جیرمی کوربن کی دوسری فتح اور لیبر پارٹی کا مستقبل

| تحریر: جان پکرڈ، ترجمہ: حسن جان |

لیبر پارٹی کی قیادت کے انتخابات میں جیرمی کوربن کی دوسری فتح لیبر پارٹی کی دائیں بازو کے لیے ایک بڑی شکست ہے جنہوں نے انتہائی بھونڈے انداز میں پہلی بار منتخب ہونے کے بعد کوربن کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ جیسا کہ روزنامہ ٹیلی گراف کے نامہ نگار ٹم اسٹینلے نے ذکر کیا ہے کہ دائیں بازو کی اس سازش اور اس کے نتیجے میں ہونے والی قیادت کی دوڑ سے کوربن پہلے کی نسبت مزید طاقتور ہوگیا ہے۔
jeremy corbinمیڈیا میں مہینوں تک جھوٹ اور بہتان کی نہ ختم ہونے والی مہم کے باوجود جیرمی کوربن کو 62 فیصد ووٹوں سے بے نظیر کامیابی حاصل ہوئی۔ کوربن کے خلاف چلنے والی مہم دوسری جنگ عظیم کے بعد کے عرصے میں اپنی مثال نہیں رکھتی۔ ذرائع ابلاغ نے کوربن اور اس کے حامیوں کو بدنام کرنے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ انہوں نے ہٹلر کے وزیر پروپیگنڈا گیوبلز کے مشہور مقولے پر عمل کیا کہ جھوٹ چاہے جتنا بڑا کیوں نہ ہو، اگر اسے باربار دہرایا جائے تو لوگ اس پر یقین کرنا شروع کردیں گے۔ مومینٹم (ایک گراس روٹ تنظیم جسے کوربن کی پہلی فتح کے بعد اس کی حمایت کے لیے بنایا گیا تھا) دائیں بازو کی جانب سے تنقید کا خاص ہدف ہے۔ دائیں بازو کو اس بات سے بہت تکلیف ہورہی ہے کہ پارٹی کی ممبرشپ اب لاکھوں میں پہنچ چکی ہے جو اپنی آرزؤوں اور تمناؤں کی شنوائی چاہتے ہیں۔
سرمایہ دارانہ ذرائع ابلاغ کے بعض تبصرہ نگاروں نے خود میڈیا کی واضح جانب داری کو محسوس کیا اور ان کی رائے تھی کہ عدم توازن اتنا واضح نظر آتا ہے کہ اس کے منفی نتائج نکلتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں کوربن کے حمایتی عام کارکن یہ یقین رکھتے ہیں کہ میڈیا جانب دار ہی ہوگا اور اگر بورژوا اخبار میں کوربن کے بارے میں کوئی مضمون آئے گا تو وہ جھوٹ ہی ہوگا۔ بہرحال اب لاکھوں نوجوانوں کے لیے خبروں اور معلومات کا بڑا ذریعہ ٹی وی یا پریس نہیں بلکہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ہے جو ٹی وی اور پریس کے مالکان کی نسبت زیادہ شفاف اور متوازن ہوتا ہے۔
قیادت کے انتخابات میں اس انداز میں دھاندلی کی گئی کہ جانتے بوجھتے کوربن کو نقصان پہنچے۔ ’رجسٹرڈ حمایتی‘ کے لیے ووٹ دینے کی فیس کو 2015ء کی نسبت 800 فیصد بڑھا کر 3 پاؤنڈ سے 25 پاؤنڈ کیا گیا اور آن لائن رجسٹریشن کا وقت کم کرکے صرف48 گھنٹے کر دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود 180,000 افراد نے ووٹ دینے کے لیے رجسٹریشن کی۔ مقامی سطح پر لیبر پارٹی کی تمام میٹنگز کوبظاہر ڈرانے دھمکانے اور تذلیل کو روکنے کے لیے معطل کردیا گیا لیکن درحقیقت مقصد یہ تھا کہ تندوتیز مباحثوں اور والیسی میں اینجلا ایگل جیسے رجعتی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف عام لیبر کارکنان کے عدم اعتماد کے ووٹ کا راستہ روکا جاسکے۔ کئی حلقوں میں لیبر پارٹی کی برانچوں کو معطل کردیا گیا ہے اور جھوٹی بنیادوں پر سالانہ میٹنگز کو کالعدم قرار دیا گیا۔ بہت سے حلقوں میں دائیں بازو نے قیادت نامزد کرنے کی میٹنگز کو روکا لیکن جہاں کہیں بھی یہ میٹنگز ہوئیں وہاں بھاری اکثریت نے کوربن کو نامزد کیا۔ ان اقدامات کے علاوہ پارٹی ممبران کی ایک بڑی تعداد کو انتہائی کھوکھلی وجوہات کی بنا پر خارج یا معطل کردیا گیا۔ اگر معطلی اور اخراج کے بغیر لیبر پارٹی کے تمام ارکان کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جاتی تو کوربن کی اکثریت 62 فیصد سے بڑھ کر 65 یا 70 فیصد تک ہوسکتی تھی۔
