سعودی عرب: معاشی بحران اور غیر ملکی محنت کش
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں 35 چھوٹی بڑی کمپنیوں میں محنت کش تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور خوراک و علاج کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں 35 چھوٹی بڑی کمپنیوں میں محنت کش تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور خوراک و علاج کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
’عرب انقلاب‘ سے پیشتر پورے خطے میں 12 سے 15 فیصد بے روزگاری تھی۔ اس انقلاب کی پسپائی کے بعد اب یہ شرح 25 سے 30 فیصد ہوچکی ہے۔
اربوں کھربوں کی دولت کے انبار لگانے والے بھی پاکستانی ہیں اور سعودی عرب کے سڑکوں پر پڑے کئی دن کے بھوکے محنت کش بھی پاکستانی ہی کہلاتے ہیں۔
کشمیر کے محنت کشوں اور نوجوانوں کی جدوجہد آخری تجزیے میں طبقاتی جدوجہد ہے۔
سرمایہ داری کی سیاست، سفارت اور معیشت میں مسئلہ فلسطین کا کوئی حل موجود ہی نہیں ہے۔
سرمایہ داری کے بحران کے پیش نظر اب حکمران عوامی فلاحی بہبود کے تمام شعبوں سے فنڈز کاٹنے کے اقدامات کر رہے ہیں اور انہیں سلسلہ وار انداز میں سالانہ بنیادوں پر کم کرنے کے منصوبوں پر گامزن ہیں۔
اپنے ’’سلطانی‘‘ عزائم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے طیب اردگان کی حکومت اب مشرقی وسطیٰ میں بربادی پھیلانے میں دوسری کئی سامراجی طاقتوں کی طرح پوری طرح ملوث ہے۔
اردگان کی کیفیت درحقیقت ضیاالحق کے آخری دنوں سے مماثل ہے جب وہ مادی حقائق سے یکسر کٹ کے افغانستان اور وسط ایشیا میں بھی اپنی ’خلافت‘ کے خواب دیکھنے لگا تھا اور اپنے امریکی آقاؤں کو آنکھیں دکھاتا تھا۔
عام لوگوں نے‘ جن میں بلاشبہ اردگان کے طرز حاکمیت کو پسند کرنے والوں کی نسبت اس کے مخالفین کی غالب اکثریت تھی، نے دلیرانہ کردار ادا کرتے ہوئے تاریخ رقم کردی۔
سرمایہ دارانہ سماجوں کی جدید شکل میں پولیس کا قیام انیسویں صدی کی دوسری چوتھائی کے دوران محنت کشوں کی ہڑتالوں، شہروں میں ہنگاموں اورغلاموں کی بغاوتوں کو کچلنے کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔
وانی کی ہلاکت درحقیقت ایک ایسا واقعہ تھا جس نے قومی، معاشی اور سماجی جبر کے خلاف عام کشمیریوں کی مجتمع شدہ نفرت کے بارود کو آگ لگا دینے والی چنگاری کا کام کیا۔
اس جنگ کے دوران لاکھوں بے گناہوں کو لقمہ اجل بھی بنا دیا گیا۔ لہو کے دریا بہائے گئے۔ اسلحے سے لے کر تیل تک کی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور امریکی جرنیلوں نے سینکڑوں ارب ڈالر کمائے۔
پچھلی کئی دہائیوں کے دوران بنیاد پرستی کی نئی اشکال اور مظاہر نے اسی نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔
ان انتخابات نے سپین کے معاشرے میں موجود طبقاتی تفریق کو جہاں ایک طرف عیاں کیا ہے تو دوسری طرف برسوں سے رائج دو پارٹی نظام کو بھی چیلنج کیا ہے۔
ریفرنڈم کے نتائج نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپی یونین اور اس سے باہر بھی سیاسی اور معاشی طور پر بھونچال برپا کر دیا ہے۔