ترکی: ناکام فوجی بغاوت کے مضمرات
اردگان کی کیفیت درحقیقت ضیاالحق کے آخری دنوں سے مماثل ہے جب وہ مادی حقائق سے یکسر کٹ کے افغانستان اور وسط ایشیا میں بھی اپنی ’خلافت‘ کے خواب دیکھنے لگا تھا اور اپنے امریکی آقاؤں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔
اردگان کی کیفیت درحقیقت ضیاالحق کے آخری دنوں سے مماثل ہے جب وہ مادی حقائق سے یکسر کٹ کے افغانستان اور وسط ایشیا میں بھی اپنی ’خلافت‘ کے خواب دیکھنے لگا تھا اور اپنے امریکی آقاؤں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔
عام لوگوں نے‘ جن میں بلاشبہ اردگان کے طرز حاکمیت کو پسند کرنے والوں کی نسبت اس کے مخالفین کی غالب اکثریت تھی، نے دلیرانہ کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔
نام نہادآزاد کشمیر کو آج جن بنیادی مسائل کا سامنا ہے ان کا حل اس نظام کے اندر ممکن نہیں۔
سرمایہ دارانہ سماجوں کی جدید شکل میں پولیس کا قیام انیسویں صدی کی دوسری چوتھائی کے دوران محنت کشوں کی ہڑتالوں، شہروں میں ہنگاموں اورغلاموں کی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔
وانی کی ہلاکت درحقیقت ایک ایسا واقعہ تھا جس نے قومی، معاشی اور سماجی جبر کے خلاف عام کشمیریوں کی مجتمع شدہ نفرت کے بارود کو آگ لگا دینے والی چنگاری کا کام کیا۔
مندر میں انسان کے دل کی غلاظت دھلتی ہے اور اس بدرو میں انسان کے جسم کی غلاظت اور ان دونوں کے بیچ میں مہا لکشمی کا پل ہے۔
ایدھی کی ریاستی تدفین اس کی عزت نہیں بلکہ زندگی بھر کی کاوشوں کی تضحیک ہے۔
بنیاد پرست، قوم پرست اور الحاق نواز جماعتوں میں سے ہر ایک امیدوار اقتدار کے حصول کیلئے بلند و بانگ دعوے کر رہا ہے لیکن کوئی ایک پارٹی بھی ابھی تک کوئی واضح اور ٹھوس پروگرام اور منشور پیش نہیں کر سکی ہے۔
اگر آپ ’’عوام‘‘ کے کام آنا چاہتے ہیں‘ اگرآپ ’’عوام‘‘ کی ہمدردی اور حمایت چاہتے ہیں تو پھر مشکلات سے ڈرنا نہیں چاہئے‘ زحمتوں سے نہیں گھبرانا چاہئے‘ بلکہ لازمی طور پر جہاں بھی عوام موجود ہوں وہاں کام کرنا چاہئے۔
اس جنگ کے دوران لاکھوں بے گناہوں کو لقمہ اجل بھی بنا دیا گیا۔ لہو کے دریا بہائے گئے۔ اسلحے سے لے کر تیل تک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور امریکی جرنیلوں نے سینکڑوں ارب ڈالر کمائے۔
جسے ایک ’’جمہوری تبدیلی‘‘ کہا جا رہا تھا اس کا عوام کی امنگوں اور فیصلوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا۔
پاکستان میں یہ کتاب اردو میں دوسری بار طبقاتی جدوجہد پبلی کیشنز کی جانب سے تقریباً 15 سال بعد شائع کی جا رہی ہے۔
تم نے لوگوں کو کوڑے لگائے کبھی، تم نے سڑکوں پہ مقتل سجائے کبھی
محنت کشوں نے کہا کہ ہمارے مسلسل احتجاج کے باوجود ڈی سی اوقصور سے لیکر لیبر آفیسر تک، ہر کوئی خاموش ہے اور ٹھنڈے کمروں میں مزدوروں کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔
ساری عمر ناانصافیوں کے نظام کو قائم رکھنے والے ’ناصح‘ بن کر پورے سماج کو اپنے انداز میں چلانے کے خواہش مند نظر آتے ہیں۔