امریکی انتخابات: ٹرمپ کیسے جیت گیا!

| تحریر: عمران کامیانہ |

ریپبلکن پارٹی کے امیداوار کی حیثیت سے امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈٹرمپ کی کامیابی نے پوری دنیا میں بھونچال برپا کر دیا ہے۔ کچھ ہفتے پہلے تک سیاسی مسخرہ اور ذہنی طور پر غیر متوازن سمجھا جانے والا یہ شخص امریکہ کا صدر بن چکا ہے۔ یہ ’بریکزٹ‘ (برطانوی ریفرنڈم میں یورپی یونین سے علیحدگی کا ووٹ) سے کہیں بڑا دھچکا ہے اور اسی حوالے سے اسے ’امریکہ کا بریکزٹ‘ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ آخری وقت تک رائے عامہ کے تمام تر سروے خاصے مارجن سے ہیلری کلنٹن کی کامیابی کو یقینی قرار دے رہے تھے۔ لیکن نتائج ان کے برعکس رہے۔ سرمایہ داری کے سب سے سنجیدہ اور گھاک جریدے اکانومسٹ نے ان نتائج کو ’’امریکی انتخابات کی تاریخ کا سب سے ڈرامائی اپ سیٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ اکانومسٹ بڑے دکھ بھرے لہجے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’امریکہ کا اگلا صدر ایک ایسا شخص ہو گاجس نے اوباما کو رسوا کرنے کے لئے نسل پرستانہ مہم چلائی۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران اس نے خواتین، معذور افراد، ہسپانوی امریکیوں اور غیر ملکی (تارکین وطن) کی تذلیل کی۔ اس نے تشدد اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی وکالت کی اور اپنی مخالف (ہیلری) کے بارے میں کہا کہ وہ کرپٹ ہے اور ممکنہ طور پر ایک قاتل بھی ہے اور قسم اٹھائی کہ وہ اسے جیل بھیج دے گا۔ تقریباً آدھے امریکیوں نے اب ٹرمپ کو موقع دے دیا ہے کہ وہ اس دھمکی پر عمل درآمد کرے۔ کون جانتا ہے، شاید وہ ایسا کر بھی ڈالے‘‘۔ ارب پتی ستر سالہ ٹرمپ پہلی بار صدر منتخب ہونے والا امریکی تاریخ کا سب سے معمر شخص ہو گا۔

donald-trump-cartoon
’کچھ ہفتے پہلے تک سیاسی مسخرہ اور ذہنی طور پر غیر متوازن سمجھا جانے والا یہ شخص امریکہ کا صدر بن چکا ہے‘

