حیدرآباد میں ایک روزہ مارکسی سکول
سکول مجموعی طور پر دو سیشنز پر مبنی تھا جس میں ’’مارکسزم اور مذہب‘‘ اور ’’مارکسزم اور بائیں بازو کی فرقہ پرستی‘‘ شامل تھے۔
سکول مجموعی طور پر دو سیشنز پر مبنی تھا جس میں ’’مارکسزم اور مذہب‘‘ اور ’’مارکسزم اور بائیں بازو کی فرقہ پرستی‘‘ شامل تھے۔
اردگان کی کیفیت درحقیقت ضیاالحق کے آخری دنوں سے مماثل ہے جب وہ مادی حقائق سے یکسر کٹ کے افغانستان اور وسط ایشیا میں بھی اپنی ’خلافت‘ کے خواب دیکھنے لگا تھا اور اپنے امریکی آقاؤں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