دنیا

’’سرمایہ کاری‘‘ کا عارضہ

’’سرمایہ کاری‘‘ کا عارضہ

| تحریر: لال خان | پاکستان کی سیاسی اشرافیہ، اس کے دانشور اور معیشت دان ’’سرمایہ کاری‘‘ کو معاشی ترقی کا جادوئی نسخہ بنا کر پیش کرتے ہیں۔سامراج کے حکم پر نافذ کی جانے والے دوسری نیو لبرل پالیسیوں کی طرح ’’فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ‘‘ کا مفروضہ ناقص ہی نہیں بلکہ […]

مارچ 28, 2015 ×
اسرائیل کے انتخابات

اسرائیل کے انتخابات

| تحریر: لال خان | 17 مارچ کو ہونے والے عام انتخابات میں تمام تر تجزیوں اور پیشین گوئیوں کے برعکس نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی ’’لکھود‘‘پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے۔ کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کی کل 120 میں سے اس کی نشستیں 19 سے بڑھ کر 30 […]

مارچ 25, 2015 ×
دبئی: رنگینیوں میں سلگتی بغاوت

دبئی: رنگینیوں میں سلگتی بغاوت

| تحریر: لال خان | بیرون ملک کام کرنے والے محنت کشوں کی رقوم پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر اور معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان محنت کشوں کی بڑی تعداد مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں میں انتہائی تلخ حالات میں اپنی محنت بیچنے پر مجبور ہے۔ […]

مارچ 21, 2015 ×
چینی معجزے کی ناکامی

چینی معجزے کی ناکامی

| تحریر: لال خان | اکیسویں صدی کے پہلے ڈیڑھ عشرے میں عالمی طور پر جتنا چین کی ’’ترقی‘‘ اور ’’معجزے‘‘ کے بارے میں شور کیا جا رہا ہے اتنا اس سے قبل شاید ہی کسی اور ملک کے بارے میں کیا گیا ہو۔ چین کی معاشی ترقی، شرحِ نمو، […]

مارچ 19, 2015 ×
یونان: سوشلزم یا بربادی!

یونان: سوشلزم یا بربادی!

| تحریر: لال خان | گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی سیاست، صحافت اور دانش پر دایاں بازو حاوی ہے۔ سوویت یونین کے انہدام اور چین میں سرمایہ داری کی بحالی نے ماضی کے ماسکو نواز اور بیجنگ نواز بائیں بازو کو عرصہ قبل نظریاتی طور پر دیوالیہ کر دیا […]

مارچ 14, 2015 ×
’’چین کدھر؟‘‘ کتاب کا تعارف

’’چین کدھر؟‘‘ کتاب کا تعارف

طبقاتی جدوجہد پبلیکیشنز کی جانب سے شائع کی جانے والی ڈاکٹر لال خان کی نئی کتاب ’’چین کدھر؟‘‘ کا تعارف قارئین کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔

مارچ 9, 2015 ×
روس: سرمایہ داری کی بربادیاں

روس: سرمایہ داری کی بربادیاں

| تحریر: لال خان | پچھلی صدی کے اواخر میں دیوار برلن اور بعد ازاں سوویت یونین کا انہدام ایک عالمی سیاسی زلزلے کے مترادف تھا جس نے سامراج، سرمایہ داروں،حکمران طبقے کی صحافت اور دانش کو سوشلزم، کمیونزم اور مارکسزم کے خلاف نظریاتی حملوں کے وسیع جواز فراہم کیے۔سوویت […]

مارچ 6, 2015 ×
داخلی بحران کے سفارتی مضمرات

داخلی بحران کے سفارتی مضمرات

| تحریر: لال خان | جنگ کی سائنس میں مہارت رکھنے والے انیسویں صدی کے مشہور جرمن جرنیل کارل وون کلازوٹزکی تحریریں آج بھی دنیا کی بڑی ملٹری اکیڈمیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔کلازوٹز نے کہا تھا کہ ’’جنگیں جیتنے کے لئے دوخصوصیات ناگزیر ہوتی ہیں۔ پہلی خصوصیت وہ دانش اور […]

مارچ 4, 2015 ×
عالمی تناظر 2015ء

عالمی تناظر 2015ء

طبقاتی جدوجہد کی 34ویں کانگریس 14 اور 15 مارچ کو منعقد ہو رہی ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے کانگریس 2015ء کی تیسری مجوزہ دستاویز ’’عالمی معیشت کا تناظر 2015ء‘‘ شائع کر رہے ہیں۔

مارچ 1, 2015 ×
’’جمہوریت‘‘ کی آڑ میں کشمیر سے غداری

’’جمہوریت‘‘ کی آڑ میں کشمیر سے غداری

| تحریر: لال خان | مسلح جدوجہد، مذہبی تعصب اور قوم پرستی کے راستے اگر کشمیر کے عوام کو آزادی کی منزل سے ہمکنار نہیں کر پائے ہیں تو ’’جمہوریت‘‘ کا نمک ان زخموں کو اور بھی اذیت ناک بنا رہا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) کا بھارتیہ جنتا پارٹی […]

فروری 27, 2015 ×
علاج کا بیوپار!

علاج کا بیوپار!

| تحریر: لال خان | ایک تواتر و تسلسل کے ساتھ، اٹھتے بیٹھتے ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مقابلہ بازی کی غیر یقینی صورتحال اور منافع کی ہوس ہی سائنس و ٹیکنالوجی کو نئی ایجادات اور دریافتوں کی طرف لے جانے کا باعث بنتے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ […]

فروری 25, 2015 ×
’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘کا مغالطہ

’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘کا مغالطہ

| تحریر: لال خان | ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر پھر سے ثابت کرتی ہے کہ یہ عفریت حکمران طبقے، اس کی ریاست اور نظام کے قابو سے باہر ہے۔ دہشت گری کے خلاف ’’قومی اتحاد‘‘ کے بلند و بانگ دعوے اور ’’ایک پیج پر یکجا‘‘ ہونے کی […]

فروری 22, 2015 ×
’’عام آدمی‘‘ سے فریب

’’عام آدمی‘‘ سے فریب

| تحریر: لال خان | ریاستی سرمایہ داری کے معیشت دان اور بھارت میں امریکہ کے سفیر جان کینتھ گلبرائٹ نے کہا تھا کہ ’’ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا منظم انتشار ہے۔‘‘ دنیا بھر کی برح اس ملک کے حکمران طبقات اور عوام کی روایتی قیادت نے بھی پارلیمانی […]

فروری 16, 2015 ×
مودی حکومت کا بجٹ اور خدشات

مودی حکومت کا بجٹ اور خدشات

فروری 10, 2015 ×
زمیں نے کیا اسی کارن اناج اُگلا تھا؟

زمیں نے کیا اسی کارن اناج اُگلا تھا؟

[تحریر: لال خان] زخموں کے ماروں سے زیادہ زخموں کی تکلیف کون جانتا ہے؟ غربت اور ذلت، محرومی اورمحتاجی، بیگانگی اور تضحیک کو برداشت کرلینے سے زخموں کے درد اور روح کے روگ ختم نہیں ہوتے۔ برداشت یقیناًاذیت ناک ہوتی ہے لیکن محرومی اور بے بسی کے اعشارئیے بھی کسی […]

فروری 9, 2015 ×