لیبر پارٹی کے دائیں بازو کی دندان شکن شکست سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یورپ اور امریکہ کی طرح برطانیہ کی سیاست بھی اٹل صورت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ محنت کش طبقے کے شعور میں ایک تاریخی تبدیلی کا عمل جاری ہے۔ جیسا کہ کارل مارکس کہتا ہے، ’’انقلاب دوبارہ منظر عام پر آچکا ہے‘‘۔
ٹیلی گراف میں جیمز کرکپ نے اپنے ایک مضمون میں سیاست میں ہونے والی تیز تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مضمون کا عنوان سب کچھ بتا دیتا ہے، ’’جیرمی کوربن سے مت ڈرو۔ جیرمی کوربن کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں سے ڈرو۔ پچھلے بارہ مہینوں میں امریکہ، یورپ اور برطانیہ کی سیاست سے ایک ہی سبق حاصل کیا جاسکتا ہے کہ مروجہ منظر نامہ پہلے کی نسبت انتہائی غیر مستحکم ہے۔ مغرب کے صنعتی ممالک میں سیاست، معیشت اور سماج کے (بظاہر) آہنی قوانین حیران کن حد تک لچکدار ثابت ہوئے ہیں۔ برطانیہ یورپی یونین کو نہیں چھوڑ سکتا تھا لیکن اب یہ چھوڑ رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدارت کے لیے کھڑا نہیں ہوسکتا تھا لیکن اب ایسا ہوگیا ہے۔ چیزیں تبدیل ہورہی ہیں اور یہ عمل جاری ہے۔‘‘
درحقیقت کرکپ کے ’’سیاست کے آہنی قوانین‘‘ محض غلط فہمیاں تھیں، سرمایہ دارانہ استحکام اور ترقی کی غلط فہمیاں۔ برطانوی سرمایہ داری کے لیے طویل مدتی تناظر انتہائی ہولناک ہے۔ ایک نئے عالمی معاشی زوال، جس کے قوی امکانات ہیں، کی صورت میں برطانوی معیشت دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ متاثر ہوگی۔
فروری میں قومی ادارہ شماریات کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانوی معیشت اپنے حریفوں کی نسبت تباہ کن زوال کی کیفیت میں ہے۔ 2014ء کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ دکھایا گیا ہے کہ G-7 ممالک کی نسبت برطانیہ میں فی گھنٹہ پیداواراوسطاً 18 فیصد گری ہے۔ 2008ء کے معاشی زوال کے بعد یہ سب سے بڑی خلیج ہے۔ برطانیہ کی پیداوار امریکہ کی نسبت 30 فیصد، جرمنی کی نسبت 36 فیصد، سپین کی نسبت 5 فیصد، ہالینڈ کی نسبت 45 فیصد اور آئرلینڈ کی نسبت 30 فیصد نیچے ہے۔ معاشی تناظر معیار زندگی میں مسلسل گراوٹ اور حالات کار میں مسلسل تنزلی کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ یہ ٹوریز (کنزرویٹو پارٹی) کی معاشی پالیسیوں کی حقیقی تصویر ہے۔
اس بات میں رتی بھر شک نہیں ہے کہ لیبر پارٹی کے وہ 172 ممبران پارلیمنٹ جنہوں نے کوربن کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ دیا تھا وہ آگے بھی ہر موقع پر اس کے خلاف سازشیں جاری رکھیں گے۔ بورژوا میڈیا میں اپنے حمایتیوں کی طرح لیبر پارٹی کے دائیں بازو کے ممبران پارلیمنٹ لیبر پارٹی کی شکست سے زیادہ اس کی فتح کے نتیجے میں بننے والی بائیں بازو کی حکومت سے زیادہ خوف زدہ ہیں اور کوربن کے خلاف ان کی یہ جنگ جاری رہے گی۔ دوسری طرف لیبر پارٹی کے عام ممبران پچھلی کئی دہائیوں کی نسبت آج زیادہ ریڈیکلائز ہوگئے ہیں اور وہ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ چند مفاد پرست ممبران پارلیمنٹ اگلے الیکشن میں لیبر پارٹی کی جیت کے راستے میں رکاوٹ بنیں۔
