رجعتی ٹریڈ یونینز، بورژوا پارلیمانیت اور انقلابی سوشلزم

| تحریر: ولادیمیر لینن |

ولادیمیر لینن کی کتاب ’’بائیں بازو‘‘ کا کمیونزم: ایک طفلانہ بیماری سے اقتباس۔

کیا انقلابیوں کو رجعتی ٹریڈ یونینز میں کام کرنا چاہئے؟
جرمن ’’بائیں بازو‘‘ والے سمجھتے ہیں کہ ان کیلئے اس سوال کا جواب قطعی طورپر نفی میں ہے۔ ان کے خیال میں ’’رجعتی‘‘ اور’’انقلاب مخالف‘‘ ٹریڈ یونینز کے خلاف جو شیلی تقریریں اور ان پر غصے میں برسنا ہی کافی ہے۔
’’بائیں بازو‘‘ والے جرمن چاہے کتنے ہی زوروں میں اپنے اس طریقہ کار کی انقلابیت پر اعتقاد رکھتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بنیادی طورپر ان کا فیصلہ غلط ہے اور خالی لفاظی کے سوا اس سے کچھ حاصل نہیں۔
ہم کو جرمن بائیں بازو والوں کا بڑا شاندار‘ نہایت عالمانہ اور خوفناک حد تک یہ انقلابی ارشاد مضحکہ خیز اور طفلانہ خرافات معلوم ہوتا ہے کہ کمیونسٹوں کو رجعت پرست ٹریڈ یونینز میں نہ تو کام کرنا چاہئے‘نہ وہ ان میں کام کر سکتے ہیں‘ اس کام سے منہ پھیر لینا بالکل جائز ہے‘ ان ٹریڈ یونینز کو چھوڑ دینا لازم ہے اور اپنی ایک بالکل نئی‘ صاف ستھری‘بڑے پیارے (غالباً زیادہ تر بالکل ہی نوجوان) کمیونسٹوں کی خود کی سوچی ہوئی’’مزدور یونین‘‘ تیار کرنا قطعی ضروری ہے‘وغیرہ وغیرہ۔
ہم اس’’مزدور اشرافیہ‘‘ کے خلاف جدوجہد عام مزدوروں کی طرف سے کرتے ہیں تاکہ انہیں اپنی طرف کھینچ لیں۔ ہم موقع پرستی اور سوشل شاونزم کے خلاف بھی جدوجہد کرتے ہیں تاکہ مزدور طبقے کو اپنے ساتھ جوڑ لیں۔ یہ ایسا ابتدائی اصول ہے اور اتنی صاف حقیقت ہے کہ اسے بھولنا حماقت ہوگی۔ اورٹھیک یہی حماقت جرمنی کے ’’بائیں بازو‘‘ کے کمیونسٹ کرتے ہیں جب ٹریڈ یونینز کے سب سے اوپر کے لیڈروں کے رجعت پرستانہ اور انقلاب مخالف مزاج کو دیکھ کر وہ یہ نتیجہ نکال لیتے ہیں کہ ان ٹریڈ یونینز کو ہی چھوڑو!ان میں کام کرنے کو لات مارو! اپنی نئی اور مصنوعی قسم کی مزدور جماعتیں بناؤ! یہ ایسی ناقابل معافی حماقت ہے کہ اسے کمیونسٹوں کی طرف سے بورژوازی کی سب سے بڑی خدمت کے برابرسمجھنا چاہئے۔
رجعتی ٹریڈ یونینز کے اندرکام نہ کرنے کے معنی ہیں کہ ناپختہ کار یا پسماندہ مزدوروں کو رجعتی لیڈروں‘ بورژوزای کے ایجنٹوں‘مزدور اشرافیہ یا ’’بورژوا رنگ کے مزدوروں‘‘کے حوالے کردیاجائے‘ ان کے اثر میں چھوڑ دیا جائے۔ یہ واہیات ’’نظریہ‘‘ کہ کمیونسٹوں کو رجعتی ٹریڈ یونینز میں شامل نہیں ہونا چاہئے‘ خود یہی بہت صاف طورسے ثابت کرتا ہے کہ’’بائیں بازو‘‘ کے کمیونسٹ ’’عوام‘‘ پر اثر ڈالنے کے سوال کو کس قدر ڈھیلے ڈھالے طریقے سے دیکھتے ہیں اور ’’عوام‘‘ کے بارے میں بلند بانگ نعروں کا کس قدر غلط استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ ’’عوام‘‘ کے کام آنا چاہتے ہیں‘ اگرآپ ’’عوام‘‘ کی ہمدردی اور حمایت چاہتے ہیں تو پھر مشکلات سے ڈرنا نہیں چاہئے‘ زحمتوں سے نہیں گھبرانا چاہئے‘ ’’لیڈروں‘‘ کے بغلی گھونسوں اور تذلیلوں اور پیچھے پڑنے سے نہیں ڈرنا چاہئے (جو موقع پرست اور سوشل شاؤنسٹ ہونے کی بدولت اکثر حالتوں میں یا تو براہ راست‘ ورنہ بالواسطہ بورژوازی اور پولیس والوں سے ملے رہتے ہیں) بلکہ لازمی طورپر جہاں بھی عوام موجود ہوں‘ وہاں کام کرنا چاہئے۔ آپ کو ہر ایک قربانی کیلئے تیار رہنا چاہئے‘ بڑی سے بڑی رکاوٹوں پر قابو پانے کے قابل ہونا چاہئے تاکہ باقاعدہ‘ جم کر اور صبرو ضبط کے ساتھ خاص کر ان اداروں میں‘ ان انجمنوں اور سوسائٹیوں میں‘چاہے وہ بڑی ہی رجعتی ہوں ایجی ٹیشن اور پروپیگنڈا کریں جہاں پرولتاری یا نیم پرولتاری لوگ ہوں۔
برطانیہ‘فرانس اور جرمنی کے کروڑوں مزدور پہلی باربالکل بے تنظیمی کے اندھیرے سے نکل کرتنظیم کی سب سے ابتدائی‘سب سے نیچے کی شکل اختیار کر رہے ہیں جس میں نہایت آسانی سے شامل ہوا جا سکتا ہے‘یعنی ٹریڈ یونین میں—اور ناسمجھ بائیں بازو کے کمیونسٹ پاس کھڑے ہوئے پکار رہے ہیں ’’عوام‘ عوام‘‘! لیکن ٹریڈ یونینز میں کام کرنے سے انہیں انکار ہے! انکار کا بہانہ یہ ہے کہ یہ ٹریڈ یونینز ’’رجعتی‘‘ہیں! اب وہ ان کی جگہ بالکل نئی نویلی‘صاف ستھری ایسی پاک صاف ’’مزدور یونین‘‘ بنانے چلے ہیں جس پر بورژوا ڈیموکریٹک واہموں کا داغ نہ لگا ہو‘جو پیشہ وارانہ اورا لگ الگ کھاتے کی تنگ نظری کی قصوروار نہ ہو‘ اور جو بقول ان کے بہت وسیع تنظیم ہوگی (ہوگی!) اور اس کا ممبر بننے کی صرف(صرف!) ایک شرط رکھی جائے گی کہ ’’سوویت نظام اورپرولتاریہ کی ڈکٹیٹر شپ کو تسلیم کیا جائے‘‘ اس سے بڑھ کر بے وقوفی اور انقلاب کو اس سے بڑھ کر نقصان پہنچانے والی بات کا تصور نہیں کیا جا سکتا جو یہ ’’بائیں بازو‘‘ والے انقلابی کر رہے ہیں۔
زار شاہی کے زمانے میں ہم کو کسی قسم کی بھی ’’قانونی سہولتیں‘‘ 1905ء تک حاصل نہیں تھیں لیکن پھر بھی جب زوباتوف نام کے خفیہ پولیس والے نے’’سیاہ صد‘‘ (Black Hundreds) [انتہائی دائیں بازو کا فاشسٹ گروہ] مزدوروں کے جلسے اور محنت کش لوگوں کی سوسائٹیاں بنانی شروع کیں تاکہ انقلابیوں کو پھانسا جائے اور ان سے مقابلہ کیا جائے تو ہم نے اپنی پارٹی کے ممبروں کو ان جلسوں اور سوسائٹیوں میں بھرتی کرادیا (مجھے خود ان میں سے ایک شخص کامریڈ بابوشکن یاد ہے‘ یہ سینٹ پیٹرسبرگ کا ایک نمایاں مزدور تھا جسے زار شاہی افسروں نے 1906ء میں گولی ماردی)۔ ان لوگوں نے عوام سے رابطہ رکھا‘ اپنی ایجی ٹیشن جاری رکھنے کی ترکیبیں نکال لیں اور مزدوروں کو زوباتوف کے آدمیوں کے اثر سے نکال لینے میں کامیاب ہو گئے۔ البتہ یہ ہے کہ مغربی یورپ میں جہاں قانونی جواز رکھنے والے‘ آئینی‘ بورژوا ڈیمو کریٹک تعصبات خاص کر گہری جڑیں رکھتے ہیں‘ زیادہ جمے ہوئے ہیں‘ وہاں یہ کام زیادہ مشکل ہے۔ تاہم یہ کیا جاسکتا ہے اور کیا جانا چاہئے اورایک ضابطے اور قاعدے کے ساتھ کیا جانا چاہئے۔
