سیالکوٹ: مطالبات کے لئے اساتذہ کا احتجاج
’’اگر حکومت اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہ ٓئی تو دسمبر کے پہلے ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب ہاؤس کے باہر دھرنا ہوگ‘‘
’’اگر حکومت اپنے ہتھکنڈوں سے باز نہ ٓئی تو دسمبر کے پہلے ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب ہاؤس کے باہر دھرنا ہوگ‘‘
کانگریس کا انعقاد 22 اور 23 اکتوبر کو ایوان اقبال لاہور میں کیا گیا جس میں ملک بھر سے تقریباً 2200 کامریڈز نے شرکت کی۔
’’جب محکمے میں چھوٹے سٹاف کا استحصال ہوتے ہوئے دیکھا تو میرے اندر اس استحصال کے خلاف لڑنے کا جذبہ پیدا ہوا‘‘
مقررین نے کہا کہ کشمیر کی مکمل آزادی اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے طبقات سے پاک معاشرے کے قیام کیلئے جدوجہد جاری و ساری رکھیں گے۔
دوران ریلی نوجوانوں نے مہنگائی، غربت، بیروزگاری، دہشت گردی، بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جاری خونریزی کے خلاف اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے بہادر نوجوانوں، محنت کشوں اور عوام کے حق میں نعرے بازی کی۔
کنونشن میں ’’موجودہ مسائل اور نوجوانوں کا کردار‘‘ کے موضوع پر بحث کی گئی۔
سکول ایک ہی سیشن ’’بائیں بازو کا کمیونزم: ایک طفلانہ بیماری‘‘ پر مشتمل تھا۔ سیشن کو چیئر عامر سہیل نے کیا۔
پاکستان میں انقلابی مارکسسٹ قوت کی تعمیر میں سرگرم ’طبقاتی جدوجہد‘ کے کامریڈز کی انہوں نے ہمیشہ ہر ممکن طریقے سے تائید اور مدد کی۔
25 روپے یونٹ خرید کر صارفین کو بجلی 17 روپے فی یونٹ میں دی جا رہی ہے جبکہ یہی بجلی واپڈا خود 8 روپے فی یونٹ کے حساب سے تیار کرتا تھا۔
این ایس ایف نے نوجوانوں کے حقوق کی لڑائی ہمیشہ جاری رکھی ہے اور اپنے سوشلسٹ نظریات پر قائم رہی ہے۔
آپریٹرز نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ ان کے مطالبات جس میں سروس اسٹرکچر، ٹائم سکیل، اپ گریڈیشن اور کمپیوٹر الاؤنس شامل ہیں کو فی الفور منظور کیا جائے۔
معاشی اور سماجی جبر کے ستائے ہوئے ان تدریسی محنت کشوں نے ضلعی انتظامیہ کے تمام بڑے دفاتر کے چکر لگائے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے میں ایک عرصہ سے ریفرنڈم کا انعقاد نہیں کیا گیا لیکن پھر بھی یہ نام نہاد CBA براجمان ہے جس نے ناجائز طور پر ریلوے میں دفاتر پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
سکول ایک ہی سیشن ’جنوبی ایشیا کا تناظر‘ پر مشتمل تھا۔
ڈاکٹر لال خان نے کہا کہ کامریڈ کجل بھوک، افلاس، جہالت اور بیماریاں پھیلانے والے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مردانہ وار جدوجہد کررہا تھا اور اسی نظام نے وقت سے بہت پہلے اس کی زندگی چھین لی۔