’’دہشت گردی کے خاتمے‘‘کا مغالطہ

| تحریر: لال خان |
ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر پھر سے ثابت کرتی ہے کہ یہ عفریت حکمران طبقے، اس کی ریاست اور نظام کے قابو سے باہر ہے۔ دہشت گری کے خلاف ’’قومی اتحاد‘‘ کے بلند و بانگ دعوے اور ’’ایک پیج پر یکجا‘‘ ہونے کی منافقت خود ہی بے نقاب ہوگئی ہے۔ ملٹری آپریشن اور ریاستی طاقت کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے کی باتیں یوٹوپیا ہیں۔ ان تلخ حقائق کو وقت خود ہی عیاں کر رہا ہے۔ صورت حال کی نزاکت کے پیش نظر حکومتی عہدیداوں کے مضحکہ خیز بیانات کوالمیہ ہی کہا جاسکتا ہے۔
بلوچستان میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے فرمایا ہے کہ ’’دہشت گردی میں ملوث مذہبی تنظیموں اور مدارس کی نشاندہی ہونی چاہئے …کسی مسلح تنظیم کو استثنیٰ حاصل نہیں… آڑے ہاتھوں نمٹنے کی ضرورت ہے…حکومت کے ساتھ امن مذاکرات نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ کسی کو پرتشدد کاروائیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی… حکومت ’نیشنل ایکشن پلان‘ کے نفاذ اور شدت پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہے۔‘‘
کتنی سطحی باتیں ہیں! اس زبوں حال ٹیپ ریکارڈر میں ایک ہی کیسٹ سال ہا سال سے چل رہی ہے۔ یہ الفاظ ریاست اور سیاست کی بے بسی کا اعتراف ہیں۔ اس طرح کی تقاریر لکھنے والے مشیران شاید بولنے والوں کو یہ نہیں بتاتے کہ یہ دہشت گردی اسی کالے دھن سے فنانس ہورہی ہے جو اس ملک کی ریاست اور سیاست کو چلا رہا ہے اور جس کے بغیر یہاں کی نیم مردہ سرمایہ دارانہ معیشت ایک دن میں ہی دھڑام ہو جائے گی۔ پارلیمنٹ میں بل پر بل پاس ہورہے ہیں، ایک کے بعد دوسرا آرڈیننس جاری ہورہا ہے، فوجی عدالتیں بن رہی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ملاؤں کے لاؤڈ سپیکر بڑے شہروں کی کلیدی شاہراہوں پر دن رات نفرت کی آگ اگل رہے ہیں۔ ہسپتالوں کی حدود اور طلبہ ہاسٹلوں کے عین سامنے ’’کالعدم‘‘ تنظیمیں کیمپ لگا رہی ہیں، جہادی ترانے چلا رہی ہیں، نفرت آمیز موار تقسیم کیا جارہا ہے اور سر عام ’’ریکروٹمنٹ‘‘ کا عمل جاری ہے۔ مدرسے نہ صرف متحرک ہیں بلکہ پھل پھول رہے ہیں۔ دارلحکومت کے دل میں قائم لال مسجد کا مولوی سینکڑوں طلبا و طالبات میں ’’جذبہ جہاد‘‘ بیدار کر رہا ہے اور ’’سکیورٹی فورسز‘‘ اسے ہاتھ لگانے سے بھی گریزاں ہیں۔
آج کے عہد میں دہشت گردی ایک دیوہیکل مالیاتی سرگرمی میں تبدیل ہوچکی ہے جس میں شرح منافع ہوشربا حد تک بلند اور ’’سرمایہ کاری‘‘ پر ریٹرن کی مدت انتہائی مختصر ہے۔ شام اور عراق میں داعش ہو، نائجیریا کی ’’بوکو حرام‘‘ یا پھر افغانستان اور پاکستان میں’’طالبان‘‘ کے درجنوں دھڑے، ان مسلح جنونی گروہوں کی قوت محرکہ مذہبی جذبات اور ’’جنت کے حصول‘‘ سے زیادہ کالا دھن ہے۔ یہ ’’نان سٹیٹ ایکٹر‘‘ نہیں ہیں بلکہ سامراج اور علاقائی ریاستوں کے ’’اسٹریٹجک مفادات‘‘ اس خونی کھلواڑ کی حرکیات کا تعین کرتے ہیں۔ عالمی یا علاقائی سامراجی قوتیں دہائیوں سے ایسے گروہوں کو بطور ’’پراکسی‘‘ استعمال کر رہی ہیں اور یہ سلسلہ خفیہ یا اعلانیہ طور پر آج بھی جاری ہے جس کی ایک کڑی افغانستان میں سرگرم طالبان کے کچھ دھڑوں کی حالیہ چین یاترا ہے۔ نام نہاد ’’دہشت کے خلاف جنگ‘‘ کے عالمی ٹھیکیدار امریکہ کے تعلقات کئی دہشت گرد گروہوں کے ساتھ متضاد اور پیچیدہ نوعیت کے ہیں۔ مفادات کہیں ٹکراتے ہیں تو کہیں مشترک بھی ہوجاتے ہیں۔ آج کل وائٹ ہاؤس کے ترجمان طالبان کے لئے ’’دہشت گرد‘‘ کی بجائے ’’مسلح بغاوت‘‘ کا لفظ استعمال کر رہے ہیں!

