داخلی بحران کے سفارتی مضمرات

| تحریر: لال خان |
جنگ کی سائنس میں مہارت رکھنے والے انیسویں صدی کے مشہور جرمن جرنیل کارل وون کلازوٹزکی تحریریں آج بھی دنیا کی بڑی ملٹری اکیڈمیوں میں پڑھائی جاتی ہیں۔کلازوٹز نے کہا تھا کہ ’’جنگیں جیتنے کے لئے دوخصوصیات ناگزیر ہوتی ہیں۔ پہلی خصوصیت وہ دانش اور وجاہت ہے جو تاریک وقت میں بھی روشنی کی کچھ لَو اپنے اندر بچائے رکھتی ہے۔ دوسری خصوصیت وہ جرات ہے جو اس لَو کے پیچھے چلنے کے لئے درکار ہوتی ہے، چاہے وہ جس طرف بھی لے جائے…جنگ دوسرے ذرائع سے سیاست کا ہی تسلسل ہوتی ہے۔‘‘

Iranian Foreign Minister Mohammad Javad Zarif (2nd L) shakes hands with US Secretary of State John Kerry
جان کیری اور ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف جنیوا میں

جنگیں جہاں داخلی انتشار سے فرار کا ذریعہ ہوتی ہیں وہاں حکمران طبقات کی خارجہ اور سفارتی پالیسیاں بھی ممالک کو داخلی خلفشار میں مبتلا کر سکتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کے بحران کی شدت کا اظہار اس نظام کے ’’عالمی پولیس مین‘‘ اور تاریخ کی سب سے بڑی معاشی و عسکری طاقت ، یعنی امریکی سامراج کی بحران زدہ سفارتکاری اور لڑکھڑاتی ہوئی خارجہ پالیسی میں پوری طرح عیاں ہے۔
مشرق وسطیٰ پر گزشتہ نصف صدی سے امریکی سامراج کا تسلط قائم رہا ہے لیکن آج اس خطے میں اس کی سفارتکاری سب سے زیادہ ذلت کا شکار نظر آتی ہے۔ 3200 سال پرانی خیالی داستان پر اسرائیل کا قیام 1948ء میں سامراج کی گماشتہ ریاست کے طور پر ’’اقوام متحدہ‘‘ کے ذریعے عمل میں لایا گیا تھا۔المیہ ہے کہ یہ قرار دار جوزف سٹالن نے سامراج کے ساتھ معاہدے کے تحت اقوام متحدہ میں پیش کی تھی۔یہ وہ عہد ہے جب دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ ایک عالمی قوت کے طور پر ابھر رہا تھا۔ مشرق وسطیٰ کو مسلسل عدم استحکام، تناؤ اور قومی و مذہبی تعصبات کا شکار رکھنے کے لئے اسرائیل کو جنم دیا گیا تھا تاکہ تیل کی دولت اور سٹریٹجک جغرافیائی پوزیشن سامراج کے کنٹرول میں رہیں۔
امریکہ کی سب سے زیادہ فوجی امداد حاصل کرنے والا ملک اسرائیل رہا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر صیہونی ریاست کی بربریت کا دفاع امریکی سامراج نے کیا ہے۔ ڈیموکریٹس ہو ں یا پھر ریپبلکن پارٹی، امریکی کی ہر حکومت اسرائیل کے وسیع جنگی جرائم کا جواز پیش کرنے میں پیش پیش رہی ہے۔ یورپ کی سامراجی قوتیں بھی ڈھٹائی سے امریکی ریاست کی پیروی کرتی رہی ہیں۔ تاہم عراق اور افغانستان میں پے درپے شکستوں اور 2008ء کے مالیاتی کریش (جس سے بحالی نہیں ہورہی ہے) کے بعد سے ریاستی دیوالیہ پن کے خطرے کے پیش نظر فوجی اخراجات کم کرنے کے لئے، پچھلے کچھ سالوں سے امریکی سامراج نے مشرق وسطیٰ میں ’’مصالحت‘‘ کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر ایران کے ساتھ جنیوا میں ہونے والا عبوری معاہدہ اس پالیسی میں کلیدی کردار کا حامل ہے۔ لیکن سفارتکاری کی اس پالیسی شفٹ پر اسرائیلی حکمران سخت برہم نظر آتے ہیں اور اپنے آقا کو تضحیک اور تذلیل کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
