’سوکھا‘
انسانی زندگی کی تباہ کاریوں کے خلاف مدافعت نہ صرف ٹیکنالوجی کے منافع خوری کے اصراف کی وجہ سے کمزور ہورہی ہے بلکہ اس سے آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہ سیارہ زندگانی کے لیے زیادہ ناگفتہ بہ ہورہا ہے۔
انسانی زندگی کی تباہ کاریوں کے خلاف مدافعت نہ صرف ٹیکنالوجی کے منافع خوری کے اصراف کی وجہ سے کمزور ہورہی ہے بلکہ اس سے آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہ سیارہ زندگانی کے لیے زیادہ ناگفتہ بہ ہورہا ہے۔
کاسترو کا شمار دوسری عالمی جنگ کے بعد کے سب سے مقبول سوشلسٹ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔
پاکستان اور ہندوستان کے رجعتی میڈیا کی جانب سے تحریک پر ایک مذہبی اور متعصبانہ پردہ ڈالنے کی وارداتوں کے باوجود یہ تحریک آج بھی کسی مذہبی تعصب کی بجائے طبقاتی بنیادوں پر استوار ہے۔
ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے پر یورپ اور امریکہ کے درمیان تجارتی اور سیاسی تضادات شدت اختیار کرسکتے ہیں۔
کالے دھن کے آقاؤں کی کرپشن اور چوری نوٹوں کی مرہون منت ہوتی ہے نہ ہی اس طرح سے یہ ختم ہو سکتی ہے۔
ہر سال تقریباً 60 بلین رینڈ (جنوبی افریقہ کی کرنسی) کرپشن اور حکمرانوں کی عیاشیوں میں خرچ ہوتے ہیں جبکہ محض 45 بلین رینڈ سے تمام افراد کو مفت تعلیم مہیا کی جا سکتی ہے۔
اس سفر میں ایک لاکھ سے زائد جانیں ضائع ہوئیں۔ لاکھوں زخمی ہوئے اور اس سے کہیں زیادہ قید و بند ہوئے لیکن سفر ہے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہا!
جہاں ایک طرف سعودی بادشاہوں کی عیاشیوں میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے وہاں سعودی عرب میں غربت میں بھی تیزی آرہی ہے۔
ایک طرف ٹرمپ کی جیت سے پھیلنے والی مایوسی اور دوسری طرف اس سے وابستہ امیدیں، دونوں کے ٹوٹنے کے لئے بہت طویل عرصہ درکار نہیں ہو گا۔
کوئی جیتے یا ہارے، امریکی انتخابات میں جیت وال سٹریٹ کی ہی ہوتی ہے۔
امریکی سامراج کے خطے میں تیزی سے زوال اور کمزوری کی بدولت مشرقی وسطیٰ میں ایک خلا پیدا ہوا ہے جسے مختلف علاقائی قوتیں اپنے سامراجی عزائم کے تحت پرکرنے کی کوششوں میں ہیں۔
کوربن کے خلاف چلنے والی مہم دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عرصے میں اپنی مثال نہیں رکھتی۔
اگر موصل سے داعش کا صفایا بھی کردیا جاتا ہے تو نہ داعش ختم ہوگی اور نہ ہی یہ بربریت، جس میں بہت سے مذہبی گروہ خون کی ہولی کھیل رہے ہیں اور ریاستیں ان کی پشت پناہی کررہی ہیں۔
اس نظام کے رکھوالوں کی خواہشات کے برعکس ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ نہیں ہو پایا اور آج عالمی سرمایہ داری ایک ایسے گہرے اور طویل معاشی بحران میں دھنس چکی ہے جس کا موازنہ 1929ء سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
آج اسلامی بنیاد پرستی کی بربریت ہو یا سامراجی قوتوں کی وحشت، افغانستان اور دنیا بھر کے عوام کے لئے وہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