تیسری انٹرنیشنل کی انتظامیہ کمیٹی کو‘ میری ذاتی رائے میں‘ رجعتی ٹریڈ یونینزمیں شرکت سے انکار کی پالیسی کی قطعی مذمت کرنا چاہئے اور کمیونسٹ انٹرنیشنل کی اگلی کانگریس سے کہنا چاہئے کہ وہ اس پالیسی کی عام طورسے مذمت کرے (وضاحت کے ساتھ بتایا جائے کہ یہ انکار کیوں ناسمجھی کی حرکت ہے اور پرولتاری انقلاب کے کام کو اس سے کتنا انتہا درجے کا نقصان ہے)

کیا ہمیں بورژوا پارلیمنٹوں میں شریک ہونا چاہئے؟
’’بائیں بازو‘‘ کے جرمن کمیونسٹ انتہائی حقارت اور انتہائی لاپروائی سے اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ان کی دلیلیں؟ ہم اوپر کے حوالے میں ان کو دیکھ چکے ہیں:
’’… پارلیمانیت کی جدوجہد کی تاریخی اور سیاسی لحاظ سے فرسودہ صورتوں کی طرف ہر طرح کی واپسی کوقطعی طورپر مسترد کر دینا چاہئے…‘‘
پارلیمانیت کی طرف’’واپسی‘‘! یہ مضحکہ خیز بناوٹ کے ساتھ کہا گیا ہے اور صاف طورسے غلط ہے۔ شاید جرمنی میں اب سوویت رپبلک قائم ہو گئی ہے؟ ایسا نہیں ہے! پھر’’واپسی‘‘ کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ کیا یہ خالی خولی بات نہیں ہے؟
پارلیمانیت کی ’’تاریخی لحاظ سے فرسودگی‘‘—یہ پروپیگنڈے کے لحاظ سے صحیح ہے۔ لیکن ہر ایک جانتا ہے کہ اس میں اور عملی طورسے اس پر قابو پانے میں بڑا فاصلہ ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کو دسیوں سال پہلے [بھی] بالکل بجا طور پر ’’تاریخی لحاظ سے فرسودہ‘‘ کہنا ممکن تھا لیکن اس سے سرمایہ دار نظام کی بنیاد پر انتہائی طویل اور متواتر جدوجہد کی ضرورت نہیں ختم ہو جاتی۔
کسی سیاسی پارٹی کا اپنی غلطیوں کی طرف رویہ اس بات کا اندازہ لگانے کا ایک انتہائی اہم اور معتبر معیار ہے کہ پارٹی کتنی سنجیدہ ہے اور وہ اپنے طبقے اور محنت کش عوام کیلئے اپنی ذمہ داری کو عملی طورپر کیسے پورا کرتی ہے۔ غلطی کو اعلانیہ تسلیم کرنا‘اس کے اسباب معلوم کرنا‘اس صورتحال کا تجزیہ کرنا جسکا نتیجہ یہ ہوا ہے اور غلطی کو ٹھیک کرنے کے طریقوں پر توجہ کے ساتھ بحث مباحثہ کرنا— یہ ہے سنجیدہ پارٹی کی علامت‘یہ ہے اس کی اپنی ذمہ داری کی تکمیل‘ یہ ہے طبقے کی اور پھر عوام کی تربیت وتعلیم —اپنی اس ذمہ داری کو نہ پورا کر کے‘ اپنی بین غلطی کو سمجھنے کیلئے غیر معمولی توجہ‘ہوشمندی اور احتیاط سے کام نہ لے کر جرمنی میں (اور ہالینڈ میں بھی) ’’بائیں بازو والے‘‘ اس سے بالکل یہی ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی طبقے کی پارٹی نہیں ہیں‘ عوام کی پارٹی نہیں ہیں بلکہ دانش ور لوگوں اور چندایسے مزدوروں کا گروہ ہیں جو دانش وری کے انتہائی برے پہلوؤں کی نقل کر رہے ہیں۔
