راستہ کٹھن سہی، منزل تو منتظر ہے!
راستہ کٹھن ہو سکتا ہے لیکن منزل تو منتظر رہتی ہے۔
راستہ کٹھن ہو سکتا ہے لیکن منزل تو منتظر رہتی ہے۔
1994ء کے بعد امیر اور غریب کی تفریق میں اضافہ ہی ہوا ہے جبکہ اے این سی سے جڑے کاروباری افراد کی ایک قلیل پرت ارب پتی بن چکی ہے۔
این ایس ایف نے نوجوانوں کے حقوق کی لڑائی ہمیشہ جاری رکھی ہے اور اپنے سوشلسٹ نظریات پر قائم رہی ہے۔
موجودہ ریاستی کاروائی اس کے وجود کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ اس کو تبدیل اور پھر سے تابع کرنے کی کاوش ہے۔
آپریٹرز نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مطالبات جس میں سروس اسٹرکچر، ٹائم سکیل، اپ گریڈیشن اور کمپیوٹر الاؤنس شامل ہیں کو فی الفور منظور کیا جائے۔
جہاں زندہ انسانوں کو معاشی اور سیاسی طور پر درگور کیا جا رہا ہے وہاں تاریخی ورثے کے تحفظ کا سوال تو اس نظام میں پیدا ہی نہیں ہوتا۔
بھوک، آداب کے سانچوں میں ڈھل نہیں سکتی!
اس نظام زر کے اندر رہتے ہوئے اور آس پاس کے سرمایہ دارانہ ریاستوں کی موجودگی میں افغانستان میں امن، ترقی اور خوشحالی قائم کرنا ایک ناممکن عمل ہے۔
معاشی اور سماجی جبر کے ستائے ہوئے ان تدریسی محنت کشوں نے ضلعی انتظامیہ کے تمام بڑے دفاتر کے چکر لگائے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
حقوق پیسوں سے اگر ملیں تو پھر اس معاشرے کو فلاحی تو درکنار انسانی معاشرہ کہنا بھی محال ہو جاتا ہے۔
تمام تر سطحی تجزیوں کے برعکس سرمائے کے اس ننگے جبر کو مسلط رکھنے کے لئے نواز شریف کا سب سے زہریلا اور کاری اوزار عمران خان ہے۔
بولو کہ روزِ عدل کی بنیاد کچھ تو ہو!
حد یہ ہے کہ غیرت کے نام پر معصوم زندگیوں کے چراغ گل کرنے والے اس ’غیرت مند‘ معاشرے میں کوئی لڑکی 10 منٹ تک سڑک پر کھڑی نہیں رہ سکتی جس سے اس معاشرے کی غیرت کا ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو جاتا ہے۔
کسی بھی تحریک کی حمایت میں مودی جیسے درندہ صفت حکمران کی لفاظی اسے مجروح اور بدنام ہی کر سکتی ہے۔ یہ لہو میں زہر فشانی کے مترادف ہے۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں ایک عرصہ سے ریفرنڈم کا انعقاد نہیں کیا گیا لیکن پھر بھی یہ نام نہاد CBA براجمان ہے جس نے ناجائز طور پر ریلوے میں دفاتر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