امریکی اخبار The Independent کا 6 دسمبر 1993 کا شمارہ جس میں اوسامہ بن لادن کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

القاعدہ کی تخلیق اور ابھار کی تاریخ واضح کرتی ہے کہ امریکی سامراج کی خارجہ پالیسی کسی دور رس منصوبہ بندی کی بجائے فوری اور وقتی مفادات کی تابع ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لئے 1979ء سے 1989ء کے درمیان سی آئی اے نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں اسلامی بنیاد پرست گروہوں کو پروان چڑھایا تھا۔ اسی عرصے میں امیر اور بااثر گھرانے سے تعلق رکھنے والے ایک عرب نوجوان کے روابط امریکیوں کے ساتھ استوار ہوئے جو بہت جلد افغانستان میں سی آئی اے کے بااعتماد ترین ایجنٹوں میں شمار ہونے لگا۔ اس نوجوان کا نام اوسامہ بن لادن تھا۔ امریکی سی آئی اے کی تربیت اور اسلحے سے ہی القاعدہ پروان چڑھی اور دنیا بھر میں اپنا نیٹ ورک قائم کیا۔
عراق پر امریکی جارحیت اور بعد ازاں شام کی پراکسی وار سے جنم لینے والی ’’داعش‘‘ (اسلامک اسٹیٹ) کے اقدامات اس قدر انسانیت سوز ہیں کہ القاعدہ والے بھی اسے ’’شدت پسند‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ داعش درحقیقت القاعدہ کے عراقی وِنگ سے الگ ہونے والا ایک دھڑا ہے جس کی قیادت کے سی آئی اے سے نہ صرف تعلقات رہے ہیں بلکہ امریکی سپیشل فورسز 2012ء میں داعش کے جنگجوؤں کو اردن میں باقاعدہ تربیت دیتی رہی ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے خاص ’’نیٹو اتحادی‘‘ ترکی کی حکومت کو تسلیم کرنا پڑا ہے کہ اس کی خفیہ ایجنسی شام میں القاعدہ کو اسلحہ فراہم کرتی رہی ہے۔ ترکی میں طیب اردگان کی ’’معتدل‘‘ اسلامی حکومت کی جانب سے شام میں جنونی دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
حکمران طبقے کا پرانا طریقہ واردات ہے کہ کسی ایک مہرے کا شوشا کھڑا کر کے اصل کھیل درپردہ جاری رکھا جاتا ہے۔ داعش درحقیقت کشت و خون کے اس کاروبار کا صرف ایک فریق ہے۔ یہ سب کچھ اچانک شروع نہیں ہوا ہے بلکہ 2004ء سے مسلسل ارتقا پزیر ہو کر حالات یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس سے بھی پیچھے جائیں تو بات جولائی 1979ء میں شروع ہونے والی سی آئی اے کی تاریخ کے سب سے بڑے خفیہ آپریشن ’’سائیکلون‘‘ تک جاتی ہیں۔
شام اور عراق کی طرح لیبیا بھی مکمل انارکی سے دوچار ہے۔ برطانوی جریدے ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق قطر، لیبیا میں داعش سمیت کئی دوسرے اسلامی شدت پسند گروہوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ اخبار کے مطابق ’’خلیجی ریاست کے خطے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے ساتھ تعلقات پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی ہے۔ مغربی اہلکاروں کے مطابق قطر سے اسلحہ جہازوں کے ذریعے تریپولی سے 160 کلومیٹر دور مسراتا کے شہر میں پہنچایا جارہا ہے…مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور برطانیہ کے ’سب سے قریبی دوست‘ ہونے کے دعووں کے باوجود قطر ان کے مفادات کے برعکس متحرک ہے۔‘‘