فرینک فورٹ کے ’’بائیں بازو والوں‘‘ کے گروہ کے اسی پمفلٹ میں‘جس سے ہم نے اوپر تفصیلی حوالے دئے ہیں‘ ہم پڑھتے ہیں:
’’…دسیوں لاکھ مزدور جو مرکز ( کیتھولک ’’سینٹر‘‘ پارٹی) کی پیروی کرتے ہیں انقلاب دشمن ہیں۔ دیہی پرولتاریہ انقلاب دشمن فوج کیلئے کثیر تعداد میں دستے فراہم کرتا ہے‘‘
بنیادی بات جو یہاں دی گئی ہے مسلمہ ہے اور اس کیلئے ’’بائیں بازو والوں‘‘ کا اعتراف ان کی غلطی کا خاص طورسے واضح ثبوت ہے۔ یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ ’’پارلیمانیت سیاسی لحاظ سے فرسودہ‘‘ ہو چکی ہے اگر ’’دسیوں لاکھ‘‘ پرولتاریہ اور ان کے ’’دستے‘‘ نہ صرف عام طور پر پارلیمانیت کے حق میں ہیں بلکہ براہ راست ’’انقلاب دشمن‘‘ ہیں!؟ یہ بات صاف ہے کہ جرمنی میں پارلیمانیت سیاسی لحاظ سے ابھی فرسودہ نہیں ہوئی ہے۔ یہ بات صاف ہے کہ جرمنی میں ’’بائیں بازو والوں‘‘ نے اپنی خواہشات کو‘اپنے نظریاتی سیاسی رویے کو معروضی حقیقت سمجھ لیا ہے۔ انقلابیوں کیلئے یہ انتہائی خطرناک غلطی ہے۔
کمیونسٹوں کیلئے جرمنی میں پارلیمانیت درحقیقت ’’سیاسی لحاظ سے فرسودہ‘‘ ہو چکی ہے‘ لیکن معاملہ بالکل یہ ہے کہ ہمارے لئے جو کچھ فرسودہ ہے اس کو ہمیں کسی طبقے کے لئے‘ عوام کیلئے فرسودہ نہ سمجھنا چاہئے۔ ہم یہاں بھی دیکھتے ہیں کہ ’’بائیں بازو والے‘‘ بحث نہیں کر سکتے‘اپنے آپ کو طبقے کی پارٹی کی طرح‘ عوام کی پارٹی کی طرح نہیں چلا سکتے۔ آپ کو عوام کی سطح تک‘طبقے کے پسماندہ پرتوں تک نہیں گرنا چاہئے۔ یہ مسلمہ ہے۔ آپ کو یہ تلخ سچائی ان سے کہہ دینا چاہئے۔ آپ کو چاہئے کہ ان کے بورژوا جمہوری اور پارلیمانی تعصبات کو تعصبات کہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ ہوشمندی کے ساتھ آپ پورے طبقے (نہ صرف اس کے کمیونسٹ ہراول حصے کے) اور سارے محنت کش عوام (نہ صرف اس کے زیادہ باشعور لوگوں) کے طبقاتی شعور اور تیاری کی حقیقی کیفیت کی نگرانی کریں۔
جب تک آپ میں بورژوا پارلیمنٹ اور ہر دوسرے قسم کی رجعت کو ختم کرنے کی طاقت نہیں ہے‘ آپ کا یہ فرض ہے کہ آپ ان کے اندر محض اس وجہ سے کام کریں کہ وہاں ابھی مزدور ہیں جن کو پادریوں اور دیہاتی پسماندگی نے بیوقوف بنا دیا ہے‘ ورنہ آپ محض بکواسی بننے کا خطرہ مول لینگے۔