US President Obama listens as Israeli PM Netanyahu delivers a statement in Washingtonاسرائیل کے مذہبی جنونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لئے امریکہ کا تین روزہ دورہ شروع کر دیا ہے۔یہ کسی اسرائیلی سربراہ مملکت کا پہلا امریکی دورہ ہے جس میں اس کو امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت نہیں دی ہے۔ یعنی ان تین دنوں میں اسرائیلی وزیر اعظم کی امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات ہی نہیں ہوگی۔ دورے کے آغاز پر نیتن یاہو نے انتہائی دولت مند اور طاقتور ’’امریکن اسرائیلی پبلک افیئرز کمیٹی‘‘ کی تقریب میں 1500 افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتہ اسرائیل کے وجود کے لئے سنگین خطرہ ہے…امریکی رہنما اگر اپنے ملک کی سکیورٹی بارے پریشان ہیں تو ہمیں اپنے ملک کی بقا کا خطرہ لاحق ہے۔‘‘
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جنیوا سے ایک انتہائی نحیف سا جوابی بیان دیا ہے کہ ’’اسرائیل کی سکیورٹی ہمارے ذہنوں پر سب سے زیادہ غالب ہے لیکن ہمیں دوسرے ممالک اور اپنی سکیورٹی بھی عزیز ہے۔اس دورے کا سب سے اہم حصہ نیتن یاہو کا امریکی کانگریس سے بدھ کو خطاب ہے جس میں امریکی پارلیمان کے نمائندوں پر زور دے گا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا راستہ روکا جائے۔31مارچ کو ہونے والے اس ممکنہ معاہدے میں ایسے نکات بھی شامل ہیں جسے اسرائیلی وزیراعظم توڑ مروڑ کر صدر اوباما کے خلاف دلیل کے طور پر کانگریس کے خطاب میں پیش کرے گا۔
دونوں ایوانوں میں اکثریت رکھنے والی دائیں بازو کی ریپبلکن پارٹی نے سپیکر جان بوہنر پر زور دے کر نیتن یاہو کے اس خطاب کا اہتمام کیا ہے۔ اس بارے میں امریکی صدر اور وائٹ ہاؤس کو اطلاع دینا بھی مناسب نہیں سمجھا گیا۔ جان کیری کے بقول یہ واقعہ ’’عجیب‘‘ اور ’’انتہائی غیر معمولی‘‘ ہے۔17 مارچ کو ہونے والے اسرائیل کے انتخابات سے قبل اس دورے کو نیتن یاہو انتخابی سٹنٹ کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے۔ ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے وہ کوئی خطرناک قدم بھی اٹھا سکتا ہے۔ سینئر برطانوی صحافی رابرٹ صحافی نے یہاں تک لکھا ہے کہ ’’ایران پر بمباری بھی کروا سکتا ہے۔ نیتن یاہو نے اوباما کو ’جھوٹا اور دھوکہ باز‘ تک کہا ہے…اسرائیل کا وزیر اعظم بخوبی جانتا ہے کہ امریکہ میں وہ کوئی بھی حرکت اسی عتماد کے ساتھ کرسکتا ہے جس طرح غزہ میں بچوں کا قتل عام کرتا ہے…بڑے دکھ کی بات ہے کہ نیتن یاہو نیویارک میں پیدا نہیں ہوا ورنہ آج امریکہ کا صدر ہوتا۔…اسرائیل اور امریکی حکومت کے درمیان فرق دکھانے کی جعل سازی اور ناٹک بند کرو۔‘‘ (انڈی پینڈنٹ، 2 مارچ 2015ء)
