مظفر آباد: فہیم اکرم کے یوم شہادت پر طلبہ حقوق کی بحالی کے لئے احتجاجی مظاہرہ
مقررین نے فہیم اکرم شہید کی لازوال جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا اور فہیم کی جدوجہد کو آج کے عہد میں جدید بنیادوں پر جاری رکھنے کاعزم کیا۔
مقررین نے فہیم اکرم شہید کی لازوال جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا اور فہیم کی جدوجہد کو آج کے عہد میں جدید بنیادوں پر جاری رکھنے کاعزم کیا۔
’’جرمنی کا متبادل‘‘ (AfD) پارٹی کا یہ ابھار ایک عارضی اور کھوکھلا مفروضہ ہے۔ نہ اس کو اتنی وسیع بنیادیں حاصل ہو سکیں گی اور نہ ہی یہ اکیلے بر سر اقتدار آسکے گی۔
کتاب کا اردو ترجمہ کسی بھی مشرقی زبان میں کتاب کا پہلا ترجمہ ہے جو اردو بولنے اور سمجھنے والے کروڑوں قارئین تک انقلابی مارکسزم کے نظریات اور انقلابِ روس کی میراث پہنچانے کا وسیلہ ثابت ہو گا۔
صہیونی ریاست کے ظلم و جبر کی بھی انتہا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کی ریاکاری بھی بدترین ہے۔
فیصل آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ نوجوانوں کے لئے بلوچستان کے حوالے سے اِس نوعیت کی سیاسی و نظریاتی نشست کا انعقاد کیا گیا۔
جیسے جیسے یہ نظام معاشی بحران میں مزید دھنستا جا رہا ہے اور بڑھتی ہوئی محرومی اور ذلت کے ساتھ سماجی بوسیدگی زیادہ ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے غیرت کے نام پر قتل کے جرائم کی وحشت بھی بڑھ رہی ہے۔
الیکشن میں پوسٹروں اور بینروں کے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں۔ کارنر میٹنگز مختلف علاقوں کے درمیانے مالدار کاروباری کرواتے ہیں۔ پولنگ ایجنٹوں کے لیے اعلیٰ کھانے پیک ہو کر آتے ہیں۔
مغرب کی ’’جمہوری‘‘ ہیروئین کی حاکمیت میں یہ ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔ ایک پوری اقلیت کا صفایا کرنے کی درندگی جاری ہے۔
سکول میں سکھر، خیرپور، ٹھری میر واہ اور گردو نواح کے علاقوں سے نوجوانوں اور محنت کشوں نے شرکت کی۔
یہ درمیانے طبقے کا رجحان درحقیقت مقابلے اور نابرابری پر مبنی زوال پذیر نظام کی تلخ حقیقتوں سے فرار کا راستہ ہے۔
جذبے، مورال، ڈسپلن، انتظامات، سیشنز میں ہونے والی بحثوں کے معیار اور مقدار کے لحاظ سے یہ ایک کامیاب تربیتی سکول تھا جو خطے میں انقلابی پارٹی کی تعمیر کا عمل آگے بڑھائے گا۔
یہ انتفادۂ کشمیر کانفرنس کشمیر کی جدوجہد آزادی کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ مہنگی تعلیم، غربت اور بیروزگاری سے بدحال نوجوانوں کو پورے برصغیر میں اس نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ ثابت ہوا ہے کہ اصلاح پسندی چاہے کتنی ہی ریڈیکل کیوں نہ ہو، زیادہ عرصے تک عوام کے سماجی و معاشی حالات میں بہتری اور ترقی کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔
پاکستان میں 70 سال بعد بھی ایک جدید قومی ریاست اور یکجا ’’پاکستانیت‘‘ پر مبنی سماجی و اقتصادی اور تاریخی اعتبار سے ایک قوت تشکیل نہیں پاسکی۔
اِس کنونشن کا پیغام پوری دنیا میں انقلابی نوجوانوں کو نیا عزم، حوصلہ اور شکتی دے گا اور اِس خطے میں طبقاتی جدوجہد کو سوشلسٹ فتح کی منزل سے ہمکنار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