کیا ہم روسی بالشویکوں کو ستمبر 1917ء میں بمقابلہ دوسرے مغربی کمیونسٹوں کے یہ سمجھنے کا زیادہ حق نہیں تھا کہ روس میں پارلیمانیت سیاسی لحاظ سے فرسودہ ہو چکی ہے؟ ہاں تھا‘ کیونکہ سوال یہ نہیں ہے کہ آیا بورژوا پارلیمنٹوں کا وجود بہت زمانے سے ہے یا کم زمانے سے بلکہ یہ کہ محنت کش عوام سوویت نظام کو (نظریاتی‘سیاسی اور عملی طور پر) قبول کرنے اور بورژوا جمہوری پارلیمنٹ کو ختم کرنے(یا ختم ہونے دینے)پر کس حد تک تیار ہیں۔ یہ بالکل مسلمہ اور پوری طرح پایہ ثبوت کو پہنچا ہوا تاریخی واقعہ ہے کہ ستمبرتا نومبر 1917ء میں شہری مزدور طبقہ اور روس کے سپاہی اور کسان‘کچھ مخصوص حالات کی وجہ سے‘سوویت نظام کو قبول کرنے اور انتہائی جمہوری بورژوا پارلیمنٹ کو ختم کرنے کیلئے غیر معمولی طورپر تیار تھے۔ بہرحال بالشویکوں نے آئین ساز اسمبلی کا بائیکاٹ نہیں کیا بلکہ پرولتاریہ کے سیاسی اقتدار حاصل کرنے سے پہلے اور بعد میں انتخابات میں حصہ لیا۔ ان انتخابات نے بہت ہی قیمتی (اور پرولتاریہ کے لئے بہت حد تک کار آمد) سیاسی نتائج دئیے۔
ہم بالشویکوں نے انتہائی انقلاب دشمن پارلیمنٹوں میں شرکت کی اور تجربے نے دکھایا کہ ایسی شرکت نہ صرف کارآمد تھی بلکہ انقلابی پرولتاریہ کی پارٹی کیلئے ضروری تھی‘ روس میں پہلے بورژوا انقلاب (1905ء) کے فوراً بعد دوسرے بورژوا انقلاب (فروری1917ء) اورپھر سوشلسٹ انقلاب (اکتوبر1917ء) کی تیاری کیلئے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ 5 جنوری 1918ء کو آئین ساز اسمبلی کی برخاستگی میں اس بات سے رکاوٹ نہیں بلکہ آسانی ہوئی کہ اس انقلاب دشمن آئین ساز اسمبلی میں جو برخاست کی جانے والی تھی ایک بااستقلال بالشویکوں اور بے استقلال بائیں بازو والے سوشلسٹ انقلابیوں کا سوویت حزب مخالف تھا۔
کسی نئے سیاسی (اور صرف سیاسی ہی نہیں) خیال کو بدنام کرنے اور نقصان پہنچانے کا انتہائی قابل بھروسہ طریقہ یہ ہے کہ اس کی حمایت کرنے کے نام سے اس کو حماقت کی حد تک گرادیا جائے۔ کیونکہ اگر حقیقت کو ’’حد سے تجاوز‘‘ کر دیا جائے‘ اگر اس میں مبالغہ کیا جائے یا اگر اس کو حقیقی استعمال کی حد کے باہر کیا جائے تو وہ حماقت تک گر سکتی ہے اور وہ ناگزیر طورپر‘ ان حالات کے تحت‘ حماقت بن سکتی ہے۔ ہالینڈ اور جرمنی کے بائیں بازو والے اسی قسم کی بدسلوکی بورژوا جمہوری پارلیمنٹوں سے زیادہ سوویت شکل کی حکومت کی نئی حقیقت کے ساتھ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی اس پرانے نقطہ نظر کی بات کرے اور عام طورپر کہے کہ بورژوا پارلیمنٹوں میں شرکت سے انکار کرنا کسی حالت میں بھی قابل قبول نہیں ہے تو وہ غلطی پر ہوگا۔ میں یہاں وہ ڈھلے ڈھلائے حالات پیش کرنے کی کوشش نہیں کرونگا جن میں بائیکاٹ مفید ہوگا۔ میں ایسا نہیں کر سکتاکیونکہ اس مضمون کا فریضہ کہیں زیادہ محدود ہے۔