پاکستانی وقت کے مطابق 10 نومبر کو رات گئے آنے والے نتائج کے مطابق ٹرمپ نے 279 الیکٹورل ووٹ حاصل کر کے اپنی فتح یقینی بنائی۔ صدر منتخب ہونے کے لئے 270 ووٹ درکار تھے۔ ہیلری کلنٹن 228 الیکٹورل ووٹ ہی حاصل کر پائی۔ 31 الیکٹورل ووٹوں کا فیصلہ ہونا ابھی باقی تھا۔ مطلق اعداد و شمار کے لحاظ سے ٹرمپ کو 47 فیصد یا 5 کروڑ 94 لاکھ ووٹ (تقریباً)ملے جبکہ ہیلری کو 48 فیصد یا 5 کروڑ 96 لاکھ ووٹ ملے۔ تاہم فیصلہ کن شمار الیکٹورل ووٹوں کا ہوتا ہے جن کے لحاظ سے ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو چکا ہے۔ ٹرن آؤٹ توقعات سے کم رہا۔ گلوبل نیوز کے اندازے کے مطابق ووٹ ڈالنے کے اہل 241 ملین افراد میں سے 124 ملین لوگوں نے ووٹ ڈالا۔ جبکہ باقی کے تقریباً نصف نے ووٹ ڈالنا ضروری نہیں سمجھا جو کہ بذات خود مروجہ سیاست اور صدارتی امیدواروں سے بیزاری کا ایک اظہار ہے۔
ٹرمپ کے ابھار اور پھر انتخابات میں انتہائی غیر متوقع کامیابی نے امریکی سیاست پر چڑھا ’تہذیب‘، ’جمہوریت‘، ’انسانی حقوق‘ اور ’امریکی اقدار‘ کا منافقانہ لبادہ تار تار کر دیا ہے۔ بورژوا قیادت کا یہ بحران درحقیقت سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت اور گہرے نامیاتی بحران کی غمازی کرتا ہے۔ ان انتخابات میں وال سٹریٹ، ریاستی و سیاسی اسٹیبلشمنٹ اور ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس کی غیر اعلانیہ طور پر ’آفیشل‘ امیدوار ہیلری کلنٹن تھی۔ ٹرمپ کے برعکس وہ امریکی سامراج کی با اعتماد نمائندہ تھی۔ یہی وجہ ہے سرمایہ داری کے سنجیدہ پالیسی ساز ٹرمپ کے ابھار کی وجہ سے شدید اضطراب میں مبتلا تھے جو اس کی کامیابی کے بعد کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
ٹرمپ کی کامیابی کا جائزہ کئی حوالوں سے لینے کی ضرورت ہے۔ یہ سرمایہ داری کے گہرے بحران سے امریکی سماج میں جنم لینے والے شدید خلفشار، بے چینی اور سب سے بڑھ کر مروجہ سیاست، معیشت اور اسٹیبلشمنٹ سے بیزاری کا اظہار ہے۔ ٹرمپ نے اپنی متنازعہ انتخابی مہم میں نظام کو انتہائی دائیں جانب سے چیلنج کیا، اپنی کاروباری کامیابیوں کو اپنی قابلیت کا ثبوت قرار دیا اور بائیں بازو کے کسی متبادل کی عدم موجودگی میں (برنی سینڈرز کے دوڑ سے باہر ہونے کے بعد) پیدا ہونے والے سیاسی خلا کا بھرپور فائدہ اسے ملا۔ ٹرمپ کو پڑنے والا ووٹ ایک مسخ شدہ شکل میں حکمران طبقے اور ’سٹیٹس کو‘ کی علامت ہیلری کلنٹن سے نفرت کا ووٹ ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ایک سے زیادہ مرتبہ وضاحت کر چکے ہیں کہ 2008ء کے بعد سرمایہ داری جس معاشی بحران اور گراوٹ سے دو چار ہوئی ہے اس نے دہائیوں سے چلے آ رہے سیاسی اور سماجی توازن کو بھی توڑ ڈالا ہے۔ ایسے میں روایتی سیاست بحیثیت مجموعی زوال پزیری کا شکار ہے۔ اس کا اظہار غیر متوقع سیاسی مظاہر اور سیاسی افق کے دونوں جانب نئے رجحانات کے ابھار میں ہو رہا ہے۔ برطانیہ میں لیبر پارٹی میں جیرمی کاربن، فرانس میں انتہائی دائیں بازو کے رجحان ’فرنٹ نیشنل‘، یونان میں سائریزا اور سپین میں پوڈیموس اور امریکی سیاست میں بائیں طرف برنی سینڈرز اور دائیں جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا ابھار، برطانوی ریفرنڈم اور اب امریکی انتخابات کے غیر متوقع نتائج اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں جو آنے والے وقت میں بھی اتار چڑھاؤ کے ساتھ جاری رہے گا۔ سرمایہ داری کے ایک اور اہم جریدے فنانشل ٹائمز (FT) نے اسی سمت اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’رائج الوقت سیاست اور معیشت کے خلاف بغاوت لامحدود طور پر کہیں زیادہ بڑی ہے۔ فرانس؛ اب بھی بھلا کوئی اعتماد سے کہہ سکتا ہے کہ میری لی پن (دائیں بازو کی نسل پرست سیاستدان)اگلا صدارتی الیکشن نہیں جیت سکتی؟ آگے جو کچھ بھی ہو اس کی گونج ڈونلڈ ٹرمپ کی بعید از قیاس جیت سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ اب کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ ہم مغربی دنیا پر دہائیوں سے حاوی اس مروجہ سیاست اور معیشت کے خلاف ایک بغاوت دیکھ رہے ہیں‘‘۔