امریکہ نے عراق پر جارحیت کے دوران کرائے کی جنگجوؤں کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا تھا۔ بلیک واٹر جیسی نجی جنگی کمپنیوں کے اہلکاروں کی عراق میں تعداد امریکہ کی سرکاری فوج سے زیادہ تھی۔ یہ نجی کمپنیاں پیسے کے عوض اپنی خدمات امریکی سامراج کو بیچ رہی تھیں۔ امریکی فوجوں کے انخلا اور پیسے کی بندش کے بعد یہ نجی جنگی کمپنیاں بھی واپس چلی گئیں جس کے بعد کرائے کے جہادی گروہ تیزی سے پھیلنے لگے۔ ان کی آمدن کی ذرائع میں ’’بیرونی امداد‘‘ کے علاوہ زیر قبضہ علاقوں سے بھتہ اور ’’ٹیکس‘‘ کی وصولی اور عالمی بلیک مارکیٹ میں تیل کی فروخت وغیرہ شامل ہیں۔ یہ گروہ انٹرنیٹ پر ’’مارکیٹنگ‘‘ اور نیٹ ورکنگ میں ماہر ہیں، اسلامی بنیاد پرستی کے زیادہ ’’پرکشش‘‘ اور ماڈرن ورژن کے ذریعے افرادی قوت میں اضافہ کرتے ہیں اور علاقائی انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برطانیہ سے بڑے رقبے قابض ہوچکے ہیں جس کی آبادی 80 لاکھ سے زیادہ ہے۔
امریکی سامراج کی یہ ’’میراث‘‘ مسلم آبادی والے خطوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ 1990ء کی دہائی میں امریکی سپیشل فورسز اور انسداد منشیات کے ادارے کولمبیا میں ڈرگ لارڈ پیبلو ایسکوبار کو قتل کروانے کے لئے مسلح گروہ ’’لاس پیپس‘‘ کی سرپرستی کرتے رہے ہیں۔ لاس پیپس کے دونوں بڑے رہنما پیبلو ایسکوبار کے سابق ملازم تھے۔ 1997ء میں لاس پیپس میں سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ’’یونائیٹڈ ڈیفنس فورسز آف کولمبیا‘‘ نامی دہشت گرد گروہ برآمد ہوا جس نے اگلے کئی سال تک بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی۔ 1960ء کی دہائی میں ہی سی آئی اے ایسے دہشت گردوں کے ذریعے کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو کو قتل کروانے کی کوشش کرتی رہی۔ کیوبا کے ’’بے آف پگز‘‘ پر حملہ ایسے ہی عناصر کے ذریعے کروایا گیا تھا۔ کیوبا میں انتشار پھیلانے کے لئے بم دھماکے اور دوسری تخریبی سرگرمیاں بھی کروائی جاتی رہیں۔ 1976ء میں کیوبن ایئرلائن میں دھماکہ کرنے والا لوئس پوسادا کیرلس، سی آئی اے کا ایجنٹ تھا جسے بعد ازاں امریکہ میں پناہ بھی دی گئی۔ اس دھماکے میں 73 بے گناہ انسان ہلاک ہوئے تھے۔
پوری دنیا میں بالواسطہ یا براہ راست دہشت گردی کا بازار گرم کرنے والے اس امریکی سامراج کی ’’دہشت کے خلاف جنگ‘‘ اور اس میں پاکستان اور سعودی عرب جیسی ’’اتحادی‘‘ ریاستوں کی شمولیت کافی بھونڈا مذاق ہے۔ یہ ’’دہشت کے خلاف‘‘ نہیں بلکہ ’’دہشت کی جنگ‘‘ ہے۔ دہشت گردی اور مذہبی فسطائیت درحقیقت گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کا نچڑا ہوا عرق ہے۔ یہ نظام جس نہج پر پہنچ چکا ہے وہاں عدم استحکام کم ہونے کی بجائے مزید بڑھے گا۔ تعصب، وحشت اور جنون کے اس تعفن سے نجات سرمایہ داری کی لاش کو دفن کردینے سے ہی ممکن ہے۔

متعلقہ:

کتنی دہشت گردیوں سے لڑنا ہوگا؟

فرانس میں ’’شام‘‘

’’یورپی جہادی‘‘

سی آئی اے کی اذیت گاہوں کی داستان

کہاں سے آتی ہے یہ کمک؟