صدیوں کے اقرار اطاعت کو بدلنے…
اس نظام میں یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہو سکتا ہے اور یہی ہو گا۔ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہی ہوگا۔
اس نظام میں یہی ہوتا آیا ہے، یہی ہو سکتا ہے اور یہی ہو گا۔ امیر، امیر تر اور غریب، غریب تر ہی ہوگا۔
عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ معیشت ایک باریک رسی پر لڑکھڑاتے اور ڈولتے ہوئے چل رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ 1985ء کی نسبت اختلافات مزید بڑھے ہی ہیں اور تعلقات بگڑے ہیں۔
ہم اپنے قارئین کے لئے کانگریس 2016ء کی تیسری مجوزہ دستاویز ’’بین الاقوامی پیش منظر 2016ء‘‘ شائع کر رہے ہیں۔
’’جب محکمے میں چھوٹے سٹاف کا استحصال ہوتے ہوئے دیکھا تو میرے اندر اس استحصال کے خلاف لڑنے کا جذبہ پیدا ہوا‘‘
مقررین نے کہا کہ کشمیر کی مکمل آزادی اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔
| تحریر : لال خان | اڑی حملے پر انڈین میڈیا کی جانب سے بھڑکائے گئے ہیجان اور جنگی جنون اورجواب میں اسی انداز میں پاکستانی چینلوں کی جانب سے تنگ نظر حب الوطنی کی جذباتی نعرے بازی عالمی سیاسی حلقوں،میڈیا اور وسیع تر عوام میں متوقع پذیرائی حاصل نہیں […]
مرتضیٰ بھٹو نے حکمران سیاست اور نظام سے دشمنی مول لی تھی۔ مسلح جدوجہد کا راستہ اپنانے والوں کو ایک کہیں زیادہ مسلح اوردیوہیکل حاکمیت کبھی فراموش کرتی ہے نہ کبھی چھوڑا کرتی ہے۔
جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے… جنگ مسئلوں کا حل کیا دے گی؟
یونان کا بحران ختم نہیں ہوا بلکہ منظر عام سے غائب کر دیا گیا ہے۔
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر 24 ستمبر کو پلندی میں عظیم الشان ’سوشلسٹ کشمیر کانفرنس‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
چلتے بھی چلو، کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے…
مذہبی فرقہ واریت ان تھیوکریٹک ریاستوں کے ہاتھ میں ایک ایسا اوزار ہے جسے داخلی اور خارجی جبر میں استعمال کرتی ہیں۔
برہمن چمار کی لاش کیسے اٹھاتے؟ بھلا ایسا کسی شاستر پوران میں لکھا ہو، کہیں کوئی دکھا دے۔
آج کے نام اور آج کے غم کے نام…