درست ہے کہ اوباما کو نیتن یاہو پر کافی غصہ ہے لیکن یہ ’’ڈیموکریٹ‘‘ بھی ریپبلکن پارٹی سے کم اسرائیل کے طرفدار نہیں ہیں۔غزہ کے قتل عام پر ڈیموکریٹ پارٹی کی ممکنہ امیدوار برائے صدر ہیلری کلنٹن کی ڈھٹائی ہی ڈیموکریٹک پارٹی کا اصل کردار بے نقاب کرنے کو کافی ہے۔سابق خاتون اول اور ممکنہ صدر نے فرمایا تھا کہ ’’غزہ کی جنگ میں خوامخواہ الزام تراشی کی جارہی ہے۔ جنگ کی ’’دھند‘‘ میں یہ جاننا مشکل ہوتا ہے کہ کیا ہورہا ہے۔عورتوں اور بچوں کے قتل عام سے ایک اذیت پیدا ہوتی ہے اور سچائی تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘
iran us deal cartoonمشرق وسطیٰ میں امریکی سامراج کی پالیسی شفٹ سے اسرائیل کی طرح امریکہ کے ایک اور روایتی حلیف سعودی عرب کے حکمران بھی ناخوش نظر آتے ہیں۔اس سے قبل شام پر حملہ نہ کرنے پر بھی سعودی بادشاہت خاصی نالاں تھی۔9/11 کو’’انسائیڈ جاب‘‘ قراردینے والے ہندوستان کے تبلیغی ذاکر نائیک کو ریاض بلا کر ’’کنگ فیصل انٹرنیشنل پرائز‘‘دینے کا فیصلہ امریکہ سعودی تعلقات کی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جنگوں اور پراکسی جنگوں کی یہ پالیسیاں سامراجی ریاستوں کے داخلی بحران کی پیداوار ہیں۔ سامراجی ریاستیں اپنے محنت کش عوام کی بھی سگی نہیں ہیں۔ آخر کو انہی ممالک کے غریب نوجوان ان جنگوں کا ایندھن بنتے ہیں جن کے اخراجات محنت کش طبقے پر لاد دئیے جاتے ہیں اور ہوشربا منافعے حکمران کماتے ہیں۔ انہی سامراجی ریاستوں کی کوکھ میں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی ملتی ہے۔ سیاہ فام صدر کے اقتدار میں سیاہ فام غریب شہریوں کا پولیس کے ہاتھوں قتل امریکہ کا معمول ہے۔ امریکی محنت کشوں کا معیار زندگی مسلسل روبہ زوال ہے۔ دولت آبادی کی اکثریت کی جیبوں سے نکل کر چند ہاتھوں میں سمٹ رہی ہے ۔بل گیٹس کی دولت میں پچھلے سال 16ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔اسرائیل کے حالات بھی اتنے اچھے ہوتے تو 2011ء کے مظاہروں میں لاکھوں محنت کش اور نوجوان سڑکوں پر نہ امڈتے۔اسرائیل کی دس فیصد سے زائد آبادی نے معاشی و سماجی نا انصافیوں کے خلاف ان مظاہروں میں حصہ لیا تھا ۔پاکستان کی آبادی کے تناسب سے یہ تعداد دو کروڑ بنتی ہے۔اگر اتنی بڑی تعداد میں عوام پاکستان کی سڑکوں پر ہوں تو پیدا ہونے والی انقلابی صورتحال کے مضمرات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔یہ نااہل اور کرپٹ حکمران تو شاید چند گھنٹوں میں ہی ملک سے فرار ہوجائیں گے۔اس داخلی بغاوت کو مسلسل زائل کرنے کے لئے ہی یہ سامراجی قوتیں ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ جیسے نظریات کا پرچار کر کے بیرونی دشمن تراشتی ہیں۔
جنگ، خونریزی اور انتشار سے پاک مشرق وسطیٰ کا خوشحال مستقبل، سرمایہ داری اور سامراج کے خلاف اس خطے کے عوام کی انقلابی تحریک سے مشروط ہے۔ اسرائیل کی وحشی صیہونی ریاست کو اکھاڑ پھینکنے میں اسرائیل کے محنت کش عوام کا کردار کلیدی ہے۔ 2011ء میں امریکی نوجوانوں کی ’’آکو پائی وال سٹریٹ‘‘ تحریک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے دنیاکے ایک ہزار شہروں میں بیک وقت مظاہرے ہوئے تھے۔ سامراج کی کوکھ سے ایسی تحریکیں پھر ابھریں گی۔ مارکسی تناظر اور لائحہ عمل سے لیس ہو کر ہی یہ بغاوتیں بربریت اور وحشت کے اس گھن چکر سے دنیا کو نکال سکتی ہیں۔

متعلقہ:

مجبوری کے معاہدے