات کی وجہ سے جب اس سے معاشی خود مختیاری چھین لی گئی اور ان کو سماجی طور پر غلام کیا گیا۔
ٹرمپ کی صدارت شاید امریکہ کی تاریخ کا سب سے پر انتشار اقتدار ہوگا، جس کا آغاز ہمیں حلف برداری کی تقریب کے دوران مختلف جگہوں پر مظاہروں اور توڑ پھوڑ کی شکل میں نظر آیا۔
پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی قیادت ان متاثرہ محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے ان کے احتجاجی دھرنے اور ہڑتالی کیمپ کا مسلسل دورہ کر رہی ہے۔
صحت، تعلیم، پانی، نکاسی آب اور دوسرے سماجی شعبوں کی نجکاری نے عوام کی زندگیوں پر قہر نازل کردیا ہے۔
جو بھی تھوڑا بہت روزگاریہاں پیدا ہوبھی رہا ہے وہ سارا اسی غیر رسمی معیشت سے منسلک ہے۔ ورنہ ریاست کے پاس کوئی ایسی پالیسی موجود ہی نہیں جس سے سماج کو ترقی دی جاسکے۔
س نظام میں منافع کی ہوس بڑھتے بڑھتے ان سرمایہ داروں کی حالت ایک ایسے خونی بھیڑیے کی مانند ہوگئی ہے جس کے جبڑوں کو جب انسانی خون لگ جاتا ہے تو اسکی ہوس مزید بڑھ جاتی ہے۔
نیا سال پرانے سال کا ہی تسلسل ہو گا لیکن اس کی شدت پچھلے سال سے زیادہ ہو گی۔ غیر معمولی عدم استحکام اب معمول بن چکا ہے۔