نیپال: ’کمیونسٹ‘ حکومت کا امتحان
نیپال کی کمزور اور بوسیدہ سرمایہ داری میں اس طرح کی اصلاحات کی گنجائش ہی نہیں ہے جس سے محنت کشوں اور محکوم عوام کی زندگی میں بہتری آئے۔
نیپال کی کمزور اور بوسیدہ سرمایہ داری میں اس طرح کی اصلاحات کی گنجائش ہی نہیں ہے جس سے محنت کشوں اور محکوم عوام کی زندگی میں بہتری آئے۔
ہر سال 1500 ارب ڈالر سے زائد رقم اِن تباہی کے آلات پر دنیا بھر میں خرچ کی جاتی ہے۔ اِن پیسوں سے دنیا میں غربت اور بھوک کا خاتمہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کیا جا سکتا ہے۔
یہ بے دھڑک اقدام محض ٹرمپ کی ڈانواڈول بڑھکوں کا تسلسل نہیں ہے بلکہ امریکی ریاست اور سماج میں گہرے تضادات کی غمازی کرتا ہے۔
یہ بحران معیشت سے بڑھ کر سرمایہ دارانہ نظام کے ساختی بحران میں بدل گیا ہے۔
یمن کی اِس بربادی کی وجوہات بنیادی طور پر 2011ء میں ابھرنے والے عرب انقلابات کی پسپائیوں کی لڑی سے جڑی ہوئی ہیں۔
اس خطے کی مصنوعی آزادیوں سے کم از کم عوام نے یہ سبق ضرور سیکھا ہے کہ سفید کی جگہ سیاہ حکمران آنے سے حالات زندگی نہیں بدلتے۔
گو پچھلے چند سالوں کی پورے خطے میں شدت پکڑتی ہوئی پراکسی جنگوں کی لبنان میں بڑی مداخلت نہیں رہی تھی لیکن لبنان کی اپنی تاریخ میں بہت سے ایسے ادوار ہیں جہاں خانہ جنگی اور فرقہ وارانہ خونریزی رہی ہے۔
چین عالمی سرمایہ دارانہ طاقت کے طور پر اس نظام کے عروج کے دور میں نہیں بلکہ زوال کے عہد میں ابھرا ہے۔ اس نے تضادات کو حل کرنے کی بجائے انہیں مزید بڑھاوا دیا ہے۔
اس سامراجی جارحیت اور بنیاد پرستانہ دہشت نے یہاں کے عوام کو تاراج کرکے رکھ دیا ہے۔
کردوں کی قومی آزادی کی تحریک کئی نسلوں پر مبنی ہے لیکن اس قومی مسئلے کو کرد حکمران طبقات کے سیاستدان اور سردار اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی کا صفایا کرنے کی ہر کوئی کم از کم بات کرتا ہے۔ لیکن پھر اس بدعنوان سیاست اور حاکمیت میں ان کو ایسی قوتوں کا سہارا بھی لینا پڑتا ہے جنکے صفائے کی بات کی جاتی ہے۔
’’جرمنی کا متبادل‘‘ (AfD) پارٹی کا یہ ابھار ایک عارضی اور کھوکھلا مفروضہ ہے۔ نہ اس کو اتنی وسیع بنیادیں حاصل ہو سکیں گی اور نہ ہی یہ اکیلے بر سر اقتدار آسکے گی۔
صہیونی ریاست کے ظلم و جبر کی بھی انتہا ہے اور فلسطینیوں کے ساتھ عرب حکمرانوں کی ریاکاری بھی بدترین ہے۔
مغرب کی ’’جمہوری‘‘ ہیروئین کی حاکمیت میں یہ ظلم ڈھائے جارہے ہیں۔ ایک پوری اقلیت کا صفایا کرنے کی درندگی جاری ہے۔
یہ انتفادۂ کشمیر کانفرنس کشمیر کی جدوجہد آزادی کو یہ پیغام دے رہی تھی کہ مہنگی تعلیم، غربت اور بیروزگاری سے بدحال نوجوانوں کو پورے برصغیر میں اس نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