روسی تجربے نے بالشویکوں کے بائیکاٹ کے استعمال کی ایک کامیاب اور صحیح مثال (1905ء) اور دوسری جو غلط تھی (1906ء) ہمیں فراہم کی ہے۔ پہلی صورت کا تجزبہ کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ ایک رجعتی حکومت کو ایک رجعتی پارلیمنٹ منعقد کرنے سے روکنے میں ہم ایسی صورتحال میں کامیاب ہوئے جبکہ غیر پارلیمانی انقلابی عوامی عمل (خصوصاً ہڑتالیں)غیر معمولی تیز رفتاری سے بڑھ رہا تھا‘ جبکہ پرولتاریہ اور کسانوں کی کوئی بھی پرت رجعتی حکومت کو ذرا بھی مدد نہیں دے سکتی تھی‘ جبکہ انقلابی پرولتاریہ پسماندہ عوام پر ہڑتالی جدوجہد اور زرعی تحریک کے ذریعہ اثر انداز ہو رہا تھا [یعنی محنت کش طبقہ اور وسیع تر عوام نہ صرف خود پارلیمنٹ کو مسترد کر رہے تھے بلکہ انقلابی عمل میں داخل ہو رہے تھے]۔
لیکن ہم نے روس میں طویل‘ تکلیف دہ اور خون آشام تجربے سے اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ محض انقلابی کیفیت پر ہی انقلابی طریقہ کو نہیں بنانا چاہئے۔ طریقہ کار کو کسی ریاست (اور اس کے اطراف کی ریاستوں اور عالمی پیمانے پر تمام ریاستوں) کی ساری طبقاتی طاقتوں کا سنجیدہ اور سخت معروضی حساب لگا کر اور اسی طرح انقلابی تحریک کے تجربے کا حساب لگا کر بنانا چاہئے۔ پارلیمانی موقع پرستی کو محض گالیاں دیکر‘ پارلیمنٹوں میں شرکت سے محض انکار کر کے اپنی ’’انقلابیت‘‘ کا اظہار کرنا بہت آسان ہے۔ لیکن محض اس کے آسان ہونے سے یہ انتہائی مشکل فریضہ نہیں حل ہو جاتا۔
رجعتی پارلیمنٹوں کو انقلابی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے مشکل کام پر سے ’’چھلانگ‘‘ لگا کر اس مشکل سے ’’کترانے‘‘ کی کوشش بالکل بچگانہ بات ہے۔ آپ نیا سماج قائم کرنا چاہتے ہیں؟ اور رجعتی پارلیمنٹ میں بایقین‘پرخلوص اور باہمت کمیونسٹوں پر مشتمل اچھا پارلیمانی گروہ بنانے کی مشکل سے ڈرتے ہیں! کیا یہ بچپن نہیں ہے؟
نکتہ چینی—انتہائی تیز‘ بے رحمانہ اور اٹل نکتہ چینی پارلیمانیت یا پارلیمانی سرگرمی کے خلاف نہیں کرنی چاہئے بلکہ ان لیڈروں کے خلاف ہونی چاہئے جو پارلیمانی انتخابات اور پارلیمانی پلیٹ فارم کو انقلابی اور کمیونسٹ طور سے استعمال کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ان لیڈروں کے خلاف اور زیادہ نکتہ چینی ہونا چاہئے جو اس کو کرنا نہیں چاہتے۔ صرف ایسی نکتہ چینی اور ساتھ ہی نالائق لیڈروں کو نکال باہر کرنے اور انکی جگہ پر لائق لیڈروں کو لانے کے‘ یہ ایسا کارآمد اور مفید کام ہوگی جو بیک وقت ’’لیڈروں‘‘ کو مزدور طبقے اور محنت کش عوام کی قیادت کے قابل ہونے کی تربیت دے گا۔