دادو میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد
مورخہ 18 دسمبر 2016ء کو دادو میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا جو دو موضوعات پر مشتمل تھا۔
مورخہ 18 دسمبر 2016ء کو دادو میں ایک روزہ مارکسی اسکول کا انعقاد کیا گیا جو دو موضوعات پر مشتمل تھا۔
یہ کوئی حادثہ نہیں ہے کہ چترال سے آنے والے پی آئی اے کے طیارے کے بلیک باکس کی بجائے’’بلیک بکرے‘‘ کا اتنا زیادہ پرچار کردیا گیا ہے کہ لوگ بلیک باکس کی سائنسی معلومات کو ہی فراموش کر بیٹھیں۔
سکول میں فیڈل کاسترو کی انقلابی جدوجہد اور موجودہ عالمی صورتحال کو زیر بحث لایا گیا۔
وسیع پیمانے پر آلودگی پیدا کرنے والے کوئلے کے پاور پلانٹ چین سے اکھاڑ کر اب پاکستان میں لگائے جا رہے ہیں اور یہاں کے حکمران ڈھٹائی اور بے شرمی سے اسے کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند ادب تخلیق نہ ہونے کی وجہ سے ان کا خلا رجعت اور بنیاد پرستی نے پُر کیا ہے جس کی وجہ سے سماج کے اندر ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے۔
اگر نوازشریف کو اوپر سے کسی بھی طریقے سے ہٹا دیا جاتا ہے، جس کے امکانات ہیں، تو نئی حکومت اس سے کم بدعنوان، استحصالی، منافق اور جھوٹی نہیں ہوگی۔
بختیار لیبر ہال لاہور میں ہونے والا یہ اجلاس اس جدوجہد میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
80ء کی دھائی سے ٹریڈ یونین کی ترقی معکوس سمت میں رہی ہے، کل مزدوروں کا محض ایک فیصد سے بھی کم حصہ ٹریڈ یونینوں میں منظم ہے۔
طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد جاری و ساری رکھی جائے گی۔
ریاستی آقاؤں اور مختلف حکومتوں کی جانب سے علامتی مذمتوں کے باوجود حکمران طبقات کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں ہے کہ اس مذہبی جنون کو لگام دیں جو سماج میں پہلے سے محکومی کے شکار عوام پر قہر نازل کر رہا ہے۔
ہم مذہبی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو کسی صورت اجازت نہیں دیں گے کہ وہ اس پر امن خطے کو شام یا افغانستان بنائیں۔
گول مول بیانات اور رویے ویسے بھی معاشرے میں ایک معمول بن گئے ہیں۔ کوئی بھی چیزتوسیدھی نہیں ہے، توپھر سید ھی بات یا سچی سیاست اس سماجی نظام میں ہو کیسے سکتی ہے۔
نوٹوں کو کالعدم کرنے کے بعد کالے دھن کی ایک نئی صنعت معرض وجود میں آچکی ہے، ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پرانے نوٹ 20 فیصد مارجن پر وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ نئے نوٹوں کو بیچا جا رہا ہے۔
کافی عرصے سے یہ چہ مگوئیاں ہو رہی ہیں کہ اسد کے اہم ترین اتحادی اس کی جگہ کسی دوسرے نسبتاً کم متنازع لیڈر کو لا سکتے ہیں۔ لیکن فی الوقت اس کا بر سر اقتدار رہنا ہی ان کے مفاد میں ہے۔
’’لوگ اداروں اور شخصیات کو ذ مہ دار قرار دیتے ہیں جبکہ شخصیات اور ادارے خود سرمایہ داری کے تابع کام کر رہے ہیں‘‘