رحیم یارخان: ’انقلابِ روس کی تاریخ‘ کی تقریب رونمائی
تقریب کی صدارت بزرگ مزدور رہنما سید زمان خان نے کی جبکہ معروف مارکسی رہنما اور ایشین مارکسسٹ ریویو کے ایڈیٹر ڈاکٹر لال خان مہمان خصوصی تھے۔
تقریب کی صدارت بزرگ مزدور رہنما سید زمان خان نے کی جبکہ معروف مارکسی رہنما اور ایشین مارکسسٹ ریویو کے ایڈیٹر ڈاکٹر لال خان مہمان خصوصی تھے۔
پریس کلب فیصل آباد سے ضلع کونسل تک پرامن واک کی گئی اور طلبہ کی بحالی کے لئے نعرے لگائے گئے۔
تقریب میں سکھر اور گردونواح سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں، محنت کشوں اور سیاسی تنظیموں کے کارکنان نے سینکڑوں کی تعداد میں بھرپور شرکت کی۔
اس سامراجی جارحیت اور بنیاد پرستانہ دہشت نے یہاں کے عوام کو تاراج کرکے رکھ دیا ہے۔
آرٹس کونسل کا آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سخت گرمی کے باوجود بارہ بجے سے ہی شرکا ہال میں پہنچنا شروع ہو چکے تھے۔
اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کتاب کا پس منظر، اہمیت اور اس میں بیان کئے گئے مختلف نکات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
تقریب میں طلبہ، ٹریڈ یونین رہنماؤں، محنت کشوں، سیاسی کارکنان، ادبی تنظیموں کے نمائندگان اور خواتین سمیت دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
تحریر: لال خان کتاب لکھنے میں ملالہ یوسف زئی کی معاونت کرنے والی مصنفہ کرسٹینا لیمب نے1989ء میں پاکستان کے بارے میں گہرے تجزیئے پر مشتمل ایک مشہور کتاب ’’Wating For Allah‘‘ ( اللہ کا انتظار) لکھی تھی۔ اس کتاب میں انہوں نے لکھا تھا کہ اگر بھٹو اپنی قبر […]
ہزارہ آبادی کو جس طرح مری آباد اور ہزارہ ٹاؤن میں محصور ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے اس کے پیش نظر یہ علاقے شاید غزہ کی پٹی کے بعد کھلے آسمان تلے دنیا کی دوسری بڑی جیل میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
خیراللہ نے محفل کے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ طبقاتی نظام میں انسانوں کے ساتھ ساتھ ادب بھی سرمائے کا غلام ہے۔
سکول ایک ہی سیشن پر مبنی تھا جس کا موضوع ’تاریخی مادیت‘ تھا۔
اس کی شہادت کے پچاس سال بعد بھی اس کی جدوجہد نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہے اور کئی اسباق سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کی یادیں آج بھی محروم اور محکوم طبقات کی امیدوں اور ارمانوں کو جلا بخشتی ہیں۔
کردوں کی قومی آزادی کی تحریک کئی نسلوں پر مبنی ہے لیکن اس قومی مسئلے کو کرد حکمران طبقات کے سیاستدان اور سردار اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کا صفایا کرنے کی ہر کوئی کم از کم بات کرتا ہے۔ لیکن پھر اس بدعنوان سیاست اور حاکمیت میں ان کو ایسی قوتوں کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے جنکے صفائے کی بات کی جاتی ہے۔
ایسٹبان والکوف کا خصوصی پیغام ہم اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