hillary-clinton-supporters-in-shock
نتائج انتہائی غیر متوقع رہے۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ایک طرف نسل پرستی، مردانہ اور قومی شاؤنزم پر مبنی زہریلی لفاظی کا خوب استعمال کر کے متنازعہ انداز میں ہی سہی لیکن ’مقبولیت‘ حاصل کی۔ اس کی انتخابی مہم کا عنوان ہی ’’امریکہ کو دوبارہ عظیم بناؤ تھا‘‘۔ یہ نعرہ اور اسے ملنے والی مقبولیت بذات خود اس معروضی حقیقت کا اظہار ہے امریکہ اب پہلے جیسا ’عظیم‘ نہیں رہا۔ لیکن ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے کہ ٹرمپ نے ہیلری کے برعکس امریکی سماج اور خارجہ پالیسی کے سلگتے ہوئے مسائل پر دائیں بازو کا زیادہ واضح پروگرام پیش کر کے بلند و بانگ دعوے بھی کئے۔ زمینی حقائق سے قطع نظر لوگوں کی امیدوں سے بڑے وعدے اور دعوے دنیا بھر میں دائیں بازو کے پاپولزم کی روایتی واردات ہوتی ہے۔ مثلاً سماج کی پسماندہ پرتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس نے غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ میں نوکریوں کا چور اور بیروزگاری اور جرائم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کاروائی کا عندیہ دیا۔ اسی طرح میکسیکو سے غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے لوگوں کو روکنے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان ’اونچی، بڑی اور خوبصورت‘ دیوار تعمیر کرنے کا رجعتی نعرہ لگایا۔ معاشی میدان میں اس نے کارپوریٹ ٹیکس کم کرکے کاروباری سرگرمیوں میں اضافے، 25 ملین (2 کروڑ پچاس لاکھ) نئی نوکریاں پیدا کرنے اور امریکی معیشت کے گروتھ ریٹ کو دوگنا کرکے 4 فیصد تک لے جانے کا وعدہ کیا ہے۔ اسی طرح اس نے تمام امریکیوں کے لئے بالائی ٹیکس بریکٹ کو 39.6 فیصد سے کم کر کے 33 فیصد تک لانے کا وعدہ کیا ہے۔ کروڑوں نئی نوکریاں پیدا کرنے کے لئے ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے منصوبے وسیع پیمانے پر شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم اس تعمیر نو کے پروگرام میں دسیوں لاکھ لوگوں کو کام دیں گے۔ امریکہ کا انفراسٹرکچر سب سے برتر ہو گا‘‘۔ یہ درحقیقت ریاستی اخراجات میں بڑے اضافے کے ذریعے معیشت کو چلانے کا کینشین طریقہ کار ہے جس کی بات ٹرمپ کر رہا ہے۔ امریکی سرمایہ داری کی حالیہ کیفیت اور موجودہ حالات میں یہ کس حد تک قابل عمل ہے اور جی ڈی پی کے 105 فیصد ریاستی قرضے کے ساتھ یہ سارا خرچہ کون بھرے گا، یہ ایک اور بحث ہے۔ خارجہ پالیسی اور تجارت کے حوالے سے اس نے ایک طرف داعش کے خلاف روس کے ساتھ مل کر کاروائی کا عندیہ دیا تو دوسری طرف چین کی سرزنش، تحفظاتی تجارت (Protectionism) کی پالیسی کے ذریعے چین اور دوسرے ممالک کی سستی مصنوعات کی امریکی منڈی پر بمباری کو روکنے، امریکہ کی زنگ آلود صنعت کو دوبارہ چالو کرنے اور امریکہ سے نوکریوں کے دوسرے ممالک میں انخلا کو روکنے کا وعدہ کیا۔ خارجہ پالیسی پر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرے گا، اسلامی بنیاد پرستوں کے خلاف سخت کاروائی کرے گا، روس کے ساتھ مل کر داعش کے خلاف کاروائی کرے گا اور اوباما اور کلنٹن کی ’معذرت خواہانہ پالیسی‘ کے برعکس ’امریکہ کے دشمنوں‘ کو سبق سکھائے گا اور ’دوستوں‘ کے ساتھ کھڑا ہو گا۔ تاہم کم از کم اجرت (Minimum Wage) کے معاملے میں ٹرمپ کے بیانات مسلسل بدلتے رہے۔

donald-trump-cartoon-by-latuff
’بورژوا قیادت کا یہ بحران درحقیقت سرمایہ داری کی تاریخی متروکیت اور گہرے نامیاتی بحران کی غمازی کرتا ہے‘

ٹرمپ کی اس عیارانہ لفاظی، جس میں سب کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور تھا، کے برعکس ہیلری کلنٹن کا پروگرام انتہائی متذبذب اور مبہم تھا اور زیادہ تر پہلے سے جاری پالیسیوں کے تسلسل پر مبنی تھا جن سے عوام خاصے بیزار ہو چکے ہیں۔ ہیلری کی تمام تر انتخابی مہم کارپوریٹ میڈیا کی بھرپور کوریج اور حمایت کی مرہون منت تھی اور بالعموم اگر دنیا بھر میں عوام کے میڈیا پر بڑھتے ہوئے عدم اعتماد کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس کا فائدہ بھی ٹرمپ کو ہی ہوا۔ ’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘ کے مصداق ٹرمپ کے خلاف کارپوریٹ جرائد اور ٹیلی وژن چینلز کی جانب سے جاری کی جانے والی تنبیہات سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہی ہوا۔ وہ شاید خود بھی متنازعہ بننے کی پوری کوشش کرتا رہا۔ اس کی ان حرکتوں سے بہت سے پرانے اور نمایاں ریپبلکن رہنما بھی نالاں نظر آئے۔ کولن پاول (بش دور کا سابقہ وزیر خارجہ) نے یہاں تک کہا کہ ’’اسے شرم نہیں آتی۔ وہ پوری قوم کو ذلیل کروا رہا ہے‘‘۔
جیسا کہ گور ویڈال نے کہا تھا کہ ڈیموکریٹ اور ری پبلکن، دونوں ہی امریکی سیاست کے دائیں باز و ہیں۔ عوام کو ’متبادل‘ کا جھانسا دینے کے لئے عام طور امریکی میڈیا میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ’بایاں بازو‘ قرار دیا جاتا ہے جو کہ سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ فرق صرف ان کے طریقہ واردات میں ہوتا ہے۔ حالیہ انتخابات میں بھی ٹرمپ کی رجعت، نسل پرستی اور بیہودہ لفاظی کو مبالغہ آرائی سے پیش کر کے اس کے مقابلے میں ہیلری کو بڑا ’مہذب‘، ’لبرل‘ اور ’ترقی پسند‘ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ 2009ء سے 2013ء تک امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے جو بربادی ہیلری نے مشرق وسطیٰ، بالخصوص شام اور لیبیا، میں پھیلائی اس کے سامنے شاید جارج بش کے جرائم بھی ماند پڑ جائیں۔ مضحکہ خیز طور پر پاکستان جیسے ممالک میں بھی ہیلری حکمران طبقات اور ان کے دانشوروں کی آنکھوں کا تارہ بنی ہوئی تھی۔ لیکن برطانوی ریفرنڈم کی ہی طرح ایک طرف کی وحشت سے خوف دلا کر دوسری طرف ہانکنے کی یہ واردات نہ صرف یہ کہ کامیاب نہیں ہو پائی بلکہ اس کا الٹ اثر ہی برآمد ہوا۔
جیسا کہ نتائج نے ثابت کیا ہے کہ اس صدارتی دوڑ میں برنی سینڈرز ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو مات دے سکتا تھا۔ گزشتہ عرصے میں خود کو برملا ’ڈیموکریٹک سوشلسٹ‘ قرار دینے والے برنی سینڈرز کا امریکی سیاست میں ابھار ایک اور غیر معمولی مظہر تھا۔ یہ کئی دہائیوں میں پہلی بار ہوا کہ امریکی سیاست میں ’سوشلزم‘ کے لفظ کی گونج اتنے وسیع پیمانے پر سنائی دی۔ سینڈرز کوئی مارکسسٹ تو نہیں تھا لیکن اس نے طبقاتی نقطہ نظر ٹھوس انداز میں اپنایا، 1 فیصد کے مقابلے میں 99 فیصد کی بات کی،وال سٹریٹ کی ڈاکہ زنی کے خلاف آواز اٹھائی اور اگرچہ اصلاح پسندی پر ہی مبنی سہی لیکن بائیں بازو کا پروگرام پیش کیا۔ امریکہ کی بالعموم قدامت پرست اور جارحانہ سرمایہ داری میں مقید سیاست سے موازنہ کیا جائے تو سینڈرز کا پروگرام بہت ریڈیکل تھا۔ اس نے یونیورسل ہیلتھ کیئر یعنی سب کے لئے مفت علاج (امریکہ دنیا کا واحد ترقی یافتہ ملک ہے جہاں یونیورسل ہیلتھ کیئر نہیں ہے)، یونیورسٹی کی مفت تعلیم، طلبہ پر قرضوں کے خاتمے، 1 فیصد امیر ترین افراد پر ٹیکس بڑھانے، سیاست کو امرا کی اجارہ داری سے آزاد کرنے، کم از کم اجرت بڑھانے اور جارحیت اور جنگوں پر مبنی خارجہ پالیسی ترک کرنے کا پروگرام دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اسے امریکی محنت کشوں اور نوجوانوں میں تیزی سے مقبولیت ملی جو کہ سامراجی حکمرانوں کے لئے ناقابل قبول تھی۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے داخلی انتخابات میں اسے دھاندلی اور چالبازی کے ذریعے ہرا دیا گیا اور ہیلری کلنٹن صدارتی انتخابات لڑنے کے لئے ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار قرار پائی۔ المیہ یہ ہے کہ آزادانہ طور پر انتخابات میں جانے کی بجائے سینڈرز نے ہیلری کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یہ اقدام سینڈرز کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے اور اسے بھرپور حمایت دینے والے کروڑوں لوگوں کے ساتھ کھلی غداری کے مترادف تھا۔ سینڈرز سے وابستہ امیدوں کے ٹوٹنے اور اس کے گرد ابھرنے والی تحریک کی پسپائی نے بھی ٹرمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