پھر لیبر پارٹی کے بارے میں تناظر کیا بنتا ہے؟ پہلے سے ہی لیبر ممبرانِ پارلیمنٹ اور عام کارکنوں کے درمیان ایک وسیع خلیج موجود ہے۔ اس لیے کسی خاص مرحلے پر پارٹی میں ایک رسمی پھوٹ (Split) ناگزیر ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیسے، کب اور کن حالات میں یہ وقوع پذیر ہوگی۔ مارکسزم محنت کش طبقے کے مجتمع شدہ تاریخی تجربات کا نام ہے اور ہمیں ماضی کے تجربات کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس حد تک مستقبل کے لیے ہمارے لیے رہنما ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے 1931ء کی قومی حکومت سے منسلک واقعات ہمارے لیے اہم اسباق لیے ہوئے ہیں کیونکہ آج بھی اسی طرح کے حالات جنم لے رہے ہیں جب 1930ء کی دہائی میں حکومت بنی تھی۔
اہم سوال وہ خلیج ہے جو ممبران پارلیمنٹ اور پارٹی کے عام کارکنان کے درمیان روز افزوں طور پر بڑھ رہی ہے۔ دائیں بازو کا بلیرائٹ نیو لبرل پارلیمانی دھڑا اپنی جگہ موجود ہے اگرچہ عام کارکنوں میں ان کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ لیکن جیساکہ کوربن کے الیکشن سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی طبقے کے وسیع دباؤ میں آچکی ہے۔ اب اس دباؤ کو ایک ریڈیکل رہنما اور مومینٹم کی شکل میں اظہار کا ایک ذریعہ مل گیا ہے۔ یہ دباؤ آنے والے دنوں میں مزید بڑھے گا۔
جو ممبران پارلیمنٹ پارٹی میں رہیں گے 2020ء میں لیبر پارٹی کی فتح کے بعد ان پر پارٹی سے نکل جانے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔ لیبر پارٹی کی فتح کے فوراً بعد ایک بحرانی حکومت جنم لے گی۔ بائیں بازو کی لیبر حکومت پر سرمایہ داروں اور ریاست کی جانب سے شدید معاشی اور سیاسی دباؤ (سائریزا سے بھی زیادہ) پڑے گا۔ برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ نچلی سطح تک چلی جائے گی۔ سٹاک مارکیٹ گر جائے گی۔ سرمایہ کاری بند ہوجائے گی۔ وزارت خزانہ کے افسران، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور میڈیا کی جذباتی شہ سرخیوں کے دباؤ میں آکر، وزرا کو اخراجات میں کٹوتیاں (آسٹیریٹی) کرنے پر اکسائیں گے۔ وہ جن کٹوتیوں کا مطالبہ کریں گے وہ یونان کو بھی پیچھے چھوڑ دیں گی۔ نیشنل ہیلتھ سروس، سرکاری تعلیم، سرکاری ٹرانسپورٹ اور تمام سرکاری ادارے ان کٹوتیوں کی زد میں ہوں گے۔ سرمایہ دار طبقات کوربن اور مکڈونل کی قیادت میں یونان میں سائریزا کی طرح کی لیبر حکومت بنانے کی کوشش کریں گے اور انہیں عالمی مالیاتی ’حقائق‘ کی سامنے سرنگوں کرنے کی کوشش کریں گے۔ غرضیکہ حکمران طبقات لیبر حکومت کو رسوا اور ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
ایسی صورت حال میں لیبر پارٹی میں موجود مارکسسٹ اور ٹریڈ یونینز لیبر حکومت کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو قومی تحویل میں لیں، تمام بڑی صنعتوں جن پر معیشت منحصر ہے کو ضبط کریں اور اپنی تمام تر پالیسیاں محنت کش طبقے کے مفادات کے مطابق تشکیل دیں۔ ہم گھروں کی تعمیر کے ایک ہنگامی پروگرام کے لیے لڑیں گے جسے نیشنلائز کیا گیا بینکنگ سیکٹر فنانس کرے گا۔ ہم نیشنل ہیلتھ سروس کے دفاع اور اس کو نیشنلائز کرنے کی بات کریں گے۔ ہم فی گھنٹہ 10 پاؤنڈ اجرت اور فوری طور پر ٹریڈ یونین اور مزدوروں کے حقوق کی بحالی کی بات کریں گے۔ عبوری پروگرام کو استعمال کرتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ محنت کشوں کے روزمرہ کے فوری مطالبات کو سماج کی سوشلسٹ تبدیلی سے جوڑا جائے جو ان مطالبات کو عملی جامہ پہنانے کا واحد راستہ ہے۔ معاشی اور سیاسی بحران کی اس کیفیت میں لیبر پارٹی کے عام کارکن اور ٹریڈ یونینز بے نظیر انداز میں ریڈکلائز ہوں گے۔ انقلابی مارکسزم کے نظریات کے لئے لیبر پارٹی میں زرخیز زمین میسر آئے گی۔