حیدرآباد: بالشویک انقلاب کی 99 ویں سالگرہ کے موقع پر سیمینار
سیمینار میں ’’پاکستان میں محنت کشوں کی تحریک کے تناظر‘‘ پر بحث کی گئی جبکہ بالشویک انقلاب کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
سیمینار میں ’’پاکستان میں محنت کشوں کی تحریک کے تناظر‘‘ پر بحث کی گئی جبکہ بالشویک انقلاب کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
بالشویک انقلاب کی 99ویں سالگرہ کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد پاک ٹی ہاؤس میں کیا گیا جس میں طلبہ، محنت کشوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔
کالے دھن کے آقاؤں کی کرپشن اور چوری نوٹوں کی مرہون منت ہوتی ہے نہ ہی اس طرح سے یہ ختم ہو سکتی ہے۔
لاریوں میں بھی سماجی زندگی کی طرح تین درجے ہوتے ہیں۔ ’’فرسٹ‘‘، ’’سیکنڈ‘‘ اور’’ پبلک‘‘ یعنی اُمرا، شرفا اور عامی۔
اس منصوبے سے شاید عارضی طور پر ریاست اور نظام کو کچھ آسرا مل جائے لیکن لمبے عرصے میں تضادات شدید تر ہی ہوں گے۔ اس معاشی نظام میں پسے ہوئے عوام کے عذابوں میں کمی ممکن نہیں ہے۔
پوسٹ گریجویٹ کالج ہال میں جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (JKNSF) کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نومنتخب یونٹ کی حلف برداری بھی کی گئی۔
سٹاف کالونی الائیڈ ہسپتال فیصل آباد میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین اور بیروزگار نوجوان تحریک کی طرف سے بالشویک انقلاب کی 99ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔
مقررین نے کہا کہ آج دنیا جس بربریت، وہشت، مذہبی جنونیت، ریاستی دہشت گردی، بے روزگاری، غربت اور مہنگائی کا سامنا کر رہی ہے اُس سے نکلنے کا واحد حل سوشلسٹ انقلاب میں پنہاں ہے۔
ہر سال تقریباً 60 بلین رینڈ (جنوبی افریقہ کی کرنسی) کرپشن اور حکمرانوں کی عیاشیوں میں خرچ ہوتے ہیں جبکہ محض 45 بلین رینڈ سے تمام افراد کو مفت تعلیم مہیا کی جا سکتی ہے۔
اس سفر میں ایک لاکھ سے زائد جانیں ضائع ہوئیں۔ لاکھوں زخمی ہوئے اور اس سے کہیں زیادہ قید و بند ہوئے لیکن سفر ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا!
بالشویک انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ٹھٹہ اور بٹھورو میں سیمینار اور لیکچر کا اہتمام کیا گیا۔
جہاں ایک طرف سعودی بادشاہوں کی عیاشیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے وہاں سعودی عرب میں غربت میں بھی تیزی آرہی ہے۔
آصف رشید نے بحث کو سمیٹتے ہوئے انقلابی پارٹی کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔
ایک طرف ٹرمپ کی جیت سے پھیلنے والی مایوسی اور دوسری طرف اس سے وابستہ امیدیں، دونوں کے ٹوٹنے کے لئے بہت طویل عرصہ درکار نہیں ہو گا۔
سکول کو چیئر سبحان عبدالمالک نے کیا جبکہ دانیال عارف نے ایجنڈے پر لیڈآف دی۔