bernie-sanders
برنی سینڈرز

برطانوی جریدہ ’انڈی پینڈنٹ‘ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ’’اگر برنی سینڈرز امیدوار ہوتا تو ڈونلڈ ٹرمپ ہار جاتا… 29 مئی 2016ء کو اپنے بیان میں سینڈرز نے کہا تھا کہ ہم ہر پول میں ٹرمپ کو بڑے مارجن سے شکست دے رہے ہیں… 74 سالہ سینڈرز کے جلسوں میں جو جذبہ اور خوشی تھی وہ واضح طور پر ہیلری کے جلسوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی… یہ کوئی افسانوی بات نہیں ہے بلکہ رائے عامہ کے کئی سروے بتا رہے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مقابلہ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں برنی سینڈرز زیادہ بہتر انداز میں کر سکتا تھا‘‘۔
’آبزرور‘ اس سلسلے میں لکھتا ہے کہ ’’ہیلری کلنٹن اور ڈیموکریٹس کو ٹرمپ کی جیت کا سب سے زیادہ دوش خود کو دینا چاہئے… مین سٹریم میڈیا ہیلری کی اس سے زیادہ مدد نہیں کر سکتا تھا اور ٹرمپ خود ہارنے کی اس سے زیادہ کوشش نہیں کر سکتا تھا… امریکہ میں سب سے مقبول سیاستدان برنی سینڈرز باآسانی ٹرمپ کو ہرا سکتاتھا۔ لیکن پس پردہ جوڑ توڑ اور ہیلری کی پروردہ ڈیموکریٹک پارٹی کی کرپٹ قیادت (DNC) نے یقینی بنایا کہ سینڈرز (داخلی انتخابات میں) میں ہار جائے‘‘۔
برنی سینڈرز کے ابھار سے لے کر ڈونلڈٹرمپ کی جیت تک، جن سلگتے ہوئے تضادات نے اپنا اظہار حالیہ عرصے میں کیا ہے، وہ ختم ہونے والے نہیں۔ اس کے برعکس آنے والے عرصے میں یہ مزید بھڑکیں گے۔ ٹرمپ امریکی سماج کی پسماندہ پرتوں کے جذبات اور رجعتی خواہشات سے کھیل کر اور بلند و بانگ دعوے کر کے برسر اقتدار تو آگیا ہے لیکن امریکی سرمایہ داری جس زوال پزیری سے دو چار ہے اس میں کہنے اور کرنے کا فرق اسے جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔ پاپولزم بائیں بازو کا ہو یا دائیں بازو کا، ایسے ہی طوفانی انداز میں آتا ہے لیکن مسند اقتدار پر براجمان ہونے کے بعد زمینی حقائق کے تحت پاپولسٹ لیڈر بڑے ’پریکٹیکل‘ ہو جاتے ہیں۔ موجودہ حالات میں ’فاشزم‘ کے خطرات کے تجرئیے بھی سامنے آ رہے ہیں جو کہ آج کے عہد میں طبقاتی قوتوں کے توازن کے پیش نظر زیادہ تر مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو امریکہ میں ٹرمپ کی جیت ہندوستان میں مودی کے پاپولزم سے مماثل ایک مظہر ہے، اگرچہ کلی طور پر یہ تمثیل درست نہیں۔ ایک طرف ٹرمپ کی جیت سے پھیلنے والی مایوسی اور دوسری طرف اس سے وابستہ امیدیں، دونوں کے ٹوٹنے کے لئے بہت طویل عرصہ درکار نہیں ہو گا۔ نتائج سامنے آنے کے بعد سے امریکہ کے مختلف شہروں میں ٹرمپ مخالف احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ یہ مظاہرے بڑی تحریک میں بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں حالات امریکہ کے محنت کش طبقات اور بالخصوص نوجوان نسل کو بہت مختصر وقت میں دور رس اورجرات مندانہ نتائج اخذ کرنے پر مجبور کریں گے۔ نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں انتشار اور خلفشار بڑھے گا۔ ٹرمپ کا اقتدار وہ کوڑا ثابت ہو گا جو امریکہ میں انقلاب کے عمل کو آگے بڑھائے گا۔ برنی سینڈرز کا ابھار محض ایک جھلک تھی۔ آنے والے وقت کا افق بڑے واقعات سے لبریز ہے